برطانوی شہزادی ڈیانا کی موت کے تقریباً 3 دہائیوں بعد ان کے بھائی چارلس اسپینسر کی نئی کتاب میں اُس وقت کے شہزادہ چارلس، جو اب برطانیہ کے بادشاہ چارلس سوم ہیں، کے بارے میں حیران کن دعوے سامنے آئے ہیں۔
برطانوی اخبار ڈیلی میل میں شائع ہونے والے کتاب کے اقتباسات کے مطابق چارلس اسپینسر نے اپنی آنے والی کتاب’سوان سانگ: ڈیانا، مائی سسٹر ‘ میں دعویٰ کیا ہے کہ ڈیانا کی موت کی خبر ملنے کے فوراً بعد شہزادہ چارلس کی آواز غیر معمولی طور پر خوش محسوس ہوئی۔
اسپینسر کے مطابق دیگر لوگوں نے فون پر ڈیانا کی موت پر صدمے اور غم کا اظہار کیا، تاہم شہزادہ چارلس کی آواز انہیں ایسی محسوس ہوئی جیسے’لاٹری جیتنے والے شخص ‘ کی ہو۔ اسپینسر نے لکھا کہ اُس وقت انہیں یہی محسوس ہوا۔
ڈیانا کے بھائی نے مزید دعویٰ کیا کہ وقت گزرنے کے بعد انہیں شبہ ہوا کہ شہزادہ چارلس کا پہلا خیال شاید یہ تھا کہ ڈیانا کی موت انہیں اپنی پسند کی خاتون سے شادی کرنے کی آزادی دے گی۔
تاہم بکنگھم پیلس نے ان الزامات پر سخت ردعمل دیا ہے۔ محل کے ترجمان نے کہا، ’ اصولی طور پر شاہی خاندان کتابوں پر تبصرہ نہیں کرتا، تاہم بادشاہ اس بات سے آگاہ ہیں کہ قریبی رشتہ دار کی موت کا غم برسوں بعد بھی انسان کی سوچ، فیصلوں اور یادداشت کو متاثر کرسکتا ہے۔‘
کتاب کے ایک اور اقتباس میں اسپینسر نے دعویٰ کیا کہ شہزادہ چارلس نے ڈیانا کی آخری رسومات میں ان کے بیٹوں ولیم اور ہیری کو تابوت کے پیچھے چلنے کے معاملے پر ان سے شدید غصے میں بات کی۔ اسپینسر کے مطابق چارلس نے فون پر کہا، ’ Rest assured, we’ll forget her soon enough!‘ یعنی ’’یقین رکھیں، ہم اسے جلد بھول جائیں گے!‘‘
یاد رہے کہ ڈیانا 31 اگست 1997 کو پیرس میں ایک کار حادثے میں 36 برس کی عمر میں ہلاک ہوئی تھیں۔ ان کے ساتھ گاڑی میں موجود ڈوڈی الفاید بھی حادثے میں ہلاک ہوئے تھے۔ حادثے کے وقت گاڑی کا تعاقب فوٹوگرافرز کر رہے تھے۔
ڈیانا کی موت کے بعد برطانیہ سمیت دنیا بھر میں سوگ کی لہر دوڑ گئی تھی، جبکہ شاہی خاندان کے عوامی ردعمل اور اظہارِ تعزیت پر بھی اُس وقت سوالات اٹھائے گئے تھے۔
چارلس اور ڈیانا 1992 میں الگ ہوئے، جبکہ 1996 میں ان کی طلاق ہوگئی۔ بعد ازاں چارلس نے 2005 میں کامیلا پارکر باؤلز سے شادی کی۔
دوسری جانب سابق شاہی کمیونیکیشن سیکریٹری جولین پین نے ڈیانا کی موت کے بعد چارلس سے منسوب کیے گئے الفاظ پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ وہ زبان نہیں جسے وہ اپنے سابق باس سے منسوب کرسکیں۔
چارلس اسپینسر کی کتاب 22 ستمبر کو منظرعام پر آنے والی ہے، جبکہ اس کے مزید اقتباسات برطانوی میڈیا میں مسلسل سامنے آرہے ہیں۔
دوسری جانب سنڈے ٹائمز کی رائل ایڈیٹر رویا نکہہ نے بی بی سی سے گفتگو میں کہا کہ بکنگھم پیلس کی جانب سے فوری ردعمل بادشاہ کی ناراضی کی عکاسی کرتا ہے۔
رویا نکہہ کے مطابق محل کو بعض اوقات یہ فیصلہ کرنا پڑتا ہے کہ کسی معاملے پر خاموشی اختیار کی جائے، اور شاہی خاندان کا روایتی اصول ’ Never complain, never explain‘یعنی ’’شکایت نہ کرو، وضاحت نہ دو‘‘ اسی حوالے سے اختیار کیا جاتا ہے۔ تاہم ان کے خیال میں موجودہ صورت حال میں ایسا کرنا ممکن نہیں تھا۔
برطانوی میڈیا نے بکنگھم پیلس کے بیان کا موازنہ ملکہ الزبتھ دوم کے 2021 کے ردعمل سے بھی کیا، جب شہزادہ ہیری اور میگھن مارکل کی جانب سے نسل پرستی کے الزامات کے بعد ملکہ نے کہا تھا کہ ’کچھ یادیں مختلف ہوسکتی ہیں ‘۔














