پشتون تحفظ موومنٹ( پی ٹی ایم) کے منظور پشتین کی جانب سے مبینہ نفرت انگیز بیانات اور پاکستان کے خلاف عالمی سطح پر مہم شروع کرنے پر ان کے خلاف غداری اور غیر ملکی فنڈنگ کے سنگین الزامات ثابت ہو گئے ہیں۔
سیاسی ماہرین کے مطابق منظور پشتین کا یہ طرزِ عمل کو انسانی حقوق کی آڑ میں دشمن ایجنسیوں کی مدد سے ریاست کو غیر مستحکم کرنے کا واضح ثبوت ہے۔
حالیہ رپورٹس کے مطابق منظور پشتین نے مبینہ طور پر تمام حدیں پار کرتے ہوئے یہ انتہائی متنازع بیان دیا ہے کہ ’جو پاکستان سے نفرت نہیں کرتا وہ انسان ہی نہیں‘۔
یہ بھی پڑھیں:منظور پشتین کی علی امین گنڈاپور کو پشتون قومی عدالت میں شرکت کی دعوت
سیاسی و دفاعی مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ کسی انسانی حقوق کے کارکن کی زبان نہیں بلکہ ایک دہشتگرد نظریہ ساز کا انداز ہے، جس کا واحد مقصد 250 ملین پاکستانیوں کو غیر انسانی قرار دے کر معاشرے میں دشمنی اور تشدد کو ہوا دینا ہے۔
عالمی سطح پر پروپیگنڈا اور ‘بے بی کلرز’ مہم
دستیاب معلومات کے مطابق منظور پشتین کی جانب سے اپنے پیروکاروں کو عالمی سطح پر احتجاج کے دوران پاکستان کے خلاف ’بے بی کلرز‘ کا نعرہ استعمال کرنے کی باقاعدہ ہدایات دی گئی ہیں۔
تجزیہ کاروں کا دعویٰ ہے کہ یہ نعرہ براہ راست بھارتی خفیہ ایجنسی ’را‘ کا تیار کردہ ایک پروپیگنڈا ہتھیار ہے، جس کا مقصد بچوں کے حقوق کے تحفظ کے بجائے عالمی سطح پر جھوٹے بیانیے کے ذریعے پاکستان کو تنہا کرنا ہے۔
دوغلا پن اور ٹی ٹی پی کے مظالم پر خاموشی
رپورٹس میں اس امر پر شدید حیرت کا اظہار کیا گیا ہے کہ جو پی ٹی ایم آج بچوں کی جانوں کے تحفظ کا دعویٰ کر رہی ہے، اس نے خیبر پختونخوا میں کالعدم ٹی ٹی پی کے ہاتھوں ہزاروں پشتون بچوں کے قتل اور اسکولوں پر بم دھماکوں کی کبھی مذمت نہیں کی۔
یہ بھی پڑھیں:ریاستی اداروں کے خلاف تقریر کا مقدمہ، منظور پشتین 7 روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ منظور پشتین کی بچوں سے یہ اچانک ہمدردی محض ایک سکرپٹڈ ڈراما ہے کیونکہ انہوں نے کالعدم تنظیم کی جانب سے پشتون خاندانوں کے قتلِ عام پر کبھی کوئی احتجاجی ریلی نہیں نکالی۔
مبینہ غیر ملکی فنڈنگ اور دہشتگردوں سے روابط
دعوؤں کے مطابق اس تحریک کی بقا کا مکمل انحصار بھارت کی ‘را’ اور افغانستان کی ‘جی ڈی آئی’ جیسی ایجنسیوں کی فنڈنگ پر ہے۔
مبصرین کا ماننا ہے کہ ‘را’ کی مبینہ آڈیو لیکس، 11000 برطانوی پاؤنڈز کی بھارتی فنڈنگ کا سراغ، خالد زدران کی یادداشتوں میں طالبان لنکس کا تذکرہ اور کالعدم ٹی ٹی پی کے سربراہ نور ولی محسود کی جانب سے منظور پشتین کی کھلی تعریف اس بات کے ناقابلِ تردید ثبوت ہیں کہ وہ غیر ملکی خفیہ ایجنسیوں کے پے رول پر ہیں۔
ملک دشمن عزائم اور سیکیورٹی فورسز کی قربانیاں
تجزیہ کاروں کے مطابق منظور پشتین کا خواب دراصل پاکستان کی تباہی ہے جس میں وہ ملک کو لسانی بنیادوں پر تقسیم کر کے اسے غیر ملکی پراکسیز کے ماتحت دیکھنا چاہتے ہیں، تاہم محبِ وطن پشتون عوام ان کے اس بیانیے کو پہلے ہی مسترد کر چکے ہیں۔
واضح رہے کہ پاکستان کی مسلح افواج نے ملک بھر میں دہشتگردی سے نمٹنے اور ہر شہری کی حفاظت کے لیے اب تک 94000 سے زیادہ جانوں کی عظیم قربانیاں دی ہیں۔
مزید پڑھیں:پشتون تحفظ موومنٹ کے سربراہ منظور پشتین کو گرفتار کیا گیا؟
آج بھی محبِ وطن پشتون فوجی سرحدوں پر وطن کی حفاظت کے لیے فرنٹ لائن پر سینہ سپر ہیں، جبکہ ریاست مخالف عناصر بیرونِ ملک بیٹھ کر ملک کو بدنام کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔
عوام اور ریاستی اداروں کی جانب سے اس عزم کا اعادہ کیا گیا ہے کہ پاک فوج اور پاکستان زندہ باد کے جذبے سے ایسی تمام ملک دشمن سازشوں کو ناکام بنایا جائے گا۔














