پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں منگل کو کاروبار کے آغاز پر زبردست تیزی دیکھی گئی جہاں انڈیکس ابتدائی لمحات میں تقریباً 2 ہزار پوائنٹس اضافے کے ساتھ 1 لاکھ 69 ہزار 970 پوائنٹس کی سطح پر پہنچ گیا۔
صبح 9 بج کر 35 منٹ پر بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس 1,999.58 پوائنٹس یعنی 1.19 فیصد اضافے کے بعد 169,970.23 پوائنٹس پر ٹریڈ کر رہا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: اسٹاک مارکیٹ میں کاروبار کا مثبت آغاز، انڈیکس میں 957 پوائنٹس کا اضافہ
مارکیٹ میں آٹو موبائل اسمبلرز، سیمنٹ، کمرشل بینکوں، آئل اینڈ گیس ایکسپلوریشن کمپنیوں، آئل مارکیٹنگ کمپنیوں، بجلی پیدا کرنے والی کمپنیوں اور ریفائنری کے شعبوں میں نمایاں خریداری ریکارڈ کی گئی۔
اٹک ریفائنری، حبکو پاور، ماری پیٹرولیم، آئل اینڈ گیس ڈیولپمنٹ کمپنی لمیٹڈ، پاکستان پیٹرولیم لمیٹڈ، پاکستان آئل فیلڈز، پاکستان اسٹیٹ آئل، مسلم کمرشل بینک، میزان بینک، حبیب بینک اور نینشل بینک جیسے انڈیکس پر اثرانداز ہونے والے اہم حصص مثبت زون میں کاروبار کرتے رہے۔
PSX Opened Positive 🚀
☀️ KSE 100 opened positive by +1280.2 points this morning. Current index is at 169,250.86 points (9:45 AM) pic.twitter.com/DH2vw1BtTm— Investify Pakistan (@investifypk) September 15, 2026
دوسری جانب یورو بانڈ سے حاصل ہونے والی رقوم کی آمد کے بعد اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ کے ذخائر تاریخ کی بلند ترین سطح 21.4 ارب ڈالر تک پہنچ گئے ہیں۔
ستمبر کے پہلے ہفتے میں پاکستان نے 2 حصوں پر مشتمل یورو بانڈ کے اجرا کے ذریعے تقریباً 3 ارب ڈالر حاصل کیے تھے، جو ایک ہی پیشکش میں پاکستان کی جانب سے اب تک کا سب سے بڑا عالمی بانڈ لین دین قرار دیا گیا ہے۔
مزید پڑھیں: تیل کی قیمت 110 ڈالر کے قریب پہنچ گئی، عالمی بانڈ اور اسٹاک مارکیٹیں دباؤ کا شکار
واضح رہے کہ گزشتہ روز یعنی پیر کو پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں شدید مندی دیکھی گئی تھی، امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی کشیدگی، آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں پر حملوں اور عالمی سطح پر خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے زائد رہنے کے باعث سرمایہ کاروں کے اعتماد کو شدید دھچکا لگا تھا۔
ان عوامل نے ایندھن سے متعلق مہنگائی، درآمدی بل اور ملکی مانیٹری پالیسی کے حوالے سے خدشات کو بھی بڑھا دیا تھا، گزشتہ روز کے ایس ای 100 انڈیکس 2,541.20 پوائنٹس کی کمی کے بعد 167,970.66 پوائنٹس پر بند ہوا تھا۔

عالمی سطح پر بھی منگل کو ایشیائی حصص کی منڈیوں میں محتاط رجحان رہا، سرمایہ کار مشرق وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال، بلند عالمی تیل قیمتوں اور بانڈ ییلڈز میں اضافے کے ساتھ امریکا اور جاپان میں ہونے والے اہم مرکزی بینک اجلاسوں پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔
ادھر مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی کی ترقی کی رفتار سست کرنے کے حوالے سے ٹیکنالوجی کے شعبے سے وابستہ اہم شخصیات کے مطالبات بھی عالمی منڈیوں پر اثرانداز ہوئے۔
مزید پڑھیں: سرمایہ کاروں کا اعتماد اسٹاک ایکسچینج میں بہتری کا باعث، کیا معیشت مستحکم ہورہی ہے؟
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تاہم اے آئی کے غلط استعمال سے متعلق خدشات کو کم کرتے ہوئے کہا کہ امریکا کے موجودہ حفاظتی اقدامات کافی ہیں۔
ایم ایس سی آئی کے جاپان کے علاوہ ایشیا بحرالکاہل کے حصص کا وسیع ترین انڈیکس 0.12 فیصد نیچے رہا، جبکہ جنوبی کوریا کے حصص میں 0.25 فیصد کمی ہوئی۔
جاپان کا نکی ابتدائی خسارے کے بعد 0.19 فیصد اضافے پر بند ہوا، چپ سے متعلق حصص میں ملے جلے رجحانات دیکھنے میں آئے، جنوبی کوریا کی سام سنگ الیکٹرونکس 0.2 فیصد نیچے جبکہ جاپان کی کیوکسیا 3.3 فیصد اضافے میں رہی۔














