یوئیفا اور کونکاکاف نے فیفا کے صدر جانی انفانٹینو سے ادارے کے بڑھتے ہوئے مالی ذخائر میں سے 2.1 ارب ڈالر یکمشت جاری کرنے کا مطالبہ کردیا، جس میں فیفا کی تمام 211 رکن ایسوسی ایشنز کو فٹبال کے فروغ اور بنیادی ڈھانچے کے لیے فنڈز دینے کی تجویز شامل ہے۔
دی نیوز کے مطابق یوئیفا کے صدر الیگزینڈر سیفرین اور کونکاکاف کے صدر وکٹر مونٹاگلیانی نے مشترکہ خط کے ذریعے جانی انفانٹینو سے مطالبہ کیا ہے کہ 2027 سے 2030 کے مالیاتی دور کے لیے فیفا کے ذخائر سے ایک مرتبہ کی رقم جاری کی جائے۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق دونوں کنفیڈریشنز نے تجویز دی ہے کہ فیفا کی ہر رکن فٹبال ایسوسی ایشن کو ایک کروڑ ڈالر دیے جائیں، جس سے مجموعی طور پر 211 رکن ممالک کے لیے 2.11 ارب ڈالر کی رقم بنتی ہے۔ یہ رقم فٹبال کے بنیادی ڈھانچے اور ترقیاتی منصوبوں پر خرچ کرنے کے لیے مختص کرنے کی تجویز ہے۔
FIFA revolt: UEFA, CONCACAF demand $2.1 billion World Cup reserve payout to members #FIFA #UEFA #CONCACAF #GianniInfantino #FootballNewshttps://t.co/5I42v8gJTK
— Mathrubhumi English (@mathrubhumieng) September 18, 2026
رپورٹ کے مطابق فیفا کے مالی ذخائر 2023 سے 2026 کے مالیاتی دور کے اختتام تک تقریباً 6 ارب ڈالر تک پہنچنے کا امکان ہے۔ یوئیفا اور کونکاکاف کا مؤقف ہے کہ فیفا کے پاس اتنے بڑے ذخائر موجود ہیں کہ رکن ایسوسی ایشنز کو یہ رقم بیرونی سرمایہ کاری کے بغیر اپنے مالی وسائل سے فراہم کی جاسکتی ہے۔
یہ مطالبہ فیفا کے ایک متنازع نجی ایکویٹی منصوبے کے خاتمے کے بعد سامنے آیا ہے۔ اس منصوبے کے تحت فیفا کے تجارتی ایونٹس میں تقریباً 20 فیصد حصص نجی سرمایہ کاری کے ذریعے فروخت کرنے کی تجویز زیر غور تھی، جس کی قیادت امریکی سرمایہ کار جوشوا کشنر سے منسلک نجی ایکویٹی گروپ کررہا تھا۔
یہ بھی پڑھیں:فیفا صدر جیانی انفینٹینو کے خلاف سوئس عدالت میں مقدمے کی تیاری، یوئیفا نے شواہد طلب کر لیے
رپورٹ کے مطابق یوئیفا اور کونکاکاف کی جانب سے مالی ذخائر تقسیم کرنے کا مطالبہ فیفا کی قیادت اور مستقبل کی مالی حکمت عملی سے متعلق اختلافات کے پس منظر میں سامنے آیا ہے۔ دونوں کنفیڈریشنز کی جانب سے یہ دباؤ ایسے وقت میں بڑھایا گیا ہے جب فیفا کے آئندہ صدارتی انتخاب کی تیاری جاری ہے۔














