سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو تیزی سے وائرل ہو رہی ہے جس میں ٹریفک وارڈن کی موجودگی میں ایک وکیل کو موٹر سائیکل سوار شہری پر تشدد کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔
سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیو میں وکیل موٹر سائیکل سوار پر ہاتھ اٹھاتے نظر آتا ہے، جس کے بعد واقعے پر مختلف حلقوں کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔
ٹویوٹا فورچونر سے اتر کر موٹر سائیکل پر سوار ایک عام شہری پر ہاتھ اٹھانا بہادری نہیں، بزدلی کی علامت ہے۔ سب سے افسوسناک بات یہ ہے کہ وہ شہری مدد کے لیے پولیس اہلکار کی طرف دیکھتا رہا، مگر پولیس اہلکار خاموش تماشائی بنا رہا۔ آج مجھے اپنے اور اپنے نظام پر افسوس ہے کہ ہم ایک عام… pic.twitter.com/ZIjFki5Zxv
— Saad Kaiser 🇵🇰 (@TheSaadKaiser) September 12, 2026
واقعے پر سب سے زیادہ تنقید موقع پر موجود ٹریفک وارڈن کے کردار پر کی جا رہی ہے۔ شہریوں کی جانب سے سوال اٹھایا گیا کہ مبینہ تشدد کے دوران وارڈن نے بروقت مداخلت کیوں نہیں کی۔ ویڈیو میں موٹر سائیکل سوار کو مدد کے لیے درخواست کرتے ہوئے بھی دیکھا جا سکتا ہے۔
واقعے پر سیاسی حلقوں کی جانب سے بھی ردعمل سامنے آیا۔ وفاقی وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ شیئر کرتے ہوئے واقعے پر سخت تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ فورچونر پر بیٹھنے سے لوگوں کی اوقات نہیں بدلتی اور وہ اپنی اصلیت دکھانے سے باز نہیں آتے۔
گھٹیا حرکت ھے۔ ٹویوٹا فارچونر پہ بیٹھ کر لوگوں کی اوقات نہیں بدلتی وہ اپنی ا صلیت دکھانے سے باز نہیں آتے ۔ https://t.co/v7dtcI0gRy
— Khawaja M. Asif (@KhawajaMAsif) September 14, 2026
ایک صارف نے کہا کہ پاس کھڑا باوردی پولیس والا تماشا دیکھتا رہا اس کو اتنی ہمت نہیں ہوئی کہ سرعام 1 شہری پر تشدد کرنے والے کو قانون کے حوالے کرے اس کی جگہ اگر غریب گاڑی والے کو مارتا تو یہ پولیس والا اسکو فورا گرفتار کر لیتا۔
سب سے گھٹیا حرکت یہ ہے کہ پاس کھڑا باوردی پولیس والا تماشا دیکھتا رہا اس کو اتنی ہمت نہیں ہوئی کہ سرعام 1 شہری پر تشدد کرنے والے کو قانون کے حوالے کرے اس کی جگہ اگر غریب گاڑی والے کو مارتا تو یہ پولیس والا اسکو فورا گرفتار کر لیتا
— SH (@resistanceAJK) September 14, 2026
حمزہ شہزاد نے سوال کیا کہ ملک کا وزیرِ دفاع بھی وہی سوال اٹھا رہا ہے جو ایک عام شہری کے ذہن میں ہے، تو پھر عوام اور ملک کے وزیرِ دفاع میں فرق ہی کیا رہ گیا؟ اتنے بڑے عہدے پر فائز ہونے کے باوجود اگر کسی مظلوم شہری کے ساتھ ہونے والی زیادتی کے خلاف مؤثر کارروائی نہیں کی جا سکتی توبہتر ہے استعفیٰ دے دیں۔
ملک کا وزیر دفاع بھی یہی سوال اٹھا رہا ہے جو عام ادمی اٹھا رہا ہے پھر عوام میں اور ملک کے وزیر دفاع میں کیا فرخ رہ گیا اتنے بڑے عہدے کے ساتھ بھی اگر بندہ کسی مظلوم کے ساتھ زیادتی کرنے والوں کے خلاف کاروائی نہیں کر سکتے تو اس سے بہتر ہے استعفی دے دے https://t.co/9upiThkyOx
— Hamzah Shehzad 🇵🇰🇸🇩🇮🇷 (@hamza_shahzad98) September 14, 2026
ایک سوشل میڈیا صارف کا وزیر دفاع خواجہ آصف کو مخاطب کرتے ہوءے کہنا تھا کہ سب کو معلوم ہے ہے گاڑی والے نے غلط حرکت کی لیکن آپ کو یہ بتانا نہیں بلکہ ایکشن لینا ہے۔
خواجہ صاحب سب کو پتہ ہے کہ یہ غلط حرکتوں ہے ہے۔ سر جی آپ نے یہ نہیں بتانا۔۔۔سر آپ سے تو ایکشن لینے کی توقع ہے۔
— Naseem Hayder (@naseem22501) September 14, 2026













