تیل کی قیمت 110 ڈالر کے قریب پہنچ گئی، عالمی بانڈ اور اسٹاک مارکیٹیں دباؤ کا شکار

جمعہ 11 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

عالمی منڈیوں میں خام تیل کی قیمتوں میں تیزی اور مشرق وسطیٰ کی جنگ کے پھیلنے کے خدشات نے مہنگائی میں اضافے کا خطرہ بڑھا دیا۔ برینٹ خام تیل کی قیمت 6 فیصد اضافے کے بعد 109.97 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی، جو 4 ماہ کی بلند ترین سطح ہے، جبکہ رواں ہفتے تیل کی قیمت میں قریباً 13 فیصد اضافہ ہوچکا ہے۔

مزید پڑھیں:پیٹرول 358 روپے سے تجاوز، کفایت شعاری مہم کہاں گئی؟ ملازمین کا ہفتے میں 2 روز ’ورک فرام ہوم‘ کا مطالبہ

تیل مہنگا ہونے کے باعث سرمایہ کاروں کو خدشہ ہے کہ دنیا بھر کے مرکزی بینک مہنگائی پر قابو پانے کے لیے شرح سود میں اضافہ کرسکتے ہیں۔ امریکا میں 10 سالہ ٹریژری بانڈ کی شرح منافع 4.97 فیصد تک پہنچ گئی، جو 3 سال کی بلند ترین سطح ہے، جبکہ 30 سالہ بانڈ کی شرح 5.38 فیصد کی 19 سالہ بلند ترین سطح پر پہنچ گئی۔

ایشیا کی اسٹاک مارکیٹیں بھی دباؤ کا شکار رہیں۔ جاپان کا نکی 2.8 فیصد، چین کا سی ایس آئی 300 انڈیکس 1.2 فیصد اور ہانگ کانگ کا ہینگ سینگ انڈیکس 1.5 فیصد گر گیا۔ جے پی مورگن کے مطابق امریکا، جاپان، یورپ، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ سمیت ترقی یافتہ معیشتوں کے 9 میں سے 8 مرکزی بینک رواں سال کے اختتام تک شرح سود بڑھا سکتے ہیں۔

مزید پڑھیں:امریکا ایران مذاکرات میں ڈیڈ لاک، عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ

سرمایہ کاروں کی نظریں اب امریکا میں اگست کی صارف قیمتوں کے اعداد و شمار پر ہیں، جو اگلے ہفتے امریکی فیڈرل ریزرو کے شرح سود سے متعلق فیصلے پر اثرانداز ہوسکتے ہیں۔ دوسری جانب بلند بانڈ شرح منافع کے باعث امریکی ڈالر مضبوط ہوا، جبکہ سونے کی قیمت میں معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp