پی ٹی آئی کالعدم ٹی ٹی پی کی بی ٹیم ہے، عطا تارڑ

بدھ 23 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کی بی ٹیم ہے، تمام سیاسی جماعتوں کو دہشتگردوں نے نشانہ بنایا لیکن ایک سیاسی جماعت ایسی ہے جسے دہشتگردوں نے نشانہ نہیں بنایا اور اس کی وجہ پی ٹی آئی کے خیالات کا ٹی ٹی پی کے خیالات سے قریب ہونا ہے۔

نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے عطا تارڑ نے کہا کہ مجھ سے سوال ہوا کہ کیا خیبرپختونخوا میں گورنر راج لگے گا، تو میں نے جواب میں کہا کہ عوامی راج لگا دیں، عوام کو ان کے حقوق دیں، پی ٹی آئی لوگوں کو اہمیت دینا شروع کرے اور لوگوں کے کام کرے۔

یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی فاشسٹ اور شرپسند جماعت، اس پر پابندی کا فیصلہ قانون کے مطابق ہوگا، عطاتارڑ

انہوں نے کہا کہ جہاں تک پی ٹی آئی کے اسلام آباد آنے کی بات ہے تو میرے خیال میں پی ٹی آئی کی تیاری بھی نہیں ہے اور ہم انہیں اسلام آباد آنے بھی نہیں دیں گے۔ سڑکیں بند ہونے سے یومیہ 120 ارب روپے کا ملکی معیشت کو نقصان ہوتا ہے، جس میں کاروباری افراد، صنعت کار، برآمد کنندگان، تاجر، تنخواہ دار طبقہ اور دیہاڑی دار متاثر ہوتے ہیں۔

عطا تارڑ نے کہا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کا حکم بھی موجود ہے، یہ تماشا جاری نہیں رہ سکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر پی ٹی آئی نے خیبرپختونخوا میں اتنی اچھی طرز حکمرانی قائم کی ہوتی تو ہمیں اپنی تعلیمی اصلاحات سے سیکھنے کے لیے کہتی، ہارورڈ کی سطح کی یونیورسٹی بنائی ہوتی، پی کے ایل آئی جیسا اسپتال قائم کیا ہوتا یا طرز حکمرانی میں نئی مثالیں قائم کی ہوتیں، لیکن ایسا نہیں کیا گیا۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ پھر وہ اسلام آباد سے کیا لینے آ رہے ہیں؟ اگر مقصد قیدی کی رہائی ہے تو ان کے خیال میں پی ٹی آئی کے پاس کوئی مقصد یا متحرک ہونے کی صلاحیت نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ اسلام آباد میں 32 ہزار اہلکاروں کی نفری اور 2 ہزار کنٹینرز لگانے کا مقصد شہریوں کی جانوں کا تحفظ ہے۔ دہشت گردوں کو روکنا اور چند پرتشدد عناصر کی ممکنہ کارروائیوں سے نمٹنے کے لیے پیشگی انتظام کرنا ہماری ذمہ داری ہے۔

عطا تارڑ نے کہا کہ مظاہرین کے پاس بینٹے، غلیلیں، ڈنڈے، کیل اور کانچ سمیت مختلف چیزیں دیکھی گئی ہیں۔ پی ٹی وی پر حملہ کرنے والے یا پارلیمنٹ پر حملہ اور میٹرو اسٹیشنز کو آگ لگانے والے افراد کی تعداد بہت زیادہ نہیں تھی، لیکن ریاست کی ذمہ داری ہے کہ شہریوں کی جانوں کا تحفظ کرے۔

انہوں نے کہا کہ سیکیورٹی اہلکار تعینات ہیں اور کنٹینرز بھی اطراف میں موجود ہیں، اس معاملے کو کھلا نہیں چھوڑا جا سکتا کہ جب کوئی چھوٹا گروہ اٹھے اور وہاں حملہ کردے۔ ایسے حالات میں انتظامات کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔

یہ بھی پڑھیں: سیاسی معاملات پر پی ٹی آئی سے بات کے لیے تیار ہیں لیکن کیسز میں ریلیف صرف عدالتوں سے ہی مل سکتا ہے، عطاتارڑ

وفاقی وزیر نے کہا کہ یہ صرف ایک جگہ کی سیکیورٹی کا معاملہ نہیں ہے۔ مختلف موٹرویز، سڑکوں اور شہروں کے راستوں پر تعیناتی کرنا پڑتی ہے، جو ایک رات میں نہیں ہوسکتی۔ اگر کوئی گروہ سی پیک کے راستے یا ڈی آئی خان، ہکلہ موٹروے، این 5 یا کسی اور راستے سے آنے کی کوشش کرے تو مختلف مقامات پر سیکیورٹی تعینات کرنا ہوگی۔

عطا تارڑ نے کہا کہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہر مقام کو محفوظ بنایا جائے، اس لیے ہم مکمل طور پر تیار ہیں اور تیار رہنا چاہیے۔ اگر لوگ اسلام آباد پہنچ کر ہنگامہ کرنا چاہتے ہیں تو چند سو افراد بھی یہ کام کرسکتے ہیں، ایسی صورت میں کہیں نہ کہیں طاقت کا استعمال کرنا پڑے گا۔

انہوں نے کہا کہ حکومت نے واضح کیا ہے کہ پی ٹی آئی کو اسلام آباد آنے نہیں دیا جائے گا۔ جو بھی آئے گا اسے گرفتار کیا جائے گا، روکا جائے گا اور آگے بڑھنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

عطا تارڑ نے 126 روزہ احتجاج کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس احتجاج کے باعث نہ صرف چینی صدر کا دورہ مؤخر ہوا بلکہ معمولات زندگی بھی رک گئے تھے۔ پاک سیکریٹریٹ بند رہا، سرکاری امور متاثر ہوئے، مظاہرین پارلیمنٹ کے باہر جمع ہوئے اور آئینی عدالتوں کے راستے بھی روکے گئے۔

انہوں نے کہا کہ پی ٹی وی پر حملہ دنیا بھر میں جانا جاتا ہے اور اس وقت بانی چیئرمین پی ٹی آئی نے عارف علوی کو مبارک باد دی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کسی کو کاروباری سرگرمیاں روکنے، انتشار پھیلانے یا معمولات زندگی متاثر کرنے کی اجازت نہیں دے گی۔

وفاقی وزیر نے خیبرپختونخوا میں پولیس سے متعلق مجوزہ قانون پر بھی بات کرتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومت کے مطابق اس کے ذریعے مرکز کی مداخلت کم کی جا رہی ہے، تاہم ان کے بقول اس کا مقصد ایک سیاسی فورس بنانا ہے۔

عطا تارڑ نے دعویٰ کیا کہ مجوزہ قانون میں ڈی ایس پی کی براہ راست بھرتی کی تجویز بھی ہے اور سیاسی وابستگی رکھنے والے افراد کو فورس میں شامل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پولیس اہلکار قربانیاں دے رہے ہیں اور دہشت گردی کے خلاف لڑ رہے ہیں، ایسے میں سیاسی بنیادوں پر فورس بنانا درست نہیں۔

یہ بھی پڑھیں:عمران خان 190 ملین پاؤنڈ کی چوری چھپانے کے لیے مذہب کارڈ استعمال کر رہے ہیں،عطاتارڑ

انہوں نے ٹی ٹی پی سے متعلق بھی الزامات عائد کرتے ہوئے کہا کہ ان کے خیال میں پی ٹی آئی کے خیالات ٹی ٹی پی کے خیالات سے قریب ہیں اور صوبائی حکومت دہشت گردوں کے لیے کھلا ماحول پیدا کرنا چاہتی ہے۔ عطا تارڑ نے کہا کہ دہشت گرد معصوم شہریوں کا خون بہاتے ہیں اور ان کا مذہب، ایمان یا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ مجوزہ قانون کے ذریعے آئی جی کو بھی سیاسی شخصیت بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے تاکہ پولیس پر مکمل کنٹرول حاصل کیا جاسکے۔ ان کے بقول یہ اقدام قانونی طور پر قابل عمل نہیں ہوگا اور قانون کے اختیار کے بغیر کیا جانے والا اقدام ہوگا۔

عطا تارڑ نے کہا کہ اگر خیبرپختونخوا میں پولیس اصلاحات لانی تھیں تو سیف سٹی منصوبہ شروع کیا جاتا، ہر ضلع میں کیمرے نصب کیے جاتے، انسداد دہشت گردی کا الگ محکمہ مضبوط کیا جاتا اور پشاور میں فرانزک لیبارٹری قائم کی جاتی۔ انہوں نے کہا کہ نئے ضم ہونے والے اضلاع، خیبر اور جنوبی اضلاع سمیت دیگر علاقوں میں بھی سیکیورٹی نظام بہتر بنایا جا سکتا تھا۔

انہوں نے کہا کہ انسداد دہشت گردی کے نام پر خیبرپختونخوا حکومت کو اضافی طور پر 150 ارب روپے سے زیادہ کی رقم ملتی ہے، اس کا حساب بھی ہونا چاہیے۔ ان کے بقول صوبے میں اسمگلنگ، غیر قانونی کان کنی اور ٹیکس چوری جاری ہے۔

عطا تارڑ نے کہا کہ جب وہ کوہاٹ گئے تو ایک پیٹرول پمپ پر رک کر وزیراعظم کی ایندھن اسکیم کا جائزہ لیا اور 10 موٹرسائیکل سواروں سے بات کی، جن میں سے کسی کے پاس نمبر پلیٹ نہیں تھی۔ ان کے بقول نان کسٹم پیڈ گاڑیاں بھی اب تک استعمال ہو رہی ہیں اور ان کے استعمال کو دہشت گردی کی سرگرمیوں سے بھی جوڑا جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں 12 سال سے زیادہ عرصے سے پی ٹی آئی کی حکومت رہی ہے، لیکن اس دوران پولیس اصلاحات، سیف سٹی کے کیمروں، سیکیورٹی نظام، انسداد دہشت گردی یا پولیس کو جدید آلات کی فراہمی پر توجہ نہیں دی گئی۔ ان کے بقول اب پولیس کو سیاسی فورس بنانے کے لیے قانون لایا جا رہا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp