بلوچستان کے علاقے پشین کے نواحی علاقے سرانان میں سی ٹی ڈی نے دہشتگردوں کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے فائرنگ کے تبادلے میں 6 مبینہ دہشتگردوں کو ہلاک کردیا جبکہ کارروائی کے دوران سی ٹی ڈی کے 4 اہلکار زخمی ہوگئے۔
یہ بھی پڑھیں: سیکیورٹی فورسز کی پشین میں کارروائی، خودکش حملہ آور سمیت 5 دہشتگرد ہلاک، آئی ایس پی آر
ترجمان سی ٹی ڈی کے مطابق ہلاک ہونے والے دہشتگردوں کے قبضے سے اسلحہ اور بارود بھی برآمد ہوا ہے، ہلاک مبینہ دہشتگرد گزشتہ کچھ عرصے سے فورسز اور عام شہریوں پر حملوں میں ملوث تھے۔ ہلاک دہشتگردوں کو کوئٹہ اسپتال منتقل کردیا گیا ہے تاہم ان کی شناخت تاحال عمل میں نہیں آسکی۔
دوسری جانب معاون برائے داخلہ بابر یوسفزئی نے پشین اور قلعہ عبداللہ میں دہشتگردوں کے خلاف کامیاب کارروائیوں کو قابلِ تحسین قرار دیا ہے۔
’دہشتگردوں اور ان کے سہولت کاروں کے لیے بلوچستان میں کوئی محفوظ پناہ گاہ نہیں‘
بابر یوسفزئی نے کہا کہ سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے دہشتگردوں کے خلاف مؤثر کارروائیاں کیں، جن میں 6 دہشتگرد ہلاک اور 5 گرفتار ہوئے۔
انہوں نے بلوچستان پولیس، سی ٹی ڈی اور دیگر اداروں کی پیشہ ورانہ صلاحیت کو قابلِ تعریف قرار دیتے ہوئے کہا کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں ہمارے بہادر جوان قوم کی حفاظت کے لیے قربانیاں دے رہے ہیں۔
معاون برائے داخلہ کا کہنا تھا کہ دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کے لیے بلوچستان میں کوئی محفوظ پناہ گاہ نہیں، فتنۃ الہندوستان اور فتنۃ الخوارج کے نیٹ ورک کے خلاف کارروائیاں مزید مؤثر بنائی جائیں گی۔
یہ بھی پڑھیں: پشین میں سی ٹی ڈی کی کارروائی، 4 مبینہ دہشتگرد ہلاک
انہوں نے کہا کہ انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز دہشتگردی کے خاتمے تک جاری رہیں گے، ریاست اور قانون نافذ کرنے والے ادارے دہشتگردی کے خلاف متحد اور پرعزم ہیں۔
بابر یوسفزئی نے کہا کہ بلوچستان کے امن کو نقصان پہنچانے والے عناصر کے عزائم کامیاب نہیں ہونے دیں گے، بلوچستان حکومت عوام کے جان و مال کے تحفظ کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لارہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ امن دشمن عناصر کو واضح پیغام ہے کہ بلوچستان میں ریاست کی رٹ ہر صورت قائم رکھی جائے گی۔














