برطانوی شاہی خاندان سے متعلق مصنف ارل اسپینسر نے صحافی اور ٹی وی میزبان پیئرز مورگن سے اپنی کتاب میں ایک غلط دعوے پر معذرت کرلی ہے۔ مورگن نے مبینہ طور پر ’ثابت شدہ جھوٹ‘ تحریر کرنے پر اسپینسر اور ان کے پبلشرز کے خلاف قانونی کارروائی کی دھمکی دی تھی۔
یہ بھی پڑھیے شہزادی ڈیانا کی موت کے بعد انہیں جلد بھلا دیا جائے گا، کنگ چارلس سے منسوب حیران کن گفتگو سامنے آگئی
شاہی امور کے ماہر کیمرون واکر نے ایکس پر بتایا کہ ارل اسپینسر نے 1993 میں پرنسس ڈیانا کی انتہائی نجی تصاویر کی اشاعت کے وقت پیئرز مورگن کو غلط طور پر ’ڈیلی مرر‘ کا ایڈیٹر قرار دینے پر معذرت کی ہے۔ برطانوی میڈیا کے مطابق اسپینسر کے ترجمان نے بھی معذرت کی تصدیق کی ہے۔

تاہم اسپینسر کے نمائندے نے واضح کیا کہ ڈیانا کی آخری رسومات سے قبل مورگن سے ہونے والی فون پر گفتگو کے بارے میں کتاب میں درج بیان اپنی جگہ درست ہے۔ ترجمان کے مطابق ارل اسپینسر نے ذاتی طور پر مورگن کو فون کرکے بتایا تھا کہ انھیں اپنی بہن کی آخری رسومات میں قبول نہیں کیا جارہا تھا اور اس موقع پر مورگن کا لہجہ ناراضی اور برہمی پر مبنی تھا۔
ترجمان کے مطابق اسپینسر نے اپنی کتاب میں یہ تاثر بھی بیان کیا تھا کہ مورگن کے ناراض ردعمل کی وجہ ان تصاویر پر احساسِ جرم ہوسکتی ہے، کیونکہ اسپینسر نے سمجھا تھا کہ ان کی اشاعت کے وقت مورگن ’ڈیلی مرر‘ کے ایڈیٹر تھے۔
یہ بھی پڑھیے ڈیانا کی موت پر کنگ چارلس ’لاٹری جیتنے والے شخص‘ کی طرح خوش تھے، بھائی کا انکشاف
دوسری جانب مورگن نے اس سے قبل ’ایکس‘ پر اعلان کیا تھا کہ وہ اسپینسر اور ان کے پبلشرز کے خلاف قانونی کارروائی کررہے ہیں اور الزام لگایا تھا کہ کتاب میں ان کے بارے میں ایسے جھوٹ لکھے گئے ہیں جو اسپینسر کی بطور مؤرخ ساکھ پر سوال اٹھاتے ہیں۔









