پاکستان اور امریکا نے ڈیجیٹل اثاثوں کی ریگولیشن کے حوالے سے باہمی رابطوں میں اضافہ کر دیا ہے، جس کا مقصد ورچوئل اثاثوں کی مارکیٹ کے لیے محفوظ اور پائیدار ضابطہ کار تشکیل دینا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم شہباز شریف کی ورچوئل اثاثہ جات ریگولیٹری نظام جلد مکمل فعال بنانے کی ہدایت
امریکی ناظم الامور نٹالی بیکر نے اتوار کو وزیر مملکت اور پاکستان ورچوئل ایسٹس ریگولیٹری اتھارٹی کے سربراہ بلال بن ثاقب سے ملاقات میں پاکستان میں ڈیجیٹل اثاثوں سے متعلق ریگولیٹری ماحول میں ہونے والی حالیہ پیش رفت پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
Minister for State and Chairman Pakistan Virtual Assets Regulatory Authority, Bilal Bin Saqib, meets with U.S Charge d’Affaires Natalie Baker in Islamabad. pic.twitter.com/mQpJeW6Yei
— Latif Shah (@LatifShah27163) September 20, 2026
بلال بن ثاقب نے امریکی سفارتکار کو پاکستان کے ڈیجیٹل اثاثوں کے شعبے میں ہونے والی پیش رفت اور ورچوئل اثاثوں کی مارکیٹ کے لیے جدید، مضبوط اور شفاف ریگولیٹری فریم ورک تشکیل دینے کی کوششوں سے آگاہ کیا۔
مزید پڑھیں: کرپٹو کرنسی کی اجازت: عام کرنسی کو ڈیجیٹل کرنسی میں کیسے منتقل کیا جاسکے گا؟
ملاقات میں مجموعی ڈیجیٹل معیشت سے متعلق امور بھی زیر بحث آئے، بالخصوص جدت اور مالیاتی شفافیت پر توجہ مرکوز کی گئی۔
اس اقدام کا مقصد پاکستان کی ورچوئل اثاثوں کی مارکیٹ کو بین الاقوامی معیارات سے ہم آہنگ کرنا ہے۔














