سینیگال کے دارالحکومت ڈاکار میں میں طبی عملے کی ہڑتال سے ایک روز قبل آوا دیبا نے اپنے پہلے بچے کو جنم دیا۔ ان کی 24 گھنٹے طویل زچگی نے ملک کے دباؤ کا شکار نظامِ صحت کی مشکلات کو نمایاں کر دیا۔
آوا دیبا کے مطابق اسپتال میں خواتین کی چیخ و پکار، خوف اور بنیادی سہولیات کی کمی نے صورتحال کو انتہائی پریشان کن بنا دیا تھا۔
وہ 4 دیگر خواتین کے ساتھ ایک کمرے میں موجود تھیں، جہاں چھت پر دراڑیں تھیں، پنکھا خراب تھا اور بجلی کی فراہمی بھی مسلسل نہیں تھی۔
بعض کمروں میں ایئرکنڈیشنر موجود تھے جبکہ دیگر میں یہ سہولت دستیاب نہیں تھی۔

دیبا ایک تربیت یافتہ نرس کی حیثیت سے اسپتال گئی تھیں اور وہاں سے صحت مند بیٹی کی ماں بن کر واپس آئیں۔
ان کا کہنا ہے کہ اس تجربے نے انہیں احساس دلایا کہ مسئلہ صرف چند اسپتالوں کی خراب حالت کا نہیں بلکہ پورا نظام صحت شدید دباؤ کا شکار ہے۔
جنوبی سینیگال کے علاقے کاسامانس سے تعلق رکھنے والی دیبا نے زیگینشور میں ڈیجیٹل کمیونیکیشن کی تعلیم حاصل کی، تاہم روزگار کے محدود مواقع کے باعث انہوں نے نرسنگ کا شعبہ اختیار کیا۔
وہ ڈاکار منتقل ہوئیں اور ہاپیٹل پرنسپل ڈی ڈاکار اور البرٹ روئے چلڈرن اسپتال میں تربیت حاصل کی۔

سینیگال کی نیشنل میڈیکل کونسل کے مطابق 2024 کے اختتام تک ملک میں 5,236 ڈاکٹر رجسٹرڈ تھے، جن میں 4,407 سرکاری شعبے میں خدمات انجام دے رہے تھے۔
طبی یونین کا کہنا ہے کہ مسئلہ صرف طبی عملے کی تعداد کا نہیں بلکہ بنیادی آلات اور سہولیات کی کمی بھی ایک بڑا چیلنج ہے۔
ستمبر میں ڈاکٹروں، فارماسسٹوں اور ڈینٹل سرجنز نے ہڑتال کی، جس کے دوران ہنگامی خدمات جاری رہیں تاہم معمول کی طبی سرگرمیاں متاثر ہوئیں۔
یونین مزید بھرتیوں، بہتر ملازمت اور پینشن کی شرائط اور خصوصاً ڈاکار سے باہر اسپتالوں میں سرمایہ کاری کا مطالبہ کر رہی ہے۔

دوسری جانب سینیگال کو معاشی مشکلات اور بھاری قرضوں کا بھی سامنا ہے، آئی ایم ایف کے مطابق 2025 میں ملک کی معیشت 6.7 فیصد بڑھی، تاہم 2024 کے اختتام پر سرکاری قرضہ مجموعی قومی پیداوار کے 132 فیصد تک پہنچ چکا تھا۔
مالی مشکلات کے باعث صحت کی سہولیات تک عام شہریوں کی رسائی بھی متاثر ہو رہی ہے، معائنہ، ٹیسٹ، ادویات اور علاج کے اخراجات کے باعث بعض مریض بیماری کے آخری مراحل میں اسپتال پہنچتے ہیں۔
24 گھنٹے کی اذیت کے بعد آوا دیبا نے اپنی بیٹی کا نام ’مریم‘ رکھا۔ وہ مستقبل میں ہیماٹولوجی میں مہارت حاصل کرکے کینسر، لیوکیمیا اور سکل سیل بیماری کے مریضوں کی خدمت کرنا چاہتی ہیں۔
ان کی خواہش ہے کہ ان کی بیٹی کو کبھی ایسے حالات کا سامنا نہ کرنا پڑے جن سے وہ خود گزری ہیں۔














