سیاست کا ایک تاریخی باب بند، 5 بار رکن قومی اسمبلی رہنے والے محمود بشیر وِرک انتقال کر گئے

جمعہ 11 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سینیئر رہنما  سابق وفاقی وزیر قانون اور گوجرانوالہ سے 5 مرتبہ رکن قومی اسمبلی منتخب ہونے والے 89 سالہ محمود بشیر ورک قضائے الٰہی سے انتقال کر گئے۔

محمود بشیر کے قریبی خاندان کے مطابق تجربہ کار پارلیمنٹیریئن گزشتہ کئی روز سے علالت کے باعث لاہور کے ایک نجی اسپتال میں زیرِ علاج تھے، جہاں وہ روبہ صحت نہ ہو سکے اور خالق حقیقی سے جا ملے۔ مرحوم کی نمازِ جنازہ کل ان کے آبائی گاؤں ‘کمو ورکاں’ میں ادا کی جائے گی۔

چوہدری محمود بشیر ورک کا شمار گوجرانوالہ کے ان چند سینیئر اور قد آور سیاستدانوں میں ہوتا تھا جنہوں نے کئی دہائیوں تک ملکی سیاست میں متحرک کردار ادا کیا۔

یہ بھی پڑھیں:سیاست ہمارے خون میں شامل ہے، مشاہداللہ (مرحوم) کی صاحبزادی لامعہ مشاہد نے سیاست میں آنے کا اشارہ دیدیا

وہ پیشے کے اعتبار سے وکیل تھے اور مسلم لیگ (ن) کے پلیٹ فارم سے مسلسل عوامی نمائندگی کرتے رہے۔ انہوں نے جنوری 2018 سے مئی 2018 تک پاکستان کے وفاقی وزیر برائے قانون و انصاف کے اہم منصب پر بھی فرائض سرانجام دیے۔

ان کے پارلیمانی سفر کا آغاز 1997 میں ہوا جب وہ پہلی بار حلقہ این اے۔77 سے ایم این اے بنے۔ اس کے بعد انہوں نے 2008 اور 2013 کے عام انتخابات میں حلقہ این اے۔97 سے مسلسل بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کی۔

سال 2018 میں جب نئی حلقہ بندیاں ہوئیں، تب بھی ان کی مقبولیت میں کوئی کمی نہ آئی اور وہ اپنے آبائی علاقوں پر مشتمل حلقہ این اے۔80 سے چوتھی بار فاتح قرار پائے۔

اپنی سیاسی زندگی کے حالیہ معرکے یعنی 2024 کے عام انتخابات میں بھی محمود بشیر ورک نے حلقہ این اے۔77 سے مسلم لیگ (ن) کے امیدوار کی حیثیت سے حصہ لیا۔

اس الیکشن میں عوام نے ایک بار پھر ان پر بھرپور اعتماد کیا اور وہ 1 لاکھ 6 ہزار سے زیادہ ووٹ لے کر 5 ویں مرتبہ پارلیمان کا حصہ بنے۔

خاندانی پس منظر اور 1947 کی تاریخی رواداری

مرحوم کا تعلق گوجرانوالہ کے مضافات کے ایک انتہائی معزز زمیندار گھرانے سے تھا۔

ان کا آبائی گاؤں تحصیل کامونکی کے قریب ‘قلعہ کمو ورکاں’ ہے جہاں ان کی خاندانی زمینیں اور حویلی آج بھی موجود ہے، تاہم ان کا خاندان گوجرانوالہ شہر کے ڈی سی روڈ پر بھی مقیم رہا ہے۔

مزید پڑھیں:سینیٹر شیری رحمان کی اکلوتی بیٹی ماروی ملک انتقال کر گئیں

محمود بشیر ورک کو انسانیت دوستی اور رواداری ورثے میں ملی تھی۔ ان کے والد چوہدری بشیر احمد ورک علاقے کی ایک معروف اور مقبول سماجی شخصیت تھے۔

تاریخ میں ان کا نام اس لیے بھی انتہائی احترام سے لیا جاتا ہے کہ قیام پاکستان کے وقت 1947 کے خونی فسادات میں انہوں نے انسانیت کی اعلیٰ ترین مثال قائم کی تھی۔

چوہدری بشیر احمد نے اپنی جان خطرے میں ڈال کر گاؤں اور گردونواح کے سکھ اور ہندو خاندانوں (جن میں کیپٹن اجیت سنگھ بوٹالیا کا خاندان بھی شامل تھا) کو اپنے گھر میں پناہ دی۔

انہوں نے قرآن پاک پر حلف اٹھا کر اقلیتوں کی جانیں بچائیں اور ان کی حفاظت یقینی بنائی۔ ان کی اس عظیم نیکی کے معترف سکھ برادری کے لوگ بعد ازاں ان کی قبر پر حاضری دینے اور شکریہ ادا کرنے کے لیے خاص طور پر آئے تھے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp