مقبوضہ جموں و کشمیر کی قانون ساز اسمبلی کے خزاں اجلاس کے پہلے روز ریاستی حیثیت کی بحالی کا مطالبہ چھایا رہا۔ اس دوران اپوزیشن ارکان نے بھارتی حکومت سے مکمل ریاستی حیثیت بحال کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے بی جے پی ارکان پر الزام عائد کیا کہ وہ بحالی کے مشترکہ مطالبے کو روکنے کے لیے کارروائی میں خلل ڈال رہے ہیں۔
کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (مارکسسٹ) کے رہنما اور کولگام سے رکن اسمبلی محمد یوسف تاریگامی نے تمام سیاسی جماعتوں سے مطالبہ کیا کہ وہ مقبوضہ جموں و کشمیر کی ریاستی حیثیت کی بحالی کے لیے حکومت پر مشترکہ طور پر دباؤ ڈالیں تاکہ اس میں مزید تاخیر نہ ہو۔
اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے تاریگامی نے کہا کہ خود قانون ساز ادارہ ’اختیارات سے محروم‘ رہا ہے، جبکہ ریاستی حیثیت کی بحالی میں مسلسل تاخیر سے عوام میں مایوسی بڑھ رہی ہے۔
انہوں نے تمام ارکان سے اپیل کی کہ وہ عوام کے اس دیرینہ مطالبے کے حق میں اپنی اجتماعی آواز بلند کریں۔ تاریگامی نے کہا کہ حکومتِ ہند نے جموں و کشمیر کی مکمل ریاستی حیثیت بحال کرنے کا بارہا عزم ظاہر کیا ہے۔
کانگریس رہنما اور ڈورو سے رکن اسمبلی غلام احمد میر نے الزام عائد کیا کہ بی جے پی ارکان نے جان بوجھ کر ہنگامہ آرائی کی تاکہ سیاسی جماعتیں بھارتی حکومت سے ریاستی حیثیت کی بحالی میں تاخیر پر مشترکہ سوال نہ کرسکیں۔
غلام احمد میر کے مطابق ریاستی حیثیت کی عدم بحالی نے منتخب حکومت کے کام کرنے اور عوامی مسائل حل کرنے کی صلاحیت بھی متاثر کی ہے۔
ڈپٹی چیف منسٹر سریندر چودھری نے بھی بی جے پی ارکان پر کارروائی میں خلل ڈالنے کا الزام عائد کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ جل جیون مشن سے متعلق کمیٹی کی رپورٹ ایوان میں پیش کیے جانے کے موقع پر بی جے پی ارکان نے ہنگامہ کیا۔
مقبوضہ جموں و کشمیر میں ریاستی حیثیت کی بحالی کا معاملہ اگست 2019 میں بھارتی حکومت کی جانب سے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے اور خطے کو 2 یونین ٹیریٹریز میں تقسیم کیے جانے کے بعد سے مسلسل سیاسی بحث کا حصہ ہے۔











