ورچوئل اثاثوں کے لیے مضبوط ضابطہ کار، پاکستان اور امریکا میں مشاورت

پیر 21 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان اور امریکا نے ڈیجیٹل اثاثوں کی ریگولیشن کے حوالے سے باہمی رابطوں میں اضافہ کر دیا ہے، جس کا مقصد ورچوئل اثاثوں کی مارکیٹ کے لیے محفوظ اور پائیدار ضابطہ کار تشکیل دینا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم شہباز شریف کی ورچوئل اثاثہ جات ریگولیٹری نظام جلد مکمل فعال بنانے کی ہدایت

امریکی ناظم الامور نٹالی بیکر نے اتوار کو وزیر مملکت اور پاکستان ورچوئل ایسٹس ریگولیٹری اتھارٹی کے سربراہ بلال بن ثاقب سے ملاقات میں پاکستان میں ڈیجیٹل اثاثوں سے متعلق ریگولیٹری ماحول میں ہونے والی حالیہ پیش رفت پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

بلال بن ثاقب نے امریکی سفارتکار کو پاکستان کے ڈیجیٹل اثاثوں کے شعبے میں ہونے والی پیش رفت اور ورچوئل اثاثوں کی مارکیٹ کے لیے جدید، مضبوط اور شفاف ریگولیٹری فریم ورک تشکیل دینے کی کوششوں سے آگاہ کیا۔

مزید پڑھیں: کرپٹو کرنسی کی اجازت: عام کرنسی کو ڈیجیٹل کرنسی میں کیسے منتقل کیا جاسکے گا؟

ملاقات میں مجموعی ڈیجیٹل معیشت سے متعلق امور بھی زیر بحث آئے، بالخصوص جدت اور مالیاتی شفافیت پر توجہ مرکوز کی گئی۔

اس اقدام کا مقصد پاکستان کی ورچوئل اثاثوں کی مارکیٹ کو بین الاقوامی معیارات سے ہم آہنگ کرنا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp