صحت اور تعلیم میں صنفی فرق کم ہوا، مگر سیاسی و معاشی اختیارات میں خواتین اب بھی پیچھے ہیں۔ عالمی اقتصادی فورم کی گلوبل جینڈر گیپ رپورٹ 2026 کے مطابق موجودہ رفتار برقرار رہی تو دنیا کو مکمل صنفی مساوات حاصل کرنے میں مزید 120 سال لگ سکتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق دنیا کے 145 ممالک اور معیشتوں میں گزشتہ 20 برس سے صنفی مساوات سے متعلق اعداد و شمار کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ 2026 میں تقریبا تمام ممالک کے صنفی مساوات کے اسکور میں بہتری دیکھی گئی، جس میں بالخصوص صحت اور تعلیم تک رسائی میں پیش رفت نمایاں رہی۔
عالمی سطح پر صنفی مساوات کا مجموعی اسکور 69.2 فیصد ریکارڈ کیا گیا، جبکہ صحت اور بقا کے شعبے میں یہ شرح 96.2 فیصد اور تعلیمی حصول میں 96.9 فیصد رہی۔
اس کے برعکس اقتصادی شرکت اور مواقع میں صنفی مساوات کا اسکور 61.7 فیصدoجبکہ سیاسی اختیارات کے شعبے میں صرف22.1 فیصدرہا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ فیصلہ سازی اور معاشی مواقع میں خواتین اور مردوں کے درمیان نمایاں فرق اب بھی موجود ہے۔
رپورٹ کے مطابق خطوں میں لاطینی امریکا اور کیریبین کو مکمل صنفی مساوات تک پہنچنے میں موجودہ رفتار پر تقریبا60 سال، یورپ کو 70 سال، سب صحارا افریقہ کو 102 سال، شمالی امریکا کو 108 سال، مشرقی ایشیا و بحرالکاہل کو 144 سال، جنوبی ایشیا کو 149 سال، مشرق وسطیٰ و شمالی افریقہ کو 182 سال جبکہ وسطی ایشیا کو 202 سال درکار ہو سکتے ہیں۔
ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔














