مجوزہ خیبرپختونخوا پولیس ایکٹ 2026: پولیس اصلاحات یا سیاسی کنٹرول؟ مجوزہ قانون کی اہم شقوں پر سوالات

بدھ 23 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

خیبرپختونخوا حکومت کے مجوزہ پولیس ایکٹ 2026 میں پولیس کے انتظامی ڈھانچے، پالیسی سازی، نگرانی، احتساب، بھرتیوں اور اعلیٰ افسران کی تعیناتی کے موجودہ نظام میں بنیادی تبدیلیاں تجویز کی گئی ہیں۔ مجوزہ قانون کے تحت پولیس کے معاملات میں صوبائی حکومت اور وزیراعلیٰ کا کردار نمایاں طور پر بڑھنے کا امکان ہے، جس پر پولیس کی پیشہ ورانہ خودمختاری، کمانڈ، میرٹ اور انسداد دہشتگردی کی صلاحیت سے متعلق سوالات اٹھائے جارہے ہیں۔

مجوزہ قانون کے ناقدین کے مطابق دہشتگردی سے شدید متاثرہ صوبے میں پولیس کے انتظامی اور کمانڈ ڈھانچے میں سیاسی مداخلت کا امکان پولیس کی کارکردگی، مورال اور امن و امان کی صلاحیت پر منفی اثر ڈال سکتا ہے۔ بنیادی سوال یہ ہے کہ مجوزہ تبدیلیوں کے ذریعے پولیس کو زیادہ مؤثر اور جوابدہ بنایا جارہا ہے یا اسے سیاسی حکومت کے تابع کرنے کا راستہ ہموار کیا جارہا ہے؟

آئی جی پولیس کی تعیناتی کا طریقہ کار تبدیل کرنے کی تجویز

مجوزہ بل کے تحت وفاقی حکومت آئی جی پولیس کے لیے تین افسران کے نام صوبائی حکومت کو بھجوائے گی، جن میں سے ایک کا انتخاب صوبائی حکومت کرےگی۔

موجودہ طریقہ کار میں صوبائی حکومت تین نام وفاقی حکومت کو بھجوانے کی پابند تھی، تاہم مجوزہ نظام میں یہ ترتیب تبدیل کردی جائے گی اور صوبائی حکومت کو آئی جی کے انتخاب کا براہِ راست اختیار حاصل ہوگا۔

اس حوالے سے یہ سوال بھی اہم ہے کہ آیا پاکستان کے کسی دوسرے صوبے میں آئی جی کی تقرری کے لیے ایسا طریقہ کار موجود ہے یا خیبرپختونخوا میں ایک نیا ماڈل متعارف کرایا جارہا ہے۔ پاکستان بننے سے آج تک کسی بھی صوبے میں آئی جی کی تعیناتی کے لیے ایسا طریقہ کار رائج نہیں رہا۔

پولیس پالیسی بورڈ میں وزیراعلیٰ کا کردار

مجوزہ قانون میں پولیس کی مجموعی نگرانی اور پالیسی سازی کے اختیارات بڑی حد تک صوبائی حکومت کے پاس رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔

اس کے تحت وزیراعلیٰ پولیس پالیسی بورڈ کے سربراہ ہوں گے، جس کے نتیجے میں پولیس کی اعلیٰ سطح کی پالیسی سازی براہ راست سیاسی انتظامیہ کے زیر اثر آنے کا خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے۔

مجوزہ نظام کے مطابق پولیس کا سالانہ صوبائی منصوبہ بھی وزیراعلیٰ کی سربراہی میں قائم پولیس پالیسی بورڈ کی منظوری سے مشروط ہوگا، جبکہ امن و امان سے متعلق حکومتی ہدایات پر فوری عمل پولیس کے لیے لازم ہوگا۔

اس صورت حال میں پولیس کی پیشہ ورانہ خودمختاری سے متعلق سوالات اٹھتے ہیں۔ اگر صوبائی پولیس سربراہ کو امن و امان کا ذمہ دار ٹھہرایا جائے، لیکن اس کے انتظامی، مالی اور عملی اختیارات حکومتی پالیسی اور وزیراعلیٰ کی ہدایات کے تابع ہوں، تو یہ عملاً مکمل ذمہ داری مگر محدود اختیار کا نظام بن سکتا ہے۔

گریڈ 18 اور اس سے اوپر کے افسران کی پوسٹنگز

مجوزہ قانون میں وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کو گریڈ 18 اور اس سے اوپر کے پولیس افسران کی پوسٹنگز میں براہِ راست اختیار دینے کی تجویز بھی شامل ہے۔

ضلعی اور علاقائی پولیس سربراہان کی تعیناتی کے لیے وزیراعلیٰ کی منظوری لازمی ہونے کی صورت میں فیلڈ کمان کے نظام میں سیاسی منظوری کا ایک نیا مرحلہ شامل ہوجائےگا۔

اس تبدیلی سے متعلق بنیادی سوال یہ ہے کہ ایسے نظام میں ضلعی پولیس افسر عملاً آئی جی پولیس کو جواب دہ ہوگا یا وزیراعلیٰ اور سیاسی انتظامیہ کو؟

اعلیٰ پولیس افسران کی پوسٹنگز میں سیاسی حکومت کا کردار بڑھنے سے پولیس کی داخلی کمانڈ، انتظامی تسلسل، میرٹ اور پیشہ ورانہ خودمختاری متاثر ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے۔

ڈی ایس پی کی سطح پر 25 فیصد براہِ راست بھرتی

مجوزہ قانون میں ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ڈی ایس پی) کی سطح پر 25 فیصد براہِ راست بھرتی کی تجویز بھی سامنے آئی ہے۔

اگر براہِ راست بھرتیوں کے لیے شفاف، واضح اور غیر سیاسی طریقہ کار موجود نہ ہو تو اس سے پولیس کے سروس اسٹرکچر، میرٹ، ترقی کے مواقع اور فورس کے مورال پر سنگین اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔

اس حوالے سے یہ خدشہ بھی ظاہر کیا گیا ہے کہ چند سال بعد سیاسی تعلق رکھنے والے افراد پورے صوبے میں سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایس پی) اور سینیئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایس ایس پی) کے عہدوں پر پہنچ سکتے ہیں۔

ڈی ایس پی سطح کی بھرتی اور تعیناتی میں سیاسی انتظامیہ کا کردار بڑھنے کی صورت میں میرٹ، شفافیت اور ادارہ جاتی نگرانی کو یقینی بنانا ایک بنیادی چیلنج ہوگا۔

ڈسپیوٹ ریزولوشن کونسلز کے نظام میں تبدیلی

مجوزہ قانون میں موجودہ ڈسپیوٹ ریزولوشن کونسلز (ڈی آر سیز) کے نظام کو تبدیل کرنے اور ان کے ارکان کی تقرری میں حکومت کا کردار بڑھانے کی تجویز دی گئی ہے۔

ڈی آر سیز 2015 سے مقامی سطح پر تنازعات کے حل کے لیے کام کررہی ہیں اور ان کے ذریعے تقریباً 85 ہزار مقدمات اور تنازعات حل کیے جانے کا دعویٰ کیا جاتا ہے۔

اس نظام نے معمولی نوعیت کے تنازعات کو عدالتوں سے باہر حل کرنے، عدالتی بوجھ کم کرنے اور مقامی سطح پر سماجی ہم آہنگی برقرار رکھنے میں کردار ادا کیا ہے۔

تاہم اگر ڈی آر سی کے ارکان حکومت یا سیاسی عہدیدار مقرر کریں گے اور ان کی مدت بھی حکومتی خوشنودی سے مشروط ہوگی تو ان کے فیصلوں کی غیر جانبداری اور آزادی پر سوال اٹھ سکتے ہیں۔

ایک مؤثر متبادل نظام کی عدم موجودگی میں موجودہ ڈی آر سی ڈھانچے کو سیاسی کنٹرول میں دینے سے مقامی تنازعات کے حل کا نظام بھی سیاسی اثرورسوخ کے تابع ہونے کا خدشہ ہے۔

پبلک سیفٹی کمیشن اور نگرانی کے نظام میں تبدیلیاں

مجوزہ پبلک سیفٹی کمیشن اور دیگر نگرانی کے اداروں میں حکومت اور سیاسی عہدیداروں کے کردار میں نمایاں اضافے کی تجویز دی گئی ہے۔

مجوزہ قانون کے مطابق صوبائی عوامی تحفظ کمیشن کے سات آزاد ارکان بھی حکومت نامزد کرے گی۔

اس پر سوال اٹھایا جارہا ہے کہ اگر ارکان کو ’آزاد ارکان‘ کہا جائے، لیکن ان کی تقرری، مدت اور برطرفی کا اختیار حکومت کے پاس ہو تو ان کی عملی آزادی کیسے یقینی بنائی جائے گی؟

پولیس کی نگرانی کرنے والے ادارے اگر حکومتی نامزدگی اور برطرفی کے اختیار کے تابع ہوں تو ان کی آزاد حیثیت متاثر ہونے کا خدشہ موجود رہے گا۔

پبلک سیفٹی کمیشن میں حکومتی اور حکمران جماعت سے وابستہ ارکان کا غلبہ پولیس کی نگرانی کو غیر سیاسی بنانے کے بجائے مزید سیاسی بنا سکتا ہے۔

پالیسی، پوسٹنگ، نگرانی اور احتساب: چاروں سطحوں پر سیاسی کردار

مجوزہ قانون میں پولیس پالیسی، اعلیٰ افسران کی تعیناتی، نگرانی کے اداروں کی تشکیل اور پولیس افسران کے احتساب، چاروں سطحوں پر سیاسی حکومت کا کردار بڑھتا دکھائی دیتا ہے۔

اسی وجہ سے بنیادی سوال محض کسی ایک شق یا تعیناتی تک محدود نہیں، بلکہ پولیس کے پورے ادارہ جاتی ڈھانچے، کمانڈ چین اور پیشہ ورانہ آزادی سے متعلق ہے۔

دہشتگردی سے متاثرہ صوبے میں مجوزہ اصلاحات کے اثرات

خیبرپختونخوا اس وقت دہشتگردی، شدت پسندی اور سنگین امن و امان کے چیلنجز سے دوچار ہے۔ ایسے ماحول میں پولیس کمانڈ، پیشہ ورانہ خودمختاری، میرٹ اور ادارہ جاتی تسلسل کے حوالے سے کوئی بھی بڑا تجربہ پوری صوبائی سیکیورٹی مشینری پر اثر انداز ہوسکتا ہے۔

مجوزہ قانون سے متعلق تین بنیادی خدشات نمایاں ہیں: پولیس کے انتظامی اور پیشہ ورانہ معاملات میں سیاسی حکومت کے کنٹرول اور مداخلت میں نمایاں اضافے کا امکان۔

پولیس کی پیشہ ورانہ خودمختاری اور کمانڈ متاثر ہونے کی صورت میں انسدادِ دہشتگردی اور امن و امان کی کوششوں پر منفی اثرات کا خدشہ۔

بھرتیوں، تعیناتیوں، تبادلوں اور ترقی کے موجودہ نظام میں بڑی تبدیلیوں سے پولیس فورس کے مورال، میرٹ، سروس اسٹرکچر اور ادارہ جاتی تسلسل کو نقصان پہنچنے کا امکان۔

مجوزہ قانون سے متعلق بنیادی سوالات

مجوزہ پولیس ایکٹ 2026 کے حوالے سے درج ذیل سوالات اہمیت رکھتے ہیں:

اگر پولیس سربراہ کو امن و امان کا ذمہ دار ٹھہرایا جائے گا تو کیا اسے فیصلوں میں مکمل پیشہ ورانہ اختیار بھی حاصل ہوگا؟

اگر ضلعی پولیس سربراہ کی تعیناتی وزیراعلیٰ کی منظوری سے ہوگی تو وہ عملاً آئی جی کو جواب دہ ہوگا یا وزیراعلیٰ کو؟

اگر پولیس کی پالیسی سازی، پوسٹنگز، نگرانی اور احتساب سب سیاسی حکومت کے زیرِ اثر ہوں گے تو پولیس کی پیشہ ورانہ آزادی کہاں باقی رہے گی؟

اگر پبلک سیفٹی کمیشن، ڈی آر سیز اور شکایات اتھارٹیز کے ارکان حکومت نامزد کرے گی اور ان کی مدت بھی حکومت کے اختیار میں ہوگی تو آزاد نگرانی اور احتساب کیسے یقینی بنایا جائے گا؟

پولیس کو جوابدہ بنایا جارہا ہے یا سیاسی انتظامیہ کو پولیس پر مزید اختیار دیا جارہا ہے؟

اصل تشویش: پولیس اصلاحات یا سیاسی ماتحتی؟

دہشتگردی سے شدید متاثرہ صوبے میں پولیس کے انتظامی اور کمانڈ ڈھانچے کے ساتھ تجربہ معمولی معاملہ نہیں۔ مجوزہ قانون کی شقوں پر اٹھائے جانے والے سوالات کا مرکز پولیس کی پیشہ ورانہ خودمختاری، میرٹ، کمانڈ اور ادارہ جاتی نگرانی ہے۔

اگر پولیس کے انتظامی معاملات میں سیاسی مداخلت بڑھتی ہے تو اس کے ممکنہ اثرات پولیس کی کارکردگی اور امن و امان کے نظام پر مرتب ہوسکتے ہیں۔ پولیس کی سیاسی ماتحتی کا نقصان بالآخر خیبرپختونخوا اور اس کے عوام کو اٹھانا پڑ سکتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp