صدر آصف علی زرداری نے پمز میں ہولناک آتشزدگی کے دوران نومولود کی جان بچانے والی نرس رضیہ نورین کو تمغہ شجاعت دینے کی منظوری دے دی۔ آتشزدگی میں 14 نومولود جاں بحق ہوئے تھے۔
ایوانِ صدر کے مطابق صدر آصف علی زرداری نے بدھ کو پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) کی نرس رضیہ نورین کو تمغہ شجاعت دینے کی منظوری دی۔ 26 اگست کو پمز کے مدر اینڈ چائلڈ ہسپتال کی نرسری میں لگنے والی آگ نے 14 نومولودوں کی جان لے لی تھی، جس کے بعد اسپتال میں آگ سے بچاؤ کے انتظامات پر سوالات اٹھے اور ذمہ داروں کے تعین کا مطالبہ کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیے سلام سسٹر رضیہ نورین!
واقعے کی سی سی ٹی وی فوٹیج میں رضیہ نورین کو شعلوں میں گھری نرسری میں داخل ہوتے اور چند سیکنڈ بعد ایک نومولود کو اٹھا کر باہر نکلتے دیکھا گیا۔ وہ کچھ دیر بعد دوبارہ نرسری میں داخل ہونے کی کوشش کرتی ہیں، تاہم اس وقت تک آگ مزید پھیل چکی تھی۔
صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے اہم سمریز کی منظوری دے دی۔
منظور شدہ سمریز میں نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف فوک اینڈ ٹریڈیشنل ہیریٹیج (لوک ورثہ) ترمیمی بل 2026، اسٹینڈرڈ ٹائم (تشریحِ حوالہ جات) ترمیمی بل 2026، آرمڈ فورسز انسٹی ٹیوٹ آف یورولوجی (AFIU) راولپنڈی کی ٹیبل آف آرگنائزیشن اینڈ…
— The President of Pakistan (@PresOfPakistan) September 16, 2026
وزیراعظم شہباز شریف نے بھی رواں ماہ ان کی غیر معمولی بہادری اور فرض شناسی کے اعتراف میں انہیں ایک کروڑ روپے کا چیک دیا تھا۔
رضیہ نورین نے اس موقع پر کہا تھا کہ وہ اپنی ذمہ داری ادا کر رہی تھیں کیونکہ اس وقت لوگوں نے بچوں کو ان کے سپرد کیا تھا اور ان کی حفاظت کی ذمہ داری ان کے کندھوں پر تھی۔
یہ بھی پڑھیے پمز سانحہ: سی سی ٹی وی فوٹیج میں بچوں کو بچانے کی کوششوں سے متعلق اہم تفصیلات سامنے آگئیں
ادھر آتشزدگی کی تحقیقات کرنے والی کمیٹی نے بدھ کو اپنی رپورٹ میں کہا کہ ابتدائی شواہد کے مطابق آگ ممکنہ طور پر بجلی کے مقامی نظام میں خرابی کے باعث لگی، تاہم اسپتال انتظامیہ کی انتظامی اور ادارہ جاتی ناکامی نے واقعے کو بڑے سانحے میں تبدیل کردیا۔
تحقیقاتی کمیٹی نے سی سی ٹی وی فوٹیج کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ہنگامی صورت حال انتہائی تیزی سے پیدا ہوئی، جبکہ شواہد اس عمومی الزام کی تائید نہیں کرتے کہ اسپتال کا سامنے موجود عملہ نومولودوں کو چھوڑ کر فرار ہوگیا تھا۔ واقعے کے بعد وزیراعظم کی ہدایت پر 8 اہلکاروں کے خلاف معطلی اور فوجداری کارروائی بھی شروع کی گئی تھی۔














