پاکستان نے کوہاٹ خودکش حملے پر افغان طالبان کی جانب سے مذمت کو ناکافی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ افغان وزارت خارجہ کے بیان میں دہشتگردی کا ذکر تک نہیں کیا گیا، صرف مذمت کافی نہیں بلکہ اسے عملی اقدامات کے ساتھ ثابت کرنا ہوگا۔
وزارت اطلاعات کے مطابق پاکستان نے افغان طالبان سے دہشتگردوں کے ٹھکانوں اور ان کے معاون نیٹ ورکس کے خلاف قابل اعتماد اور مؤثر کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کوہاٹ: پولیس لائنز مسجد خودکش حملے کے اہم شواہد مل گئے، حملہ آور غیرملکی نکلا
بیان میں کہا گیا ہے کہ کوہاٹ حملہ افغانستان میں جڑیں رکھنے والے فتنہ الخوارج کے دہشتگردوں نے کیا، جو اس بات کی یاد دہانی ہے کہ دہشتگردی کا نہ کوئی مذہب ہے اور نہ ہی کوئی جواز۔ دہشتگردی میں ملوث، سہولت کاری کرنے والے یا دہشتگردوں کو پناہ دینے والے انسانیت کے بدترین دشمن ہیں۔
وزارت اطلاعات کا کہنا ہے کہ افغانستان کی سرزمین کو فتنہ الخوارج اور دیگر دہشتگرد گروہوں کی جانب سے پاکستان میں دہشتگرد حملوں کی منصوبہ بندی اور کارروائیوں کے لیے استعمال کیے جانے پر بارہا سنگین تحفظات کا اظہار کیا گیا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ افغانستان میں دہشتگردوں کی پناہ گاہوں کے ساتھ ساتھ بھرتی اور معاونت کا بنیادی ڈھانچہ پاکستان کی سیکیورٹی کے لیے براہ راست خطرہ ہے۔ یہ تحفظات افغان طالبان حکومت اور اس کے رابطہ کاروں تک بارہا پہنچائے جاچکے ہیں، انہیں ذمہ داری سے پہلو تہی کرنے کے بجائے ان نیٹ ورکس کو ختم کرنا ہوگا۔
We strongly condemn the barbaric terrorist attack on civilians and Police officials offering Juma prayers in Kohat. The attack, perpetrated by the vilest of Khwarij with roots in Afghanistan, reminds us that terrorism has no religion and no justification. Those who perpetrate,…
— Ministry of Information & Broadcasting (@MoIB_Official) September 19, 2026
پاکستان نے افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کی جانب سے پاکستان کو ‘کچل دینے والے جواب’ کی دھمکی کو قابل مذمت قرار دیتے ہوئے کہا کہ افغان طالبان حکومت پاکستان میں دہشتگردی کی سرپرستی کررہی ہے۔
پاکستان نے کہا کہ افغان طالبان کو پاکستان کے خلاف دہشتگردی کے لیے استعمال ہونے والے نظام سے نمٹنا چاہیے، نہ کہ ذمہ داری دوسروں پر ڈالنے اور پاکستان کو بدنام کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔
یہ بھی پڑھیں: کوہاٹ پولیس لائنز پر دہشتگرد حملہ، 8 حملہ آور ہلاک، خارجی گل بہادر گروپ نے ذمہ داری قبول کرلی
بیان میں کہا گیا کہ اس طرح کی کوششیں دوحہ معاہدے کے تحت افغان طالبان کی انسداد دہشتگردی کی ذمہ داریوں اور اس عزم کو چھپا نہیں سکتیں کہ افغان سرزمین دوسرے ممالک کے خلاف خطرات کے لیے استعمال نہیں ہونے دی جائے گی۔
پاکستان نے افغان وزارت خارجہ کی جانب سے ‘کوہاٹ حملے’ کی مذمت اور متاثرہ خاندانوں سے اظہار ہمدردی کا نوٹس لیتے ہوئے کہا کہ افغان بیان میں دہشتگردی کا ذکر نہیں کیا گیا۔ تاہم صرف مذمت کافی نہیں، اسے عملی اقدامات کے ساتھ ثابت کرنا ہوگا۔
پاکستان نے افغان طالبان سے مطالبہ کیا کہ دہشتگردوں کی پناہ گاہیں ختم کرنے، انتہاپسندوں کی بھرتی اور تربیت کے نیٹ ورکس کو توڑنے اور دہشتگرد گروہوں کو پاکستان کے خلاف حملوں کی منصوبہ بندی، سہولت کاری یا کارروائی سے روکنے کے لیے قابل اعتماد، قابل تصدیق اور مسلسل اقدامات کیے جائیں۔
یہ بھی پڑھیں: خیبر پختونخوا: کوہاٹ میں پولیس پر حملہ، ڈی ایس پی سمیت 5 اہلکار شہید، 2 مشتبہ افراد ہلاک
پاکستان نے کہا کہ اس نے افغان طالبان کے ساتھ مسلسل مذاکرات اور تعمیری رابطے کی پالیسی اختیار کی ہے، تاہم مذاکرات کا بہانہ ان عناصر کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے استعمال نہیں ہونے دیا جائے گا جو پاکستانی عوام کے لیے خطرہ ہیں۔
بیان کے مطابق پاکستان کے پاس دہشتگرد خطرات کے خاتمے کا عزم اور صلاحیت دونوں موجود ہیں اور شہریوں، سرزمین اور خودمختاری کے تحفظ کے لیے بین الاقوامی قانون کے مطابق تمام ضروری اقدامات کیے جائیں گے۔














