ایف آئی اے کی محمد رضوان کے خلاف کارروائی میں سنگین سقم موجود ہیں، قانونی ماہر خیر محمد خٹک

بدھ 23 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

قومی کرکٹ ٹیم کے کھلاڑی محمد رضوان کے خلاف آن لائن بیٹنگ کے الزامات اور موبائل فون کی ضبطگی کے معاملے پر ماہر قانون خیر محمد خٹک نے ایف آئی اے اور نیشنل سائبر کرائم ایجنسی کی کارروائی کے طریقہ کار پر متعدد قانونی سوالات اٹھا دیے ہیں۔

بغیر نوٹس کے موبائل فون لینا

ماہرِ قانون خیر محمد خٹک کے مطابق، انگلینڈ میں ٹیسٹ سیریز کے دوران ایف آئی اے کی جانب سے محمد رضوان کا موبائل فون بغیر کسی تحریری نوٹس یا باضابطہ نوٹیفکیشن کے تحویل میں لینا قانونی طور پر نامناسب اقدام تھا۔

انہوں نے وضاحت کی کہ پریوینشن آف الیکٹرانک کرائم ایکٹ (پیکا) 2016 اور اس کی 2025 کی ترمیم کے تحت کسی بھی انکوائری کے لیے باقاعدہ نوٹس جاری کرنا اور الزامات سے آگاہ کرنا لازمی ہے، جو اس کیس میں نہیں کیا گیا۔

عدالتی فیصلہ اور قانونی راستہ

لاہور ہائیکورٹ کے حالیہ فیصلے پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ آئین کے آرٹیکل 199 کے تحت دائر کی گئی درخواست پر عدالت عالیہ نے محمد رضوان کو ہراساں کرنے سے تو روک دیا ہے، تاہم متعلقہ جوڈیشل مجسٹریٹ کی عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

محمد رضوان کو کس عدالت سے رجوع کرنا چاہیے؟

ان کا کہنا تھا کہ پیکا ایکٹ کے تحت درج مقدمات کی سماعت کا اختیار جوڈیشل مجسٹریٹ کے پاس ہے۔ اگر رضوان اپنا موبائل فون واپس حاصل کرنا چاہتے ہیں تو ضابطہ فوجداری (CrPC) کی دفعہ 516-A کے تحت متعلقہ مجسٹریٹ کی عدالت میں ملکیت کا دعویٰ کرتے ہوئے درخواست دائر کر سکتے ہیں۔

سپریم کورٹ میں درخواست دی جا سکتی ہے؟

انہوں نے مزید کہاکہ اگر محمد رضوان لاہور ہائیکورٹ کے اس فیصلے سے مطمئن نہیں ہیں تو ان کے پاس فیصلہ جاری ہونے کے 20 دنوں کے اندر سپریم کورٹ آف پاکستان میں ’سی پی ایل اے‘ (سول پٹیشن فار لیو ٹو اپیل) دائر کرنے کا قانونی اختیار موجود ہے۔

کیس میں مدعی کی عدم موجودگی

خیر محمد خٹک کے مطابق پیکا ایکٹ کے تحت کسی بھی کارروائی کے لیے ایک قابلِ شناخت شکایت کنندہ کا ہونا ضروری ہے، جبکہ اس معاملے میں ایسا کوئی مدعی سامنے نہیں آیا، جو کہ ایک بڑا قانونی سقم ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ جب تک عدالت میں جرم ثابت نہیں ہو جاتا، یہ محض ایک الزام کی حد تک ہی رہتا ہے۔

آئی سی سی کا اینٹی کرپشن ضابطہ اور ابتدائی اختیار

انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کے کردار سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے ماہرِ قانون کا کہنا تھا کہ آن لائن بیٹنگ یا کھیل سے متعلق دیگر الزامات کی تحقیقات کا پہلا اور بنیادی اختیار آئی سی سی کے اینٹی کرپشن یونٹ (ACU) کا ہے۔

انہوں نے آئی سی سی کے اینٹی کرپشن کوڈ کی دفعہ 1.11 اور 4.3 کا حوالہ دیتے ہوئے کہاکہ اگر کوئی مشکوک سرگرمی تھی تو قانونی اور مناسب طریقہ یہ تھا کہ آئی سی سی باقاعدہ طریقہ کار کے تحت موبائل فون طلب کرتی اور اپنی اندرونی انکوائری مکمل کرنے کے بعد معاملہ کسی ملکی ایجنسی کو بھیجتی۔

انہوں نے کہاکہ محمد رضوان کے پاس اب دو اہم راستے ہیں، اول یہ کہ وہ فیصلے کے خلاف 20 دن میں سپریم کورٹ سے رجوع کریں، اور دوسرا یہ کہ وہ آئی سی سی کے متعلقہ فورم کے سامنے اپنا مؤقف پیش کریں کیونکہ ابتدائی قانونی اختیار ملکی اداروں کی بجائے آئی سی سی کا ہی بنتا تھا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp