امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چینی صدر شی جن پنگ کا واشنگٹن میں خیرمقدم کیا، دونوں رہنماؤں کی ملاقات میں تجارت، ٹیکنالوجی، تائیوان اور ایران سمیت اہم معاملات زیر بحث آنے کا امکان ہے، جبکہ امریکا اور چین نے تجارتی جنگ بندی جنوری تک بڑھانے پر اتفاق کیا ہے۔
رائٹرز کے مطابق شی جن پنگ تقریباً 3 سال بعد پہلی مرتبہ امریکا پہنچے ہیں، جہاں صدر ٹرمپ نے میری لینڈ میں جوائنٹ بیس اینڈریوز پر ان کا ذاتی طور پر استقبال کیا۔ اس موقع پر دونوں رہنماؤں اور ان کی اہلیاؤں نے مصافحہ کیا، کچھ دیر گفتگو کی اور تصاویر بنوائیں، جبکہ فوجی بینڈ نے موسیقی پیش کی اور توپوں کی سلامی دی گئی۔
یہ بھی پڑھیں:ٹرمپ، شی جن پنگ ملاقات سے قبل امریکا اور چین کے درمیان اہم مذاکرات کا آغاز
امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے بتایا کہ دونوں ممالک نے تجارتی جنگ بندی میں توسیع پر اتفاق کیا ہے۔ یہ جنگ بندی پہلے 10 نومبر کو ختم ہونا تھی، تاہم اب اسے 10 جنوری تک برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
تجارتی کشیدگی میں کمی سے عالمی منڈیوں کو بھی کچھ استحکام ملنے کی توقع کی جارہی ہے۔ 2025 میں امریکا اور چین کے درمیان ٹیرف جنگ کے دوران دونوں ممالک نے ایک دوسرے کی مصنوعات پر انتہائی بلند محصولات عائد کیے تھے۔
تاہم دونوں ملکوں کے درمیان اہم اختلافات بدستور موجود ہیں۔ نایاب معدنیات اور کمپیوٹر چپس کی برآمدی پابندیوں، چین کے ایران سے تعلقات اور تائیوان کے معاملے پر دونوں حکومتوں کے مؤقف مختلف ہیں۔
US President Donald Trump's Treasury Secretary Scott Bessent announced that Washington and Beijing have agreed to extend their trade truce shortly after Chinese leader Xi Jinping arrived in Washington for a three-day visit. But the truce, which was set to lapse in November, has… pic.twitter.com/5x1f3UAbDW
— NDTV World (@NDTVWorld) September 24, 2026
چینی صدر شی جن پنگ نے اپنے تحریری بیان میں کہا کہ چین اور امریکا کو حریف نہیں بلکہ شراکت دار ہونا چاہیے، تاہم بیان میں تجارتی معاہدے کا ذکر نہیں کیا گیا۔
رائٹرز کے مطابق جمعرات کو ہونے والی بات چیت میں مخصوص شعبوں میں محصولات کم کرنے، منشیات کی اسمگلنگ کے خلاف تعاون، دونوں ممالک کی افواج کے درمیان رابطے بڑھانے اور مصنوعی ذہانت کے شعبے میں مذاکرات کے امکانات موجود ہیں۔
3 روزہ دورے کے دوران شی جن پنگ کے اعزاز میں ریاستی عشائیہ بھی دیا جائے گا، جس میں ایپل کے ٹم کک، اینویڈیا کے جینسن ہوانگ اور اوپن اے آئی کے سیم آلٹمین سمیت ٹیکنالوجی کمپنیوں کے سربراہان کی شرکت متوقع ہے۔













