امریکا اور ڈنمارک کا گرین لینڈ میں امریکی فوجی موجودگی بڑھانے پر اتفاق، ٹرمپ کا دعویٰ

ہفتہ 19 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا، ڈنمارک اور گرین لینڈ کے درمیان ایک معاہدہ طے پا گیا ہے جس کے تحت امریکا کو گرین لینڈ میں اپنی فوجی موجودگی نمایاں طور پر بڑھانے کی اجازت ہوگی، جبکہ جزیرے میں امریکا کے مخالف ممالک کو فوجی اڈے قائم کرنے یا حساس سرمایہ کاری سے روک دیا جائے گا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعے کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر بیان میں کہا کہ امریکا کو گرین لینڈ کی سلامتی اور دفاع کے لیے وہاں ضروری اقدامات کرنے کی مستقل اجازت حاصل ہوگی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ معاہدے کی کوئی مدت ختم ہونے کی تاریخ نہیں اور امریکا کے دشمن ممالک امریکی منظوری کے بغیر گرین لینڈ میں حساس سرمایہ کاری نہیں کر سکیں گے۔

یہ بھی پڑھیے اگر امریکا گرین لینڈ پر قبضہ نہیں کرے گا تو چین اور روس کرلیں گے جو قابل قبول نہیں، ڈونلڈ ٹرمپ

اس سے قبل خبر رساں ادارے رائٹرز نے خبر دی تھی کہ امریکا اور ڈنمارک ایک ایسے معاہدے کے قریب پہنچ گئے ہیں جس سے گرین لینڈ میں امریکی فوجی موجودگی میں اضافہ ہوگا، تاہم یہ معاہدہ ٹرمپ کے گرین لینڈ کو امریکا کا حصہ بنانے کے دیرینہ مطالبے سے کہیں کم ہے۔

امریکا کو 1951 کے ایک معاہدے کے تحت پہلے ہی گرین لینڈ میں فضائی حدود استعمال کرنے اور فوجی اڈے قائم رکھنے کے تقریباً مکمل حقوق حاصل ہیں۔ گرین لینڈ کے شمال مغربی علاقے میں امریکی اسپیس فورس کا ایک اڈہ بھی موجود ہے۔

ڈنمارک کے وزیراعظم کے دفتر نے کہا ہے کہ معاہدہ شمالی بحر اوقیانوس اور آرکٹک خطے کی سلامتی کو مضبوط بنائے گا۔

گرین لینڈ کے وزیراعظم یینس فریڈرک نیلسن نے کہا کہ معاہدے میں گرین لینڈ کے مفادات اور عالمی تعاون میں اس کی حیثیت کو تسلیم کیا گیا ہے۔ تاہم یہ واضح نہیں کہ معاہدے کے نتیجے میں گرین لینڈ میں امریکا کے نئے فوجی اڈے قائم کیے جائیں گے یا نہیں۔

یہ بھی پڑھیے ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر گرین لینڈ پر امریکی کنٹرول کا مطالبہ دہرادیا، ڈنمارک کا دوٹوک انکار

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا کہ معاہدہ گرین لینڈ سے متعلق واشنگٹن کے قومی سلامتی کے خدشات کو مستقل طور پر رفع کرتا ہے۔

امریکی محکمہ خارجہ کے ایک عہدیدار کے مطابق معاہدے کے تحت غیر نیٹو ممالک کو گرین لینڈ میں فوجی اڈہ قائم کرنے سے روکا جائے گا، جبکہ امریکا اور اس کے اتحادیوں کو حساس نوعیت کی سرمایہ کاری کی اجازت ہوگی۔ عہدیدار کے مطابق امریکا کو مستقل رسائی، فوجی اڈوں کے استعمال اور فضائی حدود سے گزرنے کے حقوق حاصل ہوں گے اور یہ انتظام گرین لینڈ کے مستقبل میں آزاد ہونے کی صورت میں بھی برقرار رہے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp