پی ٹی آئی نے دعوت دی لیکن جے یو آئی 27 ستمبر کے احتجاج میں شریک نہیں ہوگی، کامران مرتضیٰ

بدھ 16 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

جمعیت علمائے اسلام (ف) کے مرکزی رہنما کامران مرتضیٰ نے کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف نے 27 ستمبر کے احتجاج میں شرکت کی دعوت دی ہے، تاہم ہم نے معذرت کرلی ہے، جماعت اسلامی نے دعوت دی ہے یا نہیں، اس کا مجھے معلوم نہیں۔ ہماری جماعت اپنا اکیلے احتجاج کر سکتی ہے، لیکن کسی دوسری جماعت کے ساتھ مل کر احتجاج نہیں کرےگی، اور مولانا فضل الرحمان نے بالکل واضح انداز میں یہ بات کردی تھی۔

وی نیوز ایکسکلوسیو میں گفتگو کرتے ہوئے کامران مرتضیٰ نے کہاکہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ 40 لاکھ لوگوں کے ساتھ خیبر پختونخوا سے اسلام آباد آئیں گے، 27 ستمبر کو واضح ہو جائےگا کہ ان کا یہ دعویٰ درست ہے یا نہیں۔ لیکن بطور ایک سیاسی کارکن مجھے یہ ممکن نہیں لگتا کہ 40 لاکھ لوگوں کا مارچ کسی ایک شہر یا ایک صوبے سے چل پڑے اور مرکزی دارالحکومت تک آ جائے۔

مزید پڑھیں: جے یو آئی کا پی ٹی آئی سمیت کسی سیاسی اتحاد میں شامل نہ ہونے کا فیصلہ

انہوں نے کہاکہ 40 لاکھ چار ملین لوگ ہوتے ہیں، اب تک جو سب سے بڑے مارچ یا جلوس ہوئے ہیں، ان میں جے یو آئی کا مارچ بھی شامل ہے۔

کامران مرتضیٰ نے کہا کہ ہر پارٹی اپنی پارٹی کی پالیسی کے مطابق بہتر انداز میں آگے بڑھ سکتی ہے، پی ٹی آئی کے موجودہ حکومت کے ساتھ اختلافات ہیں، وہ سمجھتے ہوں گے کہ شاید احتجاج کی صورت میں ان کے معاملات حل ہو سکیں۔

انہوں نے کہاکہ اب دونوں جانب ایک امتحان شروع ہو چکا ہے، ایک امتحان شاید پی ٹی آئی کا ہے اور دوسرا حکومت کا۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ اس امتحان میں کون کامیاب ہوتا ہے اور کون ناکام رہتا ہے۔ ممکن ہے کہ یہ صورت حال دونوں فریقوں کے لیے زندگی اور موت کا مسئلہ بن جائے۔

انہوں نے کہاکہ اس وقت ہماری نظر ان دونوں مارچوں پر ہے۔ جماعت اسلامی کے مارچ کے نتائج دیکھیں گے، جو ان کے بقول مہنگائی اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔ اسی طرح پی ٹی آئی عمران خان کے حوالے سے اسلام آباد آنا چاہتی ہے۔ ہم دونوں معاملات کا بغور جائزہ لیں گے، ان کا مطالعہ کریں گے اور اس کے بعد اپنی جماعت کا آئندہ لائحہ عمل طے کریں گے۔

کامران مرتضیٰ نے کہاکہ مہنگائی کے حوالے سے یا باقی دیگر حوالوں سے مارچز کو لے کر سوچ موجود ہے، مگر فی الحال اس کو عملی جامہ نہیں پہنا رہے، ہم دیکھ رہے ہیں اور غور کررہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان پنجاب کے دورے اور اس سے قبل سندھ کے دورے سے واپس آئے ہیں۔ 17 ستمبر کو وہ کراچی جائیں گے اور اس کے بعد پشاور کا دورہ کریں گے۔ جمعیت علمائے اسلام میں کارکنوں کا لہو گرم رکھنے اور سیاسی سرگرمیاں برقرار رکھنے کا جذبہ بدستور موجود ہے۔

جے یو آئی کے رہنما نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان نے اسی وقت واضح کر دیا تھا کہ اپوزیشن کا یہ اتحاد صرف پارلیمان کی حد تک ہے۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ اگر کسی کو اس اتحاد کی ضرورت محسوس ہو رہی ہے تو وہ ہم سے زیادہ پی ٹی آئی کو محسوس ہو رہی ہے۔ وہ آگے بڑھیں گے تو پھر ہم اس معاملے کا جائزہ لیں گے اور اسے پرکھیں گے۔

کامران مرتضیٰ نے کہا کہ پی ٹی آئی کی جانب سے پیش قدمی صرف اس حد تک تھی کہ انہوں نے اس اتحاد کی بنیاد پر یہ توقع کی کہ شاید ہم بھی 27 ستمبر کو ان کے احتجاج میں شریک ہو جائیں گے۔ تاہم، میرے خیال میں یہ ان کی جانب سے پہلے سے طے شدہ معاملے سے آگے بڑھ کر کی جانے والی سوچ تھی، جو ہمارے لیے ممکن نہیں تھی۔

انہوں نے کہا کہ جب تک تمام معاملات بالکل واضح نہ ہو جائیں، آپس کے اختلافات کی دھند چھٹ نہ جائے اور تمام امور طے نہ ہو جائیں، اس وقت تک ہمارے لیے مزید آگے بڑھنا مشکل ہے۔

صوبوں کی تعداد بڑھانے سے متعلق سوال پر کامران مرتضیٰ نے کہا کہ نئے صوبوں کی ضرورت ہے یا نہیں، یہ طے کرنا اسمبلیوں کا کام ہوتا ہے اور اس کے لیے طریقہ کار دستور میں درج ہے۔ اس طریقہ کار کو تبدیل کرنا اور کوئی ماورائے دستور طریقہ کار وضع کرنا غیر مناسب ہوگا، اس سے ایک نیا مسئلہ کھڑا ہو جائےگا۔

انہوں نے کہا کہ دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ ان اسمبلیوں کی حیثیت پر سوالیہ نشان موجود ہے، اور اس سوالیہ نشان کی موجودگی میں اتنا بڑا قدم اٹھانا، جو آگے چل کر پاکستان کے مستقبل کا تعین کرے، اس وقت قبل از وقت ہوگا۔

تحریک عدم اعتماد کے حوالے سے سوال پر کامران مرتضیٰ نے کہا کہ فی الحال ایسا کوئی معاملہ نہیں، اس پر ابھی تک غور بھی نہیں کیا گیا، اس لیے اس حوالے سے کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا۔ کل حالات کیا رخ اختیار کرتے ہیں اور ان حالات میں کیا اقدام کرنا پڑتا ہے یا پارٹی کیا فیصلہ مناسب سمجھتی ہے، اس بارے میں مجھے معلوم نہیں، تاہم اب تک یہ معاملہ پارٹی کے سامنے زیر غور نہیں آیا۔

انہوں نے کہا کہ ویسے بھی یہ معاملہ اس لیے زیرِ غور نہیں آیا کیونکہ جب تک پیپلز پارٹی اپنی موجودہ پوزیشن تبدیل کرکے مسلم لیگ (ن) کو دیا گیا سیاسی سہارا واپس نہیں لیتی اور اس طرف نہیں آتی، تب تک یہ ممکن نہیں ہوگا۔

کامران مرتضیٰ نے کہا کہ میرے خیال میں تحریک عدم اعتماد کے بجائے نئے انتخابات کرانا زیادہ بہتر ہوگا، وہ بھی شفاف اور آزادانہ ہوں، تاکہ عوام اپنے نمائندے منتخب کر سکیں اور پاکستان درست سمت میں آگے بڑھ سکے۔

مزید پڑھیں: علی امین گنڈاپور پی ٹی آئی کے گوربا چوف، جے یو آئی نے فضل الرحمان کے خلاف بیان پر وضاحت مانگ لی

کامران مرتضیٰ نے کہا کہ عمران خان کو شفا اسپتال منتقل کرنے کے معاملے پر آئینی عدالت نے قرار دیا ہے کہ یہ معاملہ آئینی عدالت میں منتقل کیا جائے، جس کے بعد اب یہ معاملہ عدالتی تنازع بن گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اب یہ معاملہ حکومت بمقابلہ پی ٹی آئی تک محدود نہیں رہا بلکہ عدالت بمقابلہ عدالت کی صورت اختیار کر گیا ہے۔ اب دیکھنا ہوگا کہ آئندہ ہونے والی سماعت میں کیا پیشرفت ہوتی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp