پاکستان نے 23 ستمبر کو افغان سرزمین سے پاکستان میں ڈرونز حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے ملکی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔
وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ کے مطابق پاکستان کے فضائی دفاعی نظام نے تمام درانداز ڈرونز کا سراغ لگا کر انہیں اپنے ممکنہ اہداف تک پہنچنے سے پہلے ہی تباہ کردیا۔
مزید پڑھیں:ڈرونز سے ایران کی نگرانی، کیا کسی بڑے حملے کی خفیہ تیاریاں ہورہی ہیں؟
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے اپنے دفاع کے حق کو استعمال کرتے ہوئے افغانستان میں ڈرونز کی لانچنگ اور ذخیرہ کرنے کے لیے استعمال ہونے والے 10 مقامات پر فضائی اور ڈرون حملے کیے۔ ان کے مطابق کارروائیاں شناخت شدہ فوجی اہداف تک محدود، درست اور متناسب تھیں۔
ناجائز افغان طالبان رجیم کے گرائے گئے ڈرونز کا ملبہ تحویل میں لے لیا گیا۔
افواج پاکستان افغان طالبان رجیم کی ہر زمینی، ہوائی اور دہشت گردانہ دراندازی کو ناکام بنانے کا مکمل عزم اور صلاحیت رکھتی ہیں۔ سیکیورٹی ذرائع@AmirSaeedAbbasi @ehtishamulhaq87 @KulAalam pic.twitter.com/Iv98b6p96f— Media Talk (@mediatalk922) September 24, 2026
عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ پاکستان طویل عرصے سے افغان طالبان حکومت اور اس کے رابطہ کاروں کو افغان سرزمین پر دہشتگردوں کی محفوظ پناہ گاہوں اور ان کے معاون نیٹ ورکس سے متعلق اپنے تحفظات سے آگاہ کرتا رہا ہے، تاہم ان نیٹ ورکس کے خلاف مؤثر اور قابلِ تصدیق کارروائی کے بجائے صورتحال کو پاکستان کے خلاف ڈرون کارروائیوں کے ذریعے مزید کشیدہ کیا گیا۔
انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان افغان سرزمین سے دہشتگرد گروہوں یا افغان طالبان حکومت کی جانب سے کیے جانے والے حملوں کو قبول نہیں کرے گا اور ملکی خودمختاری کی کسی بھی خلاف ورزی کا فوری اور فیصلہ کن جواب دیا جائے گا۔
مزید پڑھیں:افغان طالبان رجیم کے 8 ڈرونز پاکستانی حدود میں داخل، ایئر ڈیفنس نے تمام مار گرائے
وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ پاکستان خطے میں کشیدگی نہیں چاہتا اور علاقائی امن، مذاکرات اور تعمیری روابط کے لیے پرعزم ہے، تاہم اس عزم کو کمزوری یا دشمنانہ کارروائیوں کو لامحدود برداشت کرنے سے تعبیر نہ کیا جائے۔
ان کے مطابق پاکستان اپنی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور شہریوں کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرے گا، جبکہ افغان طالبان کی جانب سے کسی بھی مزید اشتعال انگیز اقدام کا بھرپور اور فیصلہ کن جواب دیا جائے گا۔














