گھی اور خوردنی تیل کی ترسیل کے کرایوں میں گٹھ جوڑ ثابت، ایڈیبل آئل ٹینکر اونرز ایسوسی ایشن پر 6 کروڑ جرمانہ

ہفتہ 19 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

مسابقتی کمیشن پاکستان نے خوردنی تیل اور گھی کی ترسیل کے کرایوں کے اجتماعی تعین اور کاروبار کی تقسیم سے متعلق مسابقتی قوانین کی خلاف ورزی ثابت ہونے پر آل پاکستان ایڈیبل آئل ٹینکر اونرز ایسوسی ایشن پر 6 کروڑ روپے جرمانہ عائد کردیا۔

مسابقتی کمیشن کے مطابق ایسوسی ایشن نے ٹینکرز کے ذریعے خوردنی تیل اور گھی کی ترسیل کے کرایے باہمی طور پر طے کیے اور کاروبار کو آزادانہ مسابقت کے بجائے ’پرچی‘ اور ’باری‘ کے نظام کے تحت تقسیم کیا۔

کرایوں کے اجتماعی تعین پر 3 کروڑ جبکہ کاروبار کی تقسیم کے طریقہ کار پر مزید 3 کروڑ روپے جرمانہ کیا گیا ہے۔

سی سی پی کے فیصلے کے مطابق ڈیزل کی قیمت میں ایک روپے اضافے پر ٹرانسپورٹ کرایہ 0.75 فیصد بڑھانے کا فارمولہ طے کیا گیا تھا، جبکہ ڈیزل ایک روپے سستا ہونے کی صورت میں کرایے میں صرف 0.5 فیصد کمی کی جاتی تھی۔ یوں ایندھن کی قیمت میں یکساں تبدیلی کے باوجود کرایہ بڑھانے کی شرح، کمی کی شرح سے 50 فیصد زیادہ رکھی گئی تھی۔

کمیشن کے مطابق 6 سال کے دوران ٹرانسپورٹ کرایوں میں 89 مرتبہ اجتماعی ردوبدل کیا گیا، جن میں 52 مرتبہ اضافہ اور 37 مرتبہ کمی شامل تھی۔ رعایتی نرخوں پر سامان منتقل کرنے والے ٹینکر مالکان کو بلیک لسٹ کرنے کی دھمکیاں دی گئیں، جبکہ رعایتی کرایے کا مطالبہ کرنے والی ملوں کو خوردنی تیل کی سپلائی روکنے کی دھمکی بھی دی گئی۔

سی سی پی نے بتایا کہ ایسوسی ایشن کے نظام کے تحت ٹینکرز کو کاروبار آزادانہ مسابقت کی بنیاد پر دینے کے بجائے پرچی اور باری کے طریقہ کار سے مختص کیا جاتا تھا۔ مخصوص شرائط کی خلاف ورزی پر ٹینکر اور اس کے مالک دونوں کے لیے الگ الگ 5 لاکھ روپے جرمانہ مقرر تھا۔

فیصلے کے مطابق شوکاز نوٹس جاری ہونے کے باوجود اگست 2026 میں ایسوسی ایشن کی جانب سے 81 مقامات کے لیے نئے ٹرانسپورٹ کرایوں کا سرکلر جاری کیا گیا۔

کمیشن نے خبردار کیا کہ ٹرانسپورٹ لاگت میں اضافے کے نتیجے میں گھی اور خوردنی تیل جیسی ضروری اشیا مزید مہنگی ہوکر عوام کی پہنچ سے دور ہوسکتی ہیں۔

مسابقتی کمیشن کے مطابق ایسوسی ایشن کے ساتھ تقریباً 2 ہزار 362 ٹینکرز اور 1 ہزار 700 مالکان رجسٹرڈ تھے، جبکہ روزانہ 250 سے 300 ایسوسی ایشن ٹینکرز بندرگاہوں پر آتے تھے۔

دوسری جانب این ایل سی کے 50 سے 60 ٹینکرز موجود تھے، جس کے باعث 2 بڑے کھلاڑیوں کے درمیان مقابلے میں آئل ٹینکرز ایسوسی ایشن کا حصہ تقریباً 83 فیصد بنتا تھا۔

سی سی پی کے مطابق ایسوسی ایشن کی جانب سے جاری ایک سرکلر میں کراچی سے باہر 81 مقامات تک گھی کی ترسیل کے کرائے مقرر کیے گئے تھے، جبکہ چربی کی کراچی سے باہر 53 اور کراچی کے اندر 18 مقامات تک ترسیل کے نرخ بھی طے کیے گئے تھے۔

کمیشن کے فیصلے میں بتایا گیا کہ آل پاکستان ایڈیبل آئل ٹینکر اونرز ایسوسی ایشن اور پاکستان وناسپتی مینوفیکچررز ایسوسی ایشن کے درمیان ٹرانسپورٹ کرایوں کے تعین کا معاہدہ موجود تھا۔ آئل ٹینکرز ایسوسی ایشن کے نمائندوں نے بھی کرایوں کے باہمی معاہدے کے تحت طے ہونے کا اعتراف کیا۔ یہ معاہدہ 2011 میں کیا گیا تھا جسے 2022 میں اپ ڈیٹ کیا گیا۔

سی سی پی نے تلاشی کے دوران گزشتہ 6 سال کے ریٹ سرکلرز، معاہدے اور کمپیوٹر میں محفوظ ریکارڈ قبضے میں لیے۔ کمیشن کے مطابق اس کے ایک سابقہ فیصلے میں بھی پاکستان وناسپتی مینوفیکچررز ایسوسی ایشن کے آئل ٹینکرز ایسوسی ایشنز کے ساتھ ٹرانسپورٹ کرایے طے کرنے کے معاہدے سامنے آئے تھے۔

اسی فیصلے میں قیمتوں کے تعین کے معاملے پر پی وی ایم اے کو کمپٹیشن ایکٹ کی دفعہ 4 کی خلاف ورزی پر 5 کروڑ روپے جرمانہ کیا گیا تھا۔

مسابقتی کمیشن پاکستان نے موجودہ فیصلے میں ٹرانسپورٹ کرایوں کے اجتماعی تعین اور پرچی و باری کے نظام کو فوری طور پر ختم کرنے کا حکم بھی دے دیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp