امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی شمالی آئرلینڈ کے جمہوریہ آئرلینڈ کے ساتھ اتحاد کی خواہش پر برطانیہ کے ساتھ اتحاد کے حامی شمالی آئرش یونینسٹ رہنماؤں نے سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔
ٹرمپ نے یہ بیان ہفتے کے روز ڈبلن میں آئرلینڈ کے وزیراعظم مائیکل مارٹن سے ملاقات کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے دیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ وہ کسی کے لیے مشکلات پیدا نہیں کرنا چاہتے، لیکن وہ شمالی آئرلینڈ کو آئرلینڈ کے ساتھ متحد دیکھنا پسند کریں گے۔
یہ بھی پڑھیں: آئرلینڈ: آسمان پر چمکتی پراسرار روشنی کا راز کھل گیا
امریکی صدر کا کہنا تھا کہ یہ بالآخر ہو جائے گا اور ان کے خیال میں یہ ایک شاندار اقدام ہوگا، تاہم انہوں نے یہ بھی تسلیم کیا کہ اس معاملے پر برطانیہ کا موقف اہم ہوگا۔
ٹرمپ کے بیان سے چند ہفتے قبل برطانیہ کے نئے وزیراعظم اینڈی برنہم نے کہا تھا کہ شمالی آئرلینڈ کے برطانیہ سے علیحدہ ہونے اور آئرلینڈ کے ساتھ اتحاد کے لیے ریفرنڈم کا انعقاد ایجنڈے میں شامل نہیں۔
برطانوی وزیراعظم کے دفتر نے ہفتے کو بھی واضح کیا کہ حکومت کا اس معاملے پر موقف تبدیل نہیں ہوا۔
US President Donald Trump says he would ‘love to see’ a united Ireland pic.twitter.com/AKQUqCqnad
— PA Media (@PA) September 12, 2026
1998 کے گڈ فرائیڈے معاہدے کے تحت شمالی آئرلینڈ کے مستقبل کے بارے میں ریفرنڈم کا فیصلہ برطانوی حکومت کے اختیار میں ہے۔ اس معاہدے نے 3 دہائیوں پر محیط خونریز تنازع کو ختم کرنے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔
اس دوران آئرش قوم پرست شمالی آئرلینڈ کو جمہوریہ آئرلینڈ کے ساتھ متحد کرنے کے خواہاں تھے، جبکہ یونینسٹ اسے برطانیہ کا حصہ برقرار رکھنے کے حامی تھے۔
شمالی آئرلینڈ میں رائے عامہ کے جائزوں کے مطابق اب بھی اکثریت برطانیہ کے ساتھ رہنے کے حق میں ہے، تاہم برطانیہ کے یورپی یونین سے انخلا کے بعد آئرلینڈ کے ساتھ اتحاد کا معاملہ دوبارہ سیاسی بحث کا اہم موضوع بن گیا ہے۔

شمالی آئرلینڈ کی سب سے بڑی یونینسٹ جماعت ڈیموکریٹک یونینسٹ پارٹی کے رہنما گیون رابنسن نے ٹرمپ کے بیان کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ آئرلینڈ کے ساتھ اتحاد ’ہمارے ملک کی تباہی‘ کا باعث بنے گا۔
انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا کہ شمالی آئرلینڈ کے آئینی مستقبل کا فیصلہ شمالی آئرلینڈ کے عوام کریں گے، نہ کہ لندن، ڈبلن یا واشنگٹن میں ہونے والی گفتگو۔
دوسری جانب آئرلینڈ کے ساتھ اتحاد کے حامی حلقوں نے بھی ٹرمپ کے بیان کا محتاط انداز میں خیرمقدم کیا۔
President Trump knows better than most that elections matter. Northern Ireland’s constitutional future will be decided by the people of Northern Ireland, not by commentary in London, Dublin or Washington.
Northern Ireland is part of the United Kingdom because that is the settled… https://t.co/BozSTf93j9
— Gavin Robinson (@GRobinsonDUP) September 12, 2026
تاہم قوم پرست جماعت ایس ڈی ایل پی کے حامی ایمن ہانا نے کہا کہ انہیں لگتا ہے کہ ٹرمپ کا بیان محض سرخیوں میں آنے کی کوشش ہے اور انہیں یقین نہیں کہ امریکی صدر واقعی متحدہ آئرلینڈ کے قیام میں دلچسپی رکھتے ہیں۔
ماضی کے امریکی صدور، جن میں آئرش نژاد جو بائیڈن بھی شامل ہیں، شمالی آئرلینڈ کے اتحاد کے معاملے پر غیر جانب دار موقف اختیار کرتے رہے ہیں۔
دورہ آئرلینڈ کے دوران ٹرمپ نے آئرش صدر کیتھرین کونولی سے بھی ملاقات کی، کونولی نے بتایا کہ انہوں نے امریکی صدر کے سامنے آئرش عوام کا یہ مؤقف پیش کیا کہ جنگ اور نسل کشی کو معمول کے طور پر کبھی قبول نہیں کیا جا سکتا۔
مزید پڑھیں: آئرلینڈ میں ٹرک حادثہ، 15 ہزار زندہ کیکڑے سڑک اور کھیتوں میں پھیل گئے
ٹرمپ کے دورے کے دوران ڈبلن میں ہزاروں افراد نے جنگ مخالف مظاہرہ بھی کیا، جس میں بعض مظاہرین نے انہیں جنگ پسند قرار دینے والے پوسٹر اٹھا رکھے تھے اور ’فری، فری فلسطین‘ کے نعرے لگائے۔
دوسری جانب وزیراعظم مائیکل مارٹن نے ٹرمپ سے ملاقات میں دونوں ممالک کے مضبوط معاشی تعلقات پر زور دیا، آئرلینڈ میں امریکی ملکیت کی ٹیکنالوجی اور ادویہ ساز کمپنیوں میں تقریباً 10 فیصد افرادی قوت کام کرتی ہے۔













