شنگھائی تعاون تنظیم کی علاقائی انسداد دہشتگردی کونسل کا 46واں اجلاس اسلام آباد میں پاکستان کی زیر صدارت منعقد ہوا، جس میں ایران پر نئے فوجی حملوں کی مذمت اور خطے میں کشیدگی کم کرنے، امن اور استحکام کے لیے کوششوں کی حمایت کا اعادہ کیا گیا۔
وزارت خارجہ کے ترجمان کے مطابق 14 ستمبر 2026 کو ہونے والے اجلاس میں بیلاروس، بھارت، ایران، قازقستان، چین، کرغزستان، پاکستان، روس، تاجکستان اور ازبکستان کے متعلقہ اداروں کے وفود نے شرکت کی، جبکہ شنگھائی تعاون تنظیم کی علاقائی انسداد دہشتگردی کونسل کی انتظامی کمیٹی کے نمائندے بھی اجلاس میں شریک ہوئے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کی عالمی سطح پر بڑی پذیرائی، شنگھائی تعاون تنظیم کی چیئرمین شپ سنبھال لی
اجلاس میں علاقائی سلامتی کو یقینی بنانے کے شعبے میں عالمی ایجنڈے پر موجودہ امور کا جائزہ لیا گیا۔
اجلاس کے دوران شنگھائی تعاون تنظیم کی علاقائی انسداد دہشتگردی کونسل نے ایران پر نئے فوجی حملوں کی مذمت کی اور اس معاملے پر تنظیم کی جانب سے پہلے سے ظاہر کیے گئے مؤقف کی توثیق کی۔
کونسل نے ایران کے سپریم لیڈر سید علی خامنہ ای کی المناک وفات پر ایرانی حکومت اور عوام سے تعزیت کی اور جاں بحق افراد کے اہل خانہ سے بھی ہمدردی کا اظہار کیا۔
کونسل نے ایران کی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کے مؤقف کا اعادہ کرتے ہوئے کشیدگی میں کمی، امن کے قیام اور خطے میں استحکام یقینی بنانے کی کوششوں کی حمایت کی۔
دہشتگردی، علیحدگی پسندی اور انتہاپسندی کے خلاف تعاون
اجلاس میں شنگھائی تعاون تنظیم کی علاقائی انسداد دہشتگردی کونسل کے پہلے سے منظور شدہ فیصلوں پر عمل درآمد کا جائزہ بھی لیا گیا۔
رکن ممالک کے متعلقہ اداروں کے درمیان دہشتگردی، علیحدگی پسندی اور انتہاپسندی کے خلاف تعاون اور رابطہ کاری سے متعلق اقدامات کا جائزہ لیا گیا، جبکہ ان جرائم کے خلاف کارروائی سے متعلق اہم امور پر انتظامی کمیٹی اور ماہر گروپوں کے کام کے منصوبوں کی منظوری دی گئی۔
رکن ممالک کے درمیان تعاون مزید مضبوط بنانے کے لیے معلوماتی ڈھانچے کے قیام اور اسے بہتر بنانے سے متعلق فیصلے بھی کیے گئے۔
یہ بھی پڑھیں: لہور لہور اے: لاہور شنگھائی تعاون تنظیم کا ثقافتی و سیاحتی دارالحکومت نامزد
اجلاس میں 2027 میں دہشتگردی کے خلاف مشترکہ معلوماتی کارروائی کرنے پر اتفاق کیا گیا۔ اس کے علاوہ دہشتگردی، علیحدگی پسندی اور انتہاپسندی کے مقاصد کے لیے انٹرنیٹ کے استعمال سے نمٹنے کے حوالے سے عملی سیمینار اور رکن ممالک کے متعلقہ اداروں کی مشترکہ انسداد دہشتگردی مشق کے انعقاد پر بھی اتفاق ہوا۔
مشترکہ مشق کا مقصد دہشتگردی، علیحدگی پسندی اور انتہاپسندی کے لیے انٹرنیٹ کے استعمال کی نشاندہی اور اسے روکنے کے طریقوں کو بہتر بنانا ہوگا۔
قازقستان میں بین الاقوامی کانفرنس
اجلاس میں دہشتگردی، علیحدگی پسندی اور انتہاپسندی کے خلاف تعاون کے شعبے میں شنگھائی تعاون تنظیم کے رکن ممالک اور تنظیم کے مبصر ملک کے درمیان تعاون سے متعلق 13ویں بین الاقوامی سائنسی و عملی کانفرنس کے انعقاد کا بھی فیصلہ کیا گیا، کانفرنس قازقستان میں منعقد ہوگی۔
اجلاس میں شنگھائی تعاون تنظیم کی علاقائی انسداد دہشتگردی کونسل کی انتظامی کمیٹی کی سرگرمیوں کے لیے انتظامی اور عملے سے متعلق امور کا بھی جائزہ لیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: شنگھائی تعاون تنظیم کے 25 سال مکمل، یادگاری ڈاک ٹکٹ کی رونمائی
کونسل کی سرگرمیوں کی ترقی اور رکن ممالک کے متعلقہ اداروں اور انتظامی کمیٹی کے حکام کے درمیان تعاون مضبوط بنانے میں ذاتی کردار ادا کرنے والے حکام کو اعزازات بھی دیے گئے۔
پاکستان سے روس کو صدارت منتقل
اجلاس کے اختتام پر شنگھائی تعاون تنظیم کی علاقائی انسداد دہشتگردی کونسل کی صدارت پاکستان سے روس کو منتقل کردی گئی۔
اجلاس میں اتفاق کیا گیا کہ کونسل کا اگلا اجلاس ازبکستان کے شہر تاشقند میں شنگھائی تعاون تنظیم کی علاقائی انسداد دہشتگردی کونسل کی انتظامی کمیٹی کے دفتر میں منعقد ہوگا۔
وزارت خارجہ کے مطابق اجلاس دوستانہ اور پیشہ ورانہ ماحول میں منعقد ہوا۔














