امریکا میں غیرملکی طلبہ کے امیگریشن نظام میں بڑی تبدیلی کل 15 ستمبر سے نافذ ہوگی، جس کے تحت ایف-1 طلبہ کے امریکا میں قیام کے لیے طویل عرصے سے رائج ‘مدتِ حیثیت’ کے نظام کو ختم کرکے مقررہ مدتِ داخلہ کا نظام متعارف کرایا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: تیسری دنیا کے شہریوں کی امریکی امیگریشن پر پابندی: پاکستانی کس حد تک متاثر ہوں گے؟
امریکی محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی کے مطابق نئے نظام کے تحت ایف-1 طلبہ کو عمومی طور پر ان کے فارم آئی-20 میں درج تعلیمی پروگرام کی مدت کے لیے امریکا میں داخلے کی اجازت دی جائے گی، تاہم یہ مدت زیادہ سے زیادہ 4 سال تک ہوگی۔
نئے نظام کے تحت طلبہ کو تعلیمی پروگرام شروع ہونے سے پہلے امریکا پہنچنے کے لیے 30 دن جبکہ پروگرام یا مجاز تکمیل کے بعد تربیتی پروگرام کے اختتام پر ملک سے روانگی کی تیاری کے لیے 30 دن کی مدت دی جائے گی۔
اضافی وقت درکار ہونے پر نئی درخواست دینا ہوگی
جن طلبہ کو اپنا موجودہ تعلیمی پروگرام مکمل کرنے، نیا تعلیمی پروگرام شروع کرنے یا تعلیم مکمل ہونے کے بعد آپٹ یا اسٹیم آپٹ کے لیے اضافی وقت درکار ہوگا، انہیں مزید اقدامات کرنا ہوں گے۔
ایسے طلبہ امریکی شہریت اور امیگریشن سروسز سے قیام میں توسیع کے لیے درخواست دے سکتے ہیں یا امریکا سے باہر جاکر دوبارہ واپسی پر کسٹمز اینڈ بارڈر پروٹیکشن سے داخلے کی نئی مدت حاصل کرسکتے ہیں۔
محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی نے طلبہ کو مشورہ دیا ہے کہ قیام میں توسیع کی درخواست دینے سے قبل وہ اپنے تعلیمی ادارے کے مقررہ اسکول عہدیدار سے رابطہ کریں۔
توسیع کے خواہش مند طلبہ کو فارم آئی-539 امریکی شہریت اور امیگریشن سروسز میں جمع کرانا ہوگا، تاہم اس سے پہلے نئے فارم آئی-20 پر متعلقہ سفارش حاصل کرنا ضروری ہوگا۔
پہلے سے امریکا میں موجود طلبہ کے لیے کیا ہوگا؟
نئے نظام کا یہ مطلب نہیں کہ 15 ستمبر کو امریکا میں موجود ہر ایف-1 طالب علم کو نئی درخواست لازماً جمع کرانا ہوگی۔
جو طلبہ 15 ستمبر کو پہلے سے رائج ‘مدتِ حیثیت’ کے نظام کے تحت ایف-1 حیثیت میں امریکا میں موجود ہوں گے، وہ منتقلی کے قواعد کے تحت اپنے متعلقہ تعلیمی پروگرام یا آپٹ اور اسٹیم آپٹ کی اختتامی تاریخ تک قیام کرسکیں گے اور انہیں فوری طور پر توسیع کی درخواست دینے کی ضرورت نہیں ہوگی۔
یہ بھی پڑھیں: امریکی امیگریشن: درخواست گزاروں کی سوشل میڈیا سرگرمیوں کی سخت جانچ ہوگی، ٹرمپ انتظامیہ
ان طلبہ کے لیے منتقلی کی مدت عمومی طور پر 14 نومبر 2030 سے آگے نہیں جائے گی۔
تاہم سفر سے متعلق ایک اہم استثنا موجود ہے۔ ایسے موجودہ ایف-1 طلبہ جو 15 ستمبر کے بعد امریکا سے باہر جائیں گے، ان کی واپسی پر انہیں پرانے ‘مدتِ حیثیت’ نظام کے بجائے نئے مقررہ مدتِ داخلہ کے نظام کے تحت دوبارہ داخل کیا جاسکتا ہے۔
اسی لیے جو طلبہ بیرون ملک سفر کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں، انہیں امریکا چھوڑنے سے پہلے اپنے تعلیمی ادارے کے مقررہ اسکول عہدیدار سے مشورہ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
تعلیمی منصوبوں میں تبدیلی پر نئی پابندیاں
نئے قواعد ایف-1 طلبہ کے تعلیمی کیریئر کے دوران پروگرام میں تبدیلیوں پر بھی نئی پابندیاں عائد کرتے ہیں۔
انڈر گریجویٹ طلبہ عمومی طور پر کسی پروگرام کے پہلے سال کے دوران تعلیمی سطح یا شعبہ تبدیل نہیں کرسکیں گے، تاہم غیر معمولی حالات کی صورت میں استثنا دیا جاسکتا ہے۔
گریجویٹ سطح کے طلبہ کے لیے تعلیمی سطح، شعبے اور تعلیمی ادارہ تبدیل کرنے سے متعلق مزید پابندیاں بھی متعارف کرائی گئی ہیں۔
اس کے علاوہ نئے نظام کے تحت تعلیمی پروگرام یا تکمیل کے بعد آپٹ یا اسٹیم آپٹ مکمل ہونے کے بعد امریکا چھوڑنے کی مدت بھی پہلے کے 60 دن سے کم کرکے 30 دن کردی گئی ہے۔
امیگریشن فارم بھی تبدیل
15 ستمبر سے نافذ ہونے والی تبدیلیوں کا اثر امریکی شہریت اور امیگریشن سروسز کی کاغذی کارروائی پر بھی ہوگا۔
قیام میں توسیع یا غیر تارک وطن حیثیت تبدیل کرنے کے لیے فارم آئی-539 اور ملازمت کی اجازت کے لیے فارم آئی-765 جمع کرانے والے طلبہ کو منگل سے امریکی شہریت اور امیگریشن سروسز کی جانب سے مقرر کردہ نئے فارم استعمال کرنا ہوں گے۔
طلبہ کو درخواست جمع کرانے سے پہلے فارم کے ایڈیشن کی تاریخ ضرور چیک کرنے کی ہدایت کی گئی ہے، کیونکہ پرانے ایڈیشن کے استعمال کے لیے کوئی اضافی مہلت نہیں دی جائے گی۔
15 ستمبر روانگی یا نئی درخواست کی حتمی تاریخ نہیں
غیرملکی طلبہ کے لیے اہم بات یہ ہے کہ 15 ستمبر امریکا چھوڑنے یا نئی درخواست جمع کرانے کی کوئی عمومی آخری تاریخ نہیں ہے۔
یہ تاریخ ایک نئے نظام کے آغاز کی نشاندہی کرتی ہے جس میں امریکا میں داخلے کی مدت ایک مخصوص وقت سے منسلک ہوگی، جبکہ اضافی وقت درکار ہونے والے طلبہ کو قیام میں توسیع یا دوبارہ داخلے کی نئی مدت حاصل کرنا پڑسکتی ہے۔
بڑی امریکی جامعات کی طلبہ کو احتیاط کی ہدایت
امریکا کی بڑی جامعات نے بھی غیرملکی طلبہ کو نئے قواعد کے نفاذ کے بعد اپنے سفری منصوبوں اور فارم آئی-94 پر خصوصی توجہ دینے کی ہدایت کی ہے۔
ہارورڈ یونیورسٹی، ییل یونیورسٹی، کولمبیا یونیورسٹی، کارنیل یونیورسٹی اور اسٹینفورڈ یونیورسٹی نے تبدیلیوں سے متعلق رہنمائی جاری کرتے ہوئے طلبہ کو امیگریشن یا بین الاقوامی سفر سے متعلق فیصلے کرنے سے پہلے اپنے متعلقہ بین الاقوامی طلبہ دفاتر سے مشورہ کرنے کا کہا ہے۔
ییل یونیورسٹی کے مطابق جو طلبہ پرانے ‘مدتِ حیثیت’ نظام کے تحت پہلے ہی امریکا میں موجود ہیں، انہیں عمومی طور پر 15 ستمبر کو فوری طور پر کوئی کارروائی کرنے کی ضرورت نہیں ہوگی۔
تاہم جو طلبہ بیرون ملک سفر کرکے 15 ستمبر کے بعد امریکا واپس آئیں گے، انہیں عمومی طور پر نیا فارم آئی-94 جاری کیا جائے گا جس پر امریکا میں قیام کی مخصوص آخری تاریخ درج ہوگی۔
یہ بھی پڑھیں: امریکا میں غیر ملکی طلبا کے ویزے اچانک منسوخ، طلبا خوف و ہراس کا شکار
ییل نے طلبہ کو ہر بین الاقوامی سفر کے بعد اپنے فارم آئی-94 کی جانچ کرنے کا مشورہ دیا ہے۔
ہارورڈ یونیورسٹی نے بھی خبردار کیا ہے کہ 15 ستمبر کے بعد بین الاقوامی سفر مستقبل میں آپٹ اور قیام میں توسیع کی منصوبہ بندی پر اثر انداز ہوسکتا ہے۔ یونیورسٹی کے بین الاقوامی دفتر نے طلبہ کو سفری منصوبہ بنانے سے پہلے اس کے ممکنہ نتائج سمجھنے کی ہدایت کی ہے۔
کولمبیا اور کارنیل یونیورسٹیوں نے بھی منتقلی کے قواعد سے متعلق تفصیلی رہنمائی جاری کی ہے، جبکہ اسٹینفورڈ یونیورسٹی نے خبردار کیا ہے کہ نئے قواعد نافذ ہونے کے بعد ایف-1 اور جے-1 طلبہ کو ڈی/ایس یعنی مدتِ حیثیت کی علامت کے تحت داخل نہیں کیا جائے گا۔
جامعات کی جانب سے بنیادی پیغام یہی ہے کہ طلبہ 15 ستمبر کو لازماً امریکا چھوڑنے یا نئی درخواست جمع کرانے کی ضرورت نہ سمجھیں، تاہم انہیں اپنی فارم آئی-94، پروگرام کے اختتامی وقت، آپٹ کے منصوبوں اور بین الاقوامی سفر کے ممکنہ اثرات سے آگاہ رہنا چاہیے۔
جے-1 اور بعض آئی ویزا رکھنے والوں کے لیے بھی تبدیلی
امریکی محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی جے-1 ایکسچینج پروگرام کے شرکا اور بعض آئی ویزا رکھنے والوں کے لیے بھی ‘مدتِ حیثیت’ کا نظام ختم کر رہا ہے۔
آئی ویزا رکھنے والوں میں غیرملکی اطلاعاتی میڈیا کے نمائندے بھی شامل ہیں۔ انہیں بھی عمومی طور پر غیر معینہ مدت کے بجائے مقررہ مدت کے لیے امریکا میں داخلے کی اجازت دی جائے گی۔
جے-1 پروگرام کے شرکا کو اضافی وقت درکار ہونے کی صورت میں عمومی طور پر قیام میں توسیع کی درخواست دینا ہوگی، جبکہ آئی ویزا رکھنے والے میڈیا نمائندوں کے لیے قیام کی مدت ان کی میڈیا اسائنمنٹ کی مدت سے منسلک ہوگی۔
تاہم یہ تبدیلی دیگر بڑے غیر تارک وطن ویزا زمروں، جن میں ایچ-1 بی، ایل-1، او-1 اور بی-1/بی-2 شامل ہیں، پر عمومی طور پر لاگو نہیں ہوگی کیونکہ ان زمروں میں پہلے ہی امریکا میں داخلے کے لیے مقررہ مدت کا نظام رائج ہے۔














