مس یونیورس انڈیا کے اسٹیج سے گوگل کے دفتر تک، فائنلسٹ نے سب کو حیران کردیا

بدھ 16 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

مس یونیورس انڈیا 2026 کے مقابلے میں ٹاپ 20 میں جگہ بنانے والی امیدوار امنگا کُماوت نے مقابلے کے چند ہفتے بعد دوبارہ اپنی پیشہ ورانہ زندگی کا آغاز کردیا اور بنگلورو میں گوگل کے دفتر میں بطور کلاؤڈ انجینئر کام پر واپس پہنچ گئیں۔

بھارتی میڈیا کے مطابق امنگا کُماوت نے مس یونیورس انڈیا کے قومی مقابلے میں ریاست مدھیہ پردیش کی نمائندگی کی تھی، جہاں 52 فائنلسٹس میں سے وہ ٹاپ 20 تک پہنچنے میں کامیاب رہیں۔ 23 اگست کو جے پور میں ہونے والے فائنل مقابلے میں کیرالہ کی کازیا لز میجیا نے قومی اعزاز اپنے نام کیا تھا۔

 

مقابلے کے بعد امنگا نے 14 ستمبر کو اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر ایک منٹ کی ویڈیو شیئر کی، جس میں انہوں نے گوگل کے بنگلورو کیمپس میں اپنی روزمرہ زندگی کی جھلک دکھائی۔

ویڈیو میں امنگا کا دن صبح ساڑھے 9 بجے شروع ہوتا ہے۔ وہ لباس کا انتخاب کرنے کے بعد لیپ ٹاپ، بیگ اور ایئربڈز لے کر گوگل کیمپس پہنچتی ہیں۔ صبح ساڑھے 10 بجے وہ کمپنی کے ویلنِس سینٹر میں ورزش کرتی ہیں، جس میں ٹریڈمل، اسٹریچنگ اور ٹانگوں کی ورزش شامل ہے۔

یہ بھی پڑھیں:مس یونیورس مقابلہ میں تنازعہ، حسینائیں واک آؤٹ پر کیوں مجبور ہوئیں؟

دوپہر ساڑھے 12 بجے وہ دوبارہ اپنے کام میں مصروف نظر آتی ہیں، جہاں لیپ ٹاپ اور دستاویزات کے ساتھ معمول کی دفتری سرگرمیاں جاری رکھتی ہیں۔ دوپہر 2 بج کر 10 منٹ پر وہ گوگل کے کیفے ٹیریا میں کھانا کھاتی ہیں اور اس کے بعد دوبارہ کام پر واپس آجاتی ہیں۔

شام ساڑھے 4 بجے امنگا کیمپس کے نسبتاً پرسکون حصے میں کام کرتی دکھائی دیتی ہیں، جبکہ ساڑھے 5 بجے کافی بریک کے بعد دفتر سے روانہ ہوجاتی ہیں۔

بھارتی میڈیا کے مطابق جہاں اکثر بیوٹی پیجینٹس میں حصہ لینے والی امیدواریں ماڈلنگ، فلموں یا شوبز سے وابستہ ہوجاتی ہیں، امنگا نے ٹیکنالوجی کے شعبے میں اپنی پیشہ ورانہ مصروفیات کو جاری رکھا ہے اور مس یونیورس انڈیا کے تجربے کے ساتھ اپنی کارپوریٹ زندگی بھی برقرار رکھی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp