امریکی سپریم کورٹ نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ڈاک کے ذریعے ووٹنگ کے قوانین سخت کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے نومبر کے وسط مدتی انتخابات سے قبل ان کی کوششوں کو دھچکا پہنچایا ہے۔
امریکی سپریم کورٹ نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کو ڈاک کے ذریعے بھیجے جانے والے ووٹوں سے متعلق ایک نئی پابندی نافذ کرنے کی اجازت دینے سے انکار کردیا۔ قدامت پسند اکثریت رکھنے والی عدالت نے پیر کے روز امریکی ضلعی جج اندرا تلوانی کے اس حکم کو برقرار رکھا جس کے تحت مذکورہ اقدام پر عمل درآمد روک دیا گیا تھا۔
یہ بھی پڑھیے ’برتھ ٹورازم‘: امریکی سپریم کورٹ نے پیدائشی شہریت پر پابندیوں کی ڈونلڈ ٹرمپ کی کوشش مسترد کر دی
یہ ضابطہ ٹرمپ کی جانب سے مارچ میں جاری کیے گئے ایک صدارتی حکم کے بعد امریکی پوسٹل سروس نے اختیار کیا تھا۔ اس کے تحت ریاستوں کو ڈاک کے ذریعے ووٹ ڈالنے والے افراد کی فہرست پوسٹل سروس کو فراہم کرنا اور ایسے لفافے استعمال کرنا لازم قرار دیا گیا تھا جنہیں ادارے نے پہلے سے منظور کیا ہو۔ نئے معیار پر پورا نہ اترنے والے یا رجسٹرڈ ووٹرز کی فہرست میں شامل نہ ہونے والے ووٹ مسترد کیے جا سکتے تھے۔
جج اندرا تلوانی نے اس ضابطے کے نفاذ پر حکم امتناع جاری کرتے ہوئے قرار دیا تھا کہ یہ اقدام غالباً امریکی آئین کی خلاف ورزی کرتا ہے اور وسط مدتی انتخابات قریب ہونے کے باعث اس پر مؤثر طریقے سے عمل درآمد بھی ممکن نہیں ہوگا۔
ٹرمپ انتظامیہ نے بعد ازاں سپریم کورٹ سے ہنگامی بنیادوں پر درخواست کی کہ اسے ڈاک کے نظام کو انتخابی دھاندلی کے لیے استعمال ہونے سے روکنے کی پالیسی نافذ کرنے کی اجازت دی جائے۔
یہ بھی پڑھیے سپریم کورٹ کا ٹرمپ کی اپیل سننے سے انکار، ای جین کیرول کو 50 لاکھ ڈالر ملیں گے
سپریم کورٹ نے اپنے تازہ فیصلے میں قرار دیا کہ انتظامیہ کے لیے اس مقدمے میں کامیابی کے امکانات کم ہیں۔ جسٹس سیموئل ایلیٹو اور جسٹس کلیئرنس تھامس نے فیصلے سے اختلاف کیا، جبکہ ٹرمپ کے مقرر کردہ جسٹس بریٹ کیوانا نے بھی اکثریتی فیصلے کی حمایت کی، تاہم انہوں نے عندیہ دیا کہ وہ مستقبل میں اس پالیسی کی حمایت کر سکتے ہیں۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ پابندیوں سے ہزاروں ووٹوں کی ترسیل متاثر اور ان ووٹرز کے حق رائے دہی کو نقصان پہنچ سکتا ہے جو ڈاک کے ذریعے ووٹ ڈالنے پر انحصار کرتے ہیں۔














