بیس بال کے دیس میں کرکٹ کی انٹری، جاپان عالمی ٹیموں کا میزبان

منگل 15 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

ایسے ملک میں جہاں بیس بال کو سب سے زیادہ مقبولیت حاصل ہے اور کرکٹ کا کھیل شائقین کی توجہ میں بہت پیچھے ہے، جاپان اپنی تاریخ میں کھیلوں کے ایک غیر معمولی 2 ہفتے کی میزبانی کرنے جا رہا ہے۔

عالمی کرکٹ کی بڑی ٹیمیں آئندہ ہفتے جاپان پہنچیں گے، جس کے نتیجے میں علاقائی کوالیفائرز جیسے محدود مقابلوں کی میزبانی کے لیے معروف جاپان اعلیٰ سطح کی کرکٹ کا غیر متوقع مرکز بن جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں: جاپان ایشین گیمز: رہائشی بحران کے باوجود کرکٹرز کو بہترین سہولیات فراہم کرنے کی یقین دہانی

جاپان میں اعلیٰ معیار کی کرکٹ کے ان مقابلوں کا انعقاد سفارتی کوششوں، کارپوریٹ اسپانسرشپ اور جاپان کرکٹ ایسوسی ایشن کی کئی برسوں پر محیط خاموش محنت کا نتیجہ ہے، جو ملک میں کرکٹ کے فروغ اور جڑیں مضبوط کرنے کے لیے سرگرم ہے۔

جاپان کرکٹ ایسوسی ایشن نے ایک بڑی کامیابی اس وقت حاصل کی جب اس نے موجودہ ٹی20 عالمی چیمپئن بھارت کو 22 ستمبر کو سانو میں میزبان جاپانی ٹیم کے خلاف کھیلنے پر آمادہ کیا، یہ پہلا موقع ہوگا جب آئی سی سی کا ایسوسی ایٹ رکن جاپان، انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کے کسی مکمل رکن ملک کے خلاف میچ کھیلے گا۔

سابق عالمی چیمپئن پاکستان اور سری لنکا کے علاوہ ٹیسٹ کھیلنے والے بنگلہ دیش اور افغانستان بھی ستمبر میں نشین کے ایک تبدیل شدہ بیس بال اسٹیڈیم میں ایکشن میں ہوں گے، جہاں ایشین گیمز کے کرکٹ مقابلوں کا آغاز ہوگا۔

ایک نئے دور کا پہلا صفحہ

جاپان کرکٹ ایسوسی ایشن کے چیف ایگزیکٹو ناوکی ایلکس میاجی اس پیش رفت پر پرجوش ہیں، تاہم وہ اس حقیقت سے بھی آگاہ ہیں کہ صرف 2 ہفتوں کی کرکٹ جاپان میں اس کھیل کی مقبولیت کو یکسر تبدیل نہیں کرسکتی۔

جاپان میں اس وقت صرف 7,300 رجسٹرڈ کرکٹرز اور 16 کرکٹ گراؤنڈز ہیں، خواتین کی ٹی20 ٹیم عالمی درجہ بندی میں 39ویں جبکہ مردوں کی ٹیم 41ویں نمبر پر ہے۔

میاجی کے مطابق ایک میچ یا ٹورنامنٹ اپنے آپ میں کوئی بڑی تبدیلی نہیں لا سکتا اور یہ توقع بھی نہیں کی جاسکتی کہ کرکٹ اچانک جاپان میں بیس بال یا فٹبال جتنی مقبول ہوجائے گی۔

تاہم ان کا کہنا تھا کہ بھارت کے خلاف میچ ایک نئے دور کا پہلا صفحہ ہے۔

جاپان کرکٹ ایسوسی ایشن ایک سال سے زائد عرصے سے بھارتی کرکٹ کنٹرول بورڈ کو سانو میں ٹی20 انٹرنیشنل کھیلنے پر آمادہ کرنے کے لیے کوششیں کررہی تھی، حالیہ مہینوں میں ان کوششوں کو اس وقت تقویت ملی جب جاپانی حکومت بھی اس معاملے میں شامل ہوگئی۔

میاجی کے مطابق حکومتی شمولیت اور کھیل کو سفارت کاری کے ذریعے استعمال کرنے کی خواہش نے جاپانی کرکٹ حکام کو بھارتی بورڈ سے یہ پیشکش کرنے کا موقع دیا کہ بھارتی ٹیم سانو میں تربیتی سیشن اور ٹی20 انٹرنیشنل کھیلے۔

مزید پڑھیں: بھارتی خاتون کرکٹر کرانتی گاؤڈ پر ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر جرمانہ

انہوں نے کہا کہ نئی دہلی میں جاپانی سفارتخانہ بھی کرکٹ سفارت کاری کے لیے تعاون حاصل کرنے کی کوشش کررہا تھا، کیونکہ جاپانی حکام سمجھتے ہیں کہ بھارت میں کرکٹ کتنی اہمیت رکھتی ہے اور اس کھیل کے ذریعے دونوں ممالک کے درمیان دوستی اور تعلقات کو مزید مضبوط کیا جاسکتا ہے۔

’اب ترقی کا وقت ہے‘

اس منصوبے کو جاپان کی ایک بڑی کمپنی سوزوکی کی حمایت سے بھی تقویت ملی ہے، میاجی کے مطابق کسی بڑے جاپانی برانڈ کی جانب سے کرکٹ ٹورنامنٹ کی مکمل حمایت اس کھیل کے لیے ایک اہم پیغام ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ جاپانی معاشرے میں یہ تاثر جائے گا کہ اگر سوزوکی جیسی کمپنی کرکٹ کی حمایت کررہی ہے تو یہ ایک اہم کھیل ضرور ہے۔

جاپان کرکٹ ایسوسی ایشن نے ایشین گیمز کے مقابلوں کے لیے سانو انٹرنیشنل کرکٹ گراؤنڈ کی پیشکش کی تھی، تاہم مقامی منتظمین نے انتظامی اور لاجسٹک مسائل سے بچنے کے لیے ناگویا کے مضافات میں واقع ایک بیس بال اسٹیڈیم کو کرکٹ کے لیے استعمال کرنے کا فیصلہ کیا۔

اس کے باوجود جاپان کرکٹ ایسوسی ایشن سری لنکا کرکٹ کے ساتھ اپنے تعلقات کی بدولت ایشین گیمز کے منتظمین کو اہم معاونت فراہم کررہی ہے۔ یہ شراکت داری تقریباً 3 سال قبل کھیلوں کی سفارت کاری کے ذریعے قائم ہوئی تھی۔

سری لنکا سے تعلق رکھنے والا ایک ماہر کیوریٹر اس وقت نشین میں ایشین گیمز کے لیے پچ کی تیاری کی نگرانی کررہا ہے، پردے کے پیچھے کئی برسوں کی محنت کے بعد جاپان کرکٹ ایسوسی ایشن اب اپنی کوششوں کے ثمرات حاصل کرنے کے لیے پرامید ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp