موسمیاتی تبدیلی کے اثرات، لڑکیوں کی تعلیم کے لیے محفوظ اسکول کیوں اہم ہیں؟

پیر 14 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

سندھ کے دیہی علاقوں میں اسکول کی عمارت کی حالت صرف بچوں کے تعلیمی ماحول کا معاملہ نہیں بلکہ خصوصاً لڑکیوں کے لیے اسکول جانے اور تعلیم جاری رکھنے کے فیصلے پر بھی اثر انداز ہوسکتی ہے۔ خستہ حال چھت، غیر محفوظ چار دیواری، صاف پانی کی عدم دستیابی، نامناسب بیت الخلا اور شدید گرمی میں بجلی کی غیر یقینی فراہمی جیسے مسائل ایسے عوامل ہیں جو والدین کو اپنی بچیوں کو اسکول بھیجنے سے ہچکچانے پر مجبور کرسکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: تھرپارکر میں آسمانی بجلی اتنی زیادہ کیوں گرتی ہے؟

سندھ کے ضلع عمرکوٹ میں 5 سرکاری اسکولوں کی بحالی کا ایک منصوبہ اس بات کی مثال پیش کرتا ہے کہ موسمیاتی خطرات سے متاثرہ علاقوں میں اسکولوں کے بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنانا کس طرح تعلیم، صحت، صفائی اور طلبہ کے تحفظ سے جڑے مسائل کو ایک ساتھ حل کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔

یہ 5 اسکول ریسٹورنگ سوشل سروسز اینڈ کلائمیٹ ریزیلینس منصوبے کے تحت بحال کیے گئے جسے پاکستان پاورٹی ایلیویشن فنڈ کی معاونت حاصل تھی جبکہ مقامی سطح پر ایسوسی ایشن فار واٹر، اپلائیڈ ایجوکیشن اینڈ رینیوایبل انرجی (AWARE)نے اس پر عمل درآمد کیا۔

منصوبے کے تحت اسکولوں میں صرف کلاس رومز کی مرمت تک محدود رہنے کے بجائے چار دیواری، نکاسی آب و صفائی کی سہولیات، صاف پانی، شمسی توانائی اور شدید موسم سے تحفظ جیسے مختلف پہلوؤں پر کام کیا گیا۔

5 اسکولوں میں طالبات کی تعداد میں اضافہ

دستیاب اعداد و شمار کے مطابق پانچوں اسکولوں میں طالبات کی تعداد 208 سے بڑھ کر 266 ہوگئی، یعنی 58 لڑکیوں کا اضافہ ہوا۔

اسی عرصے میں تمام طلبہ کی مجموعی تعداد 514 سے بڑھ کر 612 ہوگئی۔

مزید پڑھیے: دلیپ پرمار: تھرپارکر کا بے مثل حسن دنیا تک پہنچانے والے سفیرِ سندھ

اعداد و شمار کے مطابق 5 اسکولوں میں مجموعی طور پر طلبہ کی تعداد میں 98 کا اضافہ ہوا، جس میں 58 طالبات شامل ہیں۔ یوں مجموعی اضافے میں لڑکیوں کا حصہ تقریباً تین پانچواں بنتا ہے۔

تاہم ان اعداد و شمار سے یہ نتیجہ اخذ نہیں کیا جاسکتا کہ داخلوں میں اضافے کی واحد وجہ اسکولوں کی بحالی تھی کیونکہ بچوں کی تعلیم کے فیصلوں پر معاشی، سماجی اور ثقافتی عوامل بھی اثر انداز ہوتے ہیں۔ البتہ اس تبدیلی سے یہ ضرور ظاہر ہوتا ہے کہ اسکول کا محفوظ اور بہتر ماحول طلبہ کی تعلیم جاری رکھنے کے لیے اہم ہوسکتا ہے۔

جی بی پی ایس عیسیٰ منگھیو میں طلبہ کی تعداد 92 سے بڑھ کر 145، جی بی پی ایس گل محمد پلی میں 92 سے 142، جی بی پی ایس خبر بھیل میں 45 سے 70 جبکہ جی بی پی ایس محمد صالح پلی میں 140 سے 170 ہوگئی۔

سال2022  کے سیلاب نے تعلیمی ڈھانچے کو بھی متاثر کیا

عمرکوٹ ان علاقوں میں شامل ہے جو سیلاب، شدید گرمی اور دیگر موسمیاتی خطرات سے بار بار متاثر ہوتے ہیں۔ سنہ 2022 کے تباہ کن مون سون سیلاب نے سندھ کے بڑے حصے میں بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچایا اور تعلیمی ادارے بھی اس سے محفوظ نہیں رہ سکے۔

مارچ 2026 میں سندھ حکومت کے سامنے پیش کیے گئے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق صوبے کے 19 ہزار 808 اسکول 2022 کے سیلاب سے متاثر ہوئے تھے۔ ان میں سے 5 ہزار 465 اسکولوں کی تعمیر نو یا بحالی کا کام شروع کیا جاچکا تھا جبکہ 14 ہزار 343 اسکول تاحال بحالی کے منتظر تھے۔

ان اعداد و شمار میں عمرکوٹ کے 238 متاثرہ اسکول بھی شامل تھے۔

مزید پڑھیں: انڈس ڈیلٹا: صفحہ ہستی سے مٹتے گاؤں، سمندر کی نذر ہوتی ایک بھرپور ثقافت، وجہ کیا ہے؟

یہ صورتحال اس بڑے مسئلے کی نشاندہی کرتی ہے کہ قدرتی آفات سے متاثرہ علاقوں میں اسکولوں کی فوری بحالی کے ساتھ ساتھ انہیں مستقبل کے موسمیاتی خطرات کے مقابلے کے قابل بنانا بھی ضروری ہے۔

عمرکوٹ میں اسکول کی خستہ حالی جان لیوا بھی ثابت ہوئی

اسکولوں کے غیر محفوظ انفرااسٹرکچر کا مسئلہ جون 2026 میں اس وقت مزید نمایاں ہوا جب عمرکوٹ کے گاموری علاقے میں ایک سرکاری پرائمری اسکول کی پرانی چار دیواری گرنے سے 3 طالبات جاں بحق ہوگئیں۔

واقعے کے بعد سندھ حکومت نے تحقیقات کا حکم دیا اور غیر محفوظ اسکولوں کے ڈھانچوں کے حوالے سے اقدامات کی ہدایت کی۔

ایسے واقعات سے ظاہر ہوتا ہے کہ موسمیاتی آفات اور طویل عرصے تک مرمت نہ ہونے والے بنیادی ڈھانچے کے اثرات محض تعلیمی معیار تک محدود نہیں رہتے بلکہ طلبہ کی جان و سلامتی بھی خطرے میں پڑ سکتی ہے۔

اسکولوں میں کیا تبدیلیاں کی گئیں؟

پانچوں اسکولوں میں بحالی کے دوران مختلف ضروریات کو مدنظر رکھا گیا۔ ان میں خستہ حال عمارتوں اور چھتوں کی مرمت، زیادہ محفوظ چار دیواری، سیلاب سے نسبتاً محفوظ صفائی اور بیت الخلا کی سہولیات، پینے کے صاف پانی اور بجلی کی فراہمی شامل تھی۔

پانچوں اسکولوں میں مجموعی طور پر 11.55 کلو واٹ شمسی توانائی کا نظام نصب کیا گیا، جس سے روشنی، پنکھوں اور پانی کے پمپ چلانے میں مدد ملتی ہے۔

اس کے علاوہ 14 بلند سطح پر تعمیر کیے گئے بیت الخلا فراہم کیے گئے تاکہ مستقبل میں سیلابی پانی سے ان سہولیات کو پہنچنے والے نقصان کا خطرہ کم کیا جاسکے۔

اسکولوں کے احاطوں میں تقریباً 1,500 مقامی درخت بھی لگائے گئے، جن کا مقصد وقت کے ساتھ سایہ فراہم کرنا اور شدید گرمی کے اثرات کم کرنے میں مدد دینا ہے۔

یہ بھی پڑھیے: محبوبہ کے گھر والوں سے بچنے کی کوشش میں نوجوان بھارتی سرحد عبور کرگیا

جی بی پی ایس خبر بھیل میں ایک اضافی کلاس روم بھی تعمیر کیا گیا جبکہ پینے کے صاف پانی کے لیے چھ مراحل پر مشتمل ریورس اوسموسس نظام نصب کیا گیا۔

لڑکیوں کے لیے بیت الخلا اور محفوظ ماحول کیوں اہم ہے؟

دیہی علاقوں میں لڑکیوں کی تعلیم کے حوالے سے اسکول تک پہنچنے کا فاصلہ ہی واحد رکاوٹ نہیں ہوتا۔ اسکول میں مناسب اور نجی بیت الخلا، صاف پانی اور محفوظ ماحول کی عدم دستیابی بھی خاص طور پر بڑی عمر کی طالبات کے لیے تعلیم جاری رکھنے میں مشکل پیدا کرسکتی ہے۔

متعلقہ اسکولوں کے سربراہان ممتاز علی اور ہریش کمار کے مطابق ماضی میں ناکافی صفائی کی سہولیات اور غیر محفوظ چار دیواری کے باعث پرائمری سطح کے بعد طالبات کو برقرار رکھنا مشکل تھا۔

اسکولوں میں بہتر صفائی، صاف پانی اور بجلی کی سہولت نے اس ماحول کو بہتر بنانے میں مدد دی۔

یہ پہلو اس لیے بھی اہم ہے کہ کسی بچے کا اسکول میں داخل ہونا اور اس کا باقاعدگی سے تعلیم جاری رکھنا دو مختلف معاملات ہیں۔ ایک دیہی لڑکی کے لیے اسکول کی رسائی میں محفوظ ماحول، رازداری، صفائی، پانی اور مناسب بنیادی سہولیات بھی اہم کردار ادا کرسکتی ہیں۔

موسمیاتی تبدیلی کے دور میں اسکولوں کی تعمیر نو کا نیا چیلنج

پاکستان جیسے موسمیاتی خطرات سے دوچار ملک میں سیلاب یا دیگر قدرتی آفات کے بعد اسکولوں کی تعمیر نو صرف تباہ شدہ عمارت کو دوبارہ کھڑا کرنے تک محدود نہیں رہ سکتی۔

اگر کسی علاقے میں بار بار سیلاب آتا ہو یا شدید گرمی اور بجلی کی قلت معمول ہو تو اسکول کی تعمیر اور بحالی میں ان خطرات کو بھی مدنظر رکھنا ضروری ہوجاتا ہے۔

عمرکوٹ کے ان 5 اسکولوں میں اختیار کیا گیا طریقہ اس حوالے سے ایک مقامی مثال فراہم کرتا ہے جہاں عمارت کی بحالی کے ساتھ پانی، صفائی، شمسی توانائی، درختوں اور سیلاب سے تحفظ جیسے مختلف پہلوؤں کو بھی شامل کیا گیا۔

یہ منصوبہ اپنی محدود سطح کے باعث سندھ کے ہزاروں متاثرہ اسکولوں کی ضرورت پوری نہیں کرسکتا، تاہم اس سے یہ سوال ضرور سامنے آتا ہے کہ مستقبل میں قدرتی آفات کے بعد اسکولوں کی تعمیر نو کس طرح کی جائے تاکہ وہ اگلی آفت کے مقابلے میں زیادہ محفوظ ہوں۔

بالخصوص لڑکیوں کے لیے محفوظ چار دیواری، مناسب بیت الخلا، صاف پانی اور موسم کی شدت سے محفوظ تعلیمی ماحول بعض اوقات تعلیم جاری رکھنے میں اہم فرق پیدا کرسکتا ہے۔

مزید پڑھیں: کراچی تھر ڈیزرٹ سفاری ٹرین کا آغاز، مسافروں کا شاندار استقبال

عمرکوٹ کے 5 بحال کیے گئے اسکولوں میں 58 اضافی طالبات کا داخلہ اسی وسیع تر مسئلے کی ایک مثال ہے۔ اعداد و شمار حتمی طور پر کسی ایک وجہ کی نشاندہی نہیں کرتے لیکن یہ ضرور ظاہر کرتے ہیں کہ تعلیم تک رسائی صرف اسکول کی موجودگی کا نام نہیں بلکہ اس بات سے بھی جڑی ہے کہ وہ اسکول بچوں خصوصاً لڑکیوں کے لیے کتنا محفوظ اور موزوں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp