امریکی محکمہ جنگ نے نامعلوم فضائی مظاہر سے متعلق فائلوں کی چھٹی کھیپ جاری کردی ہے جس میں 1952 میں ریاست یوٹا کے علاقے ٹریمونٹن کے قریب امریکی بحریہ کے ایک فوٹوگرافر کی بنائی گئی مشہور فلم سمیت کئی دہائیوں پرانے اور حالیہ واقعات کے ریکارڈ شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پینٹاگون نے 80 برس پرانے راز افشا کردیے، اڑن طشتریوں سے متعلق خفیہ فائلیں بالاخر جاری
یہ تازہ دستاویزات امریکی حکومت کی جانب سے نامعلوم فضائی مظاہر سے متعلق ریکارڈ عوام کے سامنے لانے کے سلسلے کا حصہ ہیں۔ حکام کے مطابق مزید فائلیں بھی مرحلہ وار جاری کی جائیں گی۔
نیوی فوٹوگرافر نے آسمان پر کیا دیکھا؟
2 جولائی 1952 کو امریکی بحریہ کے وارنٹ افسر اور فوٹوگرافر ڈیلبرٹ سی نیو ہاؤس اپنے خاندان کے ساتھ سفر کررہے تھے کہ ٹریمونٹن کے قریب ان کی اہلیہ نے آسمان میں کچھ غیر معمولی روشن اشیا دیکھیں۔
فوٹوگرافر ڈیلبرٹ سی نیو ہاؤس نے گاڑی روک کر خود بھی ان اشیا کا مشاہدہ کیا اور اپنی 16 ملی میٹر فلمی کیمرے سے ان کی ویڈیو بنائی۔ دستیاب ریکارڈ کے مطابق آسمان میں تقریباً 10 سے 14 روشن اشیا موجود تھیں جو ایک ڈھیلی سی ترتیب میں حرکت کرتی دکھائی دیتی تھیں۔
نیو ہاؤس نے بعد میں ان اشیا کی شکل کو 2 طشتریوں جیسی قرار دیا جو ایک دوسرے کے اوپر رکھی ہوئی ہوں یعنی وہی شکل جسے عام طور پر ’اڑن طشتری‘ کہا جاتا ہے۔
فلم کی طویل عرصے تک جانچ پڑتال
نیو ہاؤس کی بنائی گئی فلم امریکی فضائیہ اور بحریہ کے ماہرین کی توجہ کا مرکز بنی اور اس کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ بعض سرکاری تجزیوں میں پرندوں یا دیگر قدرتی اشیا کے امکان پر بھی غور کیا گیا جبکہ بعض تجزیوں میں یہ سوال برقرار رہا کہ فلم میں نظر آنے والی اشیا کی نوعیت آخر کیا تھی۔
مزید پڑھیے: ماہرین فلکیات کو چاند پر بھی ’اڑن طشتریاں‘ دکھائی دے گئیں، ماجرا کیا ہے؟
دستیاب تاریخی ریکارڈ میں امریکی فضائیہ کے ایک تجزیے کا ذکر بھی ملتا ہے جس میں اشیا کو پرندوں یا غباروں کے طور پر بیان کرنا مشکل قرار دیا گیا تاہم حتمی طور پر ان کی شناخت نہیں کی جاسکی۔
BREAKING: The government is opening up more UFO files.
Newly released material includes a film tied to a 1952 Utah sighting, along with more recent videos showing mysterious objects in the sky. The Pentagon says some cases remain unresolved, meaning officials cannot definitively… pic.twitter.com/jRHuxL6lL4
— Fox News (@FoxNews) September 18, 2026
یہی وجہ ہے کہ ٹریمونٹن کی فلم کئی دہائیوں بعد بھی امریکی یو ایف او تاریخ کے سب سے زیادہ زیر بحث واقعات میں شمار ہوتی ہے۔
فائلوں میں حالیہ واقعات بھی شامل
تازہ جاری کردہ کھیپ صرف سنہ 1952 کے واقعے تک محدود نہیں۔ اس میں حالیہ برسوں کے نامعلوم فضائی مظاہر سے متعلق ویڈیوز، تصاویر اور عینی شاہدین کی رپورٹس بھی شامل ہیں۔
حالیہ جاری کردہ ریکارڈ میں سال 2025 میں مشرق وسطیٰ کے اوپر تقریباً 480 میل فی گھنٹہ کی رفتار سے حرکت کرنے والی 6 کروی اشیا کی ایک رپورٹ بھی شامل ہے جن کے بارے میں بتایا گیا کہ انہوں نے دورانِ پرواز بار بار سمت تبدیل کی۔
ارب پتی رابرٹ بگلو کی کمپنی کا کردار بھی سامنے آگیا
تازہ فائلوں کا ایک اہم حصہ امریکی حکومت کی جانب سے نامعلوم فضائی مظاہر کی تحقیق پر ہونے والے اخراجات سے متعلق ہے۔
دستاویزات میں سنہ 2008 کی ایک رپورٹ بھی شامل ہے جس کے مطابق ایسے مظاہر اور ممکنہ جدید فضائی ٹیکنالوجی سے متعلق تحقیق پر تقریباً 2 کروڑ 20 لاکھ ڈالر کا سرکاری پروگرام چلایا گیا تھا۔ اس کام کے لیے ارب پتی کاروباری شخصیت رابرٹ بگلو کی کمپنی بگلو ایرو اسپیس ایڈوانسڈ اسپیس اسٹڈیز کو ٹھیکہ دیا گیا تھا۔
مزید پڑھیں: یو ایف او فائلز جاری ہونے کے بعد نئی بحث: حقیقت، راز یا محض غلط فہمیاں؟
یہ پروگرام دفاعی انٹیلی جنس ایجنسی کے تحت چلنے والے ایڈوانسڈ ایرو اسپیس ویپن سسٹم ایپلی کیشنز پروگرام سے منسلک تھا، جس میں مستقبل کی فضائی ٹیکنالوجی اور ممکنہ خطرات سے متعلق مختلف شعبوں کا مطالعہ کیا گیا۔
تحقیق کے دائرے میں جدید مواد، توانائی، نقل و حرکت اور ایسی نظریاتی ٹیکنالوجیز بھی شامل تھیں جنہیں مستقبل کی فضائی ٹیکنالوجی سے جوڑا جاتا ہے۔ تاہم ان موضوعات کا دستاویزات میں شامل ہونا اس بات کا ثبوت نہیں کہ ان ٹیکنالوجیز کو عملی طور پر حاصل کرلیا گیا تھا۔
کیا نئی فائلوں سے سنہ 1952 کا معمہ حل ہوگیا؟
نہیں۔ امریکی حکومت کے جاری کردہ پورٹل کے مطابق ان فائلوں میں شامل کیسز کو فی الحال غیر حل شدہ واقعات سمجھا جاتا ہے یعنی دستیاب معلومات کی بنیاد پر ان کی حتمی نوعیت طے نہیں کی جاسکی۔
اس لیے نئی فائلوں کی اہمیت اس بات میں زیادہ ہے کہ وہ کئی دہائیوں پرانے واقعات، فوجی تحقیقات اور سرکاری پروگراموں سے متعلق مزید اصل مواد عوام کے سامنے لے آئی ہیں نہ کہ اس بات میں کہ ان سے کسی غیر زمینی مخلوق یا خلائی گاڑی کے وجود کی تصدیق ہوگئی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: اڑن طشتری والی مخلوق کا تعلق کس سیارے سے ہے، انوکھا نقطہ نظر
امریکی حکومت نے کہا ہے کہ یو ایف او یا نامعلوم فضائی مظاہر سے متعلق مزید ریکارڈ بھی مرحلہ وار جاری کیے جائیں گے۔













