میر رضا کے والد میر حسین نے پولیس کی جانب سے جاری تحقیقات پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ واقعہ کے 34 دن گزر جانے کے باوجود پولیس کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکی جبکہ کیس کو مختلف رخ دینے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: میر رضا قتل کیس: جوڈیشل کمیشن میں تلخی، ایڈووکیٹ جنرل سندھ کے اعتراض پر کارروائی معطل
وی نیوز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے میر حسین نے کہا کہ وہ فی الوقت صرف جوڈیشل کمیشن سے امیدیں وابستہ کیے ہوئے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ کمیشن کے سامنے پیش آنے والے حقائق سے واضح ہو رہا ہے کہ کس طرح ثبوتوں کو ضائع کیا گیا، کرائم سین یونٹ اور پولیس افسران نے اپنے فرائض میں غفلت برتی اور فارنزک میں تاخیر کی گئی۔
مقتول کے والد نے واضح کیا کہ جے آئی ٹی کی تشکیل کے بغیر اس کیس کی شفاف اور مکمل تحقیقات ممکن نہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہمیں موجودہ پولیس انویسٹی گیشن پر بالکل بھروسہ نہیں ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم اس معاملے میں جے آئی ٹی کی شمولیت کے لیے اپیل میں جا رہے ہیں اور اسے ہر صورت شامل کروائیں گے۔
مزید پڑھیے: میر رضا کیس: ’پولیس کی بدنیتی کے باوجود سوسائیڈ کے نریٹیو کو امپاسیبل بنادیا، اب یہ مرڈر ہے‘
کیس کے حوالے سے مختلف قیاس آرائیوں، خودکشی کے خدشات یا مالی معاملات کے الزامات کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ تمام باتیں اصل معاملے کو بھٹکانے کی کوشش ہیں۔
خودکشی کے تاثر سے متعلق ان کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے اٹھنے والے سوالات پر جوڈیشل کمیشن اور جج صاحب پہلے ہی نوٹس لے چکے ہیں اور متعلقہ حکام سے رپورٹس طلب کی جا چکی ہیں۔
دوران سماعت ایک معاون شخص سے متعلق عدالت کی جانب سے آنے والے ریمارکس پر بات کرتے ہوئے میر حسین نے کہا کہ اس شخص نے مشکل وقت میں ان کی مدد کی تھی۔
مزید پڑھیں: سچائی کی قیمت اور بے حسی کا تازیانہ: میر رضا کیس میں گواہی دینے والا غریب ڈرائیور کیوں بے گھر ہو گیا
انہوں نے بتایا کہ وہ ایک غریب اور پریشان حال شخص ہے اگر حکام اس کی جانچ پڑتال کر کے مطمئن ہو چکے ہیں تو اسے کام کرنے دیا جائے اور اسے بھی انصاف فراہم کیا جائے۔













