نئے صوبوں کی بحث: ضرورت، سیاست یا بہتر حکمرانی؟

جمعرات 24 ستمبر 2026
author image

کامران ساقی

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان کی آبادی 24 کروڑ سے تجاوز کر چکی ہے، مگر وفاقی اکائیوں کا انتظامی ڈھانچہ اب بھی صرف چار صوبوں کے گرد گھومتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا 24 کروڑ سے زائد آبادی کو صرف چار صوبائی حکومتوں کے ذریعے مؤثر انداز میں چلایا جا سکتا ہے؟

نئی بحث یہ نہیں کہ پاکستان کو مزید صوبوں کی ضرورت ہے یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ اگر ضرورت ہے تو ان کی بنیاد کیا ہونی چاہیے؟ زبان، نسل اور شناخت یا آبادی، جغرافیہ، انتظامی سہولت اور مالی استعداد؟

پالیسی پلیٹ فارم ڈیجیٹل ڈیبیٹ کی نئی تحقیق “The Case for New Provinces in Pakistan: Governance, Human Security and the Will of the People” نے اسی سوال کو اعداد و شمار، انتظامی ڈھانچے اور آئینی راستے کی روشنی میں دیکھا ہے۔

رپورٹ کے مطابق پاکستان کے چار صوبوں اور وفاقی دارالحکومت کی مجموعی آبادی 2023 کی مردم شماری میں 24 کروڑ 14 لاکھ 99 ہزار 431 ریکارڈ ہوئی۔ ایک اوسط پاکستانی صوبے کی آبادی تقریباً 6 کروڑ بنتی ہے، جو دنیا کے متعدد ممالک کی آبادی سے زیادہ ہے۔ یہی وہ بنیادی نکتہ ہے جس سے نئی صوبائی اکائیوں کی بحث شروع ہوتی ہے۔

ایک صوبہ، آدھے سے زیادہ پاکستان

پاکستان کے انتظامی نقشے میں سب سے نمایاں عدم توازن آبادی کی تقسیم ہے۔ پنجاب ملک کی نصف سے زیادہ آبادی کا گھر ہے، جبکہ بلوچستان رقبے کے لحاظ سے ملک کا سب سے بڑا صوبہ ہونے کے باوجود آبادی کے اعتبار سے سب سے چھوٹا ہے۔

رپورٹ کے مطابق سب سے کم آبادی رکھنے والا صوبہ ملک کے تقریباً 44.1 فیصد رقبے پر مشتمل ہے، مگر وہاں ملک کی صرف 6.2 فیصد آبادی رہتی ہے۔ یوں ایک طرف آبادی کا غیر معمولی ارتکاز ہے تو دوسری جانب وسیع رقبے میں بکھری ہوئی آبادی کو حکومتی خدمات فراہم کرنے کا مسئلہ ہے۔

دنیا کے دیگر بڑے اور کثیر آبادی والے ممالک سے موازنہ کیا جائے تو پاکستان کی صورتحال مزید نمایاں ہو جاتی ہے۔

رپورٹ کے مطابق بھارت، جو پاکستان سے کئی گنا بڑا ملک ہے، 36 فرسٹ آرڈر انتظامی اکائیوں کے ذریعے چلایا جاتا ہے، جبکہ انڈونیشیا تقریباً 28 کروڑ افراد کو 38 صوبوں کے ذریعے منظم کرتا ہے۔ ترکیہ تقریباً 8 کروڑ 57 لاکھ آبادی کے لیے 81 صوبائی اکائیوں کا نظام رکھتا ہے۔ یہ تقابلی اعدادوشمار بذاتِ خود اس بات کا ثبوت نہیں کہ زیادہ صوبے لازماً بہتر حکمرانی فراہم کرتے ہیں، لیکن یہ ضرور سوال اٹھاتے ہیں کہ پاکستان کی چار اکائیوں پر مشتمل انتظامی ساخت غیر معمولی طور پر بڑے یونٹس پیدا کر چکی ہے۔

پنجاب کی ایک ڈویژن، ایک ملک جتنی آبادی

پاکستان کے موجودہ انتظامی ڈھانچے کی ایک دلچسپ مثال پنجاب ہے۔ پنجاب دس ڈویژنوں میں تقسیم ہے۔ رپورٹ کے مطابق ان میں سے ہر ڈویژن کی آبادی ڈنمارک، ناروے، فن لینڈ، آئرلینڈ یا نیوزی لینڈ جیسے ممالک سے زیادہ ہے۔ لاہور اور فیصل آباد ڈویژنوں کی آبادی الگ الگ بلوچستان کی مجموعی آبادی سے زیادہ ہے۔ لیکن یہاں ایک بنیادی فرق موجود ہے۔

ایک ملک کی حکومت اپنے شہریوں کے لیے پارلیمان، کابینہ، خزانہ، صحت اور دیگر مرکزی ادارے رکھتی ہے، جبکہ پاکستان کی ڈویژن ایک انتظامی یونٹ ہے، جس کا سربراہ کمشنر ایک سرکاری افسر ہوتا ہے، منتخب نمائندہ نہیں۔

رپورٹ اسے پاکستان کے انتظامی مسئلے کا اہم حصہ قرار دیتی ہے۔  ایک ایسی سطح موجود ہے جو آبادی اور جغرافیے کے اعتبار سے حکومت کی ایک بڑی اکائی بن سکتی ہے، مگر اسے سیاسی اختیار، بجٹ یا منتخب اسمبلی حاصل نہیں۔

حکومت شہری سے کتنی دور ہے؟

حکمرانی صرف یہ نہیں کہ حکومت کہاں بیٹھی ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ شہری کو اس حکومت تک پہنچنے میں کتنا فاصلہ طے کرنا پڑتا ہے۔

رپورٹ میں گوادر اور کوئٹہ کی مثال دی گئی ہے۔ گوادر سے کوئٹہ کا سڑک کے ذریعے فاصلہ تقریباً 910 کلومیٹر بتایا گیا ہے، جسے طے کرنے میں 11 سے 13 گھنٹے لگ سکتے ہیں۔

اسی طرح رحیم یار خان سے لاہور کا فاصلہ تقریباً 700 کلومیٹر ہے، جبکہ چترال اور پشاور کے درمیان جغرافیائی رکاوٹیں موجود ہیں۔

یہ محض سفری مسئلہ نہیں۔ اگر اسکول، اسپتال، زمین کا ریکارڈ، پولیس، آبپاشی یا ترقیاتی فیصلے صوبائی دارالحکومت میں ہوتے ہیں تو شہری اور فیصلہ ساز کے درمیان فاصلہ براہ راست حکمرانی کی رفتار اور رسائی کو متاثر کرتا ہے۔

ڈویژن موجود ہے، اختیار نہیں

پاکستان میں چاروں صوبوں کے اندر مجموعی طور پر 34 ڈویژن موجود ہیں۔ پنجاب میں دس، سندھ میں چھ، خیبر پختونخوا میں سات اور بلوچستان میں گیارہ ڈویژن ہیں۔

یہ ڈویژن نئے سرے سے بنائے جانے والے نقشے نہیں۔ یہاں پہلے ہی کمشنریٹ، پولیس کے علاقائی دفاتر اور مختلف محکموں کے انتظامی ڈھانچے موجود ہیں۔ لیکن ڈویژن کا اپنا منتخب سیاسی نظام نہیں، اپنا بجٹ نہیں اور نہ ہی اسے عوام کے سامنے براہ راست جواب دہ سیاسی حکومت حاصل ہے۔

مثلاً رپورٹ کے مطابق بہاولپور ڈویژن تقریباً 1 کروڑ 34 لاکھ اور ملتان ڈویژن تقریباً 1 کروڑ 41 لاکھ افراد پر مشتمل ہے، لیکن دونوں کا انتظامی سربراہ کمشنر ہے، جو منتخب نمائندہ نہیں۔ یہی وہ خلا ہے جسے نئی صوبائی اکائیوں کے حامی پُر کرنے کی دلیل دیتے ہیں۔

کیا مسئلہ صرف نقشے کا ہے؟

یہاں بحث پیچیدہ ہو جاتی ہے۔ پاکستان میں تعلیم اور صحت 2010 کے بعد صوبائی ذمہ داری ہیں، لیکن انسانی ترقی کے اعدادوشمار صوبوں کے درمیان نمایاں فرق دکھاتے ہیں۔ رپورٹ میں 2023 کے اعدادوشمار کی بنیاد پر تیار کردہ صوبائی ہیومن ڈیولپمنٹ انڈیکس کا حوالہ دیا گیا ہے۔ اس کے مطابق پنجاب کا ایچ ڈی آئی 0.550 جبکہ بلوچستان کا 0.312 ہے۔ اسی طرح شرح خواندگی پنجاب میں 66.3 فیصد، جبکہ بلوچستان میں 42 فیصد بتائی گئی ہے۔

پانچ سے سولہ سال کی عمر کے بچوں میں اسکول جانے کی شرح بھی شدید فرق دکھاتی ہے۔ بلوچستان میں تقریباً 58 فیصد بچے اسکول سے باہر ہیں، جبکہ سندھ میں یہ شرح 47 فیصد تک بتائی گئی ہے۔ قومی سطح پر یونیسیف کے مطابق 2 کروڑ 5 لاکھ سے زائد بچے پانچ سے سولہ سال کی عمر میں اسکول سے باہر ہیں۔

لیکن یہاں ایک اہم احتیاط بھی ضروری ہے۔ خود رپورٹ تسلیم کرتی ہے کہ چھوٹی انتظامی اکائی لازماً بہتر حکمرانی کی ضمانت نہیں۔ عالمی تجربہ ملا جلا ہے اور کسی نئے صوبے کی کامیابی اس کے انتظامی اور مالی ڈیزائن پر بھی منحصر ہوتی ہے۔

این ایف سی: سولہ سال سے ایک ہی فارمولہ

پاکستان میں صوبوں اور وفاق کے درمیان مالی وسائل کی تقسیم کے لیے نیشنل فنانس کمیشن یعنی این ایف سی موجود ہے۔ آئین کے آرٹیکل 160 کے تحت این ایف سی پانچ سال سے زیادہ کے وقفے پر تشکیل دیا جانا چاہیے۔ لیکن ساتواں این ایف سی ایوارڈ دسمبر 2009 میں طے ہوا اور یکم جولائی 2010 سے نافذ ہوا۔ اس کے بعد تین کمیشن اتفاق رائے سے نیا ایوارڈ دینے میں ناکام رہے۔ یوں 2026 تک ایک ایسا مالیاتی فارمولا برقرار ہے جو 16 سال پہلے طے کیا گیا تھا۔

اس دوران پاکستان کی آبادی میں پانچ کروڑ سے زیادہ اضافہ ہوا، نئے اضلاع بنے، سابق قبائلی علاقوں کا خیبر پختونخوا میں انضمام ہوا اور ملک کو بڑے پیمانے پر سیلابوں کا سامنا کرنا پڑا، مگر وفاقی اور صوبائی وسائل کی تقسیم کا بنیادی فارمولا تبدیل نہیں ہوا۔

یہ سوال نئی صوبائی بحث میں اس لیے اہم ہے کہ صرف صوبوں کی تعداد بڑھانے سے مالی مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ نئے صوبوں کے لیے وسائل کی تقسیم کا نیا اور قابلِ عمل نظام بھی ضروری ہوگا۔

مقامی حکومت: آئین میں موجود، زمین پر کمزور

ایک اور اہم سوال یہ ہے کہ اگر مسئلہ شہری اور حکومت کے درمیان فاصلے کا ہے تو کیا نئے صوبے بنانے کے بجائے مقامی حکومت کو مضبوط نہیں کیا جا سکتا؟

آئین کا آرٹیکل 140-A صوبوں کو پابند کرتا ہے کہ وہ مقامی حکومت کا نظام قائم کریں اور سیاسی، انتظامی اور مالی اختیارات منتخب بلدیاتی نمائندوں کو منتقل کریں۔

لیکن رپورٹ کے مطابق مقامی حکومت کا حصہ 2005 میں مجموعی سرکاری اخراجات کا تقریباً 10 فیصد تھا، جو 2024 میں پانچ فیصد سے بھی کم رہ گیا۔

2026-27 میں صوبوں کو وفاق سے تقریباً 9.2 کھرب روپے منتقل ہونے کا تخمینہ ہے، جس میں سے تقریباً 1.8 کھرب روپے مقامی حکومتوں کو منتقل ہونے ہیں۔

پنجاب میں 2015 کے بعد سے مقامی حکومت کے انتخابات نہ ہونے کا بھی رپورٹ میں ذکر ہے۔

یہی وجہ ہے کہ نئی صوبائی اکائیوں کے مخالفین یہ مؤقف اختیار کرتے ہیں کہ پاکستان کو مزید صوبوں کے بجائے پہلے موجودہ آئینی بلدیاتی نظام پر عمل درآمد کرنا چاہیے۔

رپورٹ خود اس اعتراض کو اہم قرار دیتی ہے اور تسلیم کرتی ہے کہ اگر آرٹیکل 140-A پر عمل درآمد نہ ہو تو نئے صوبے بھی اسی مرکزیت کا شکار ہو سکتے ہیں، صرف چھوٹے پیمانے پر۔

سیلاب، موسمیاتی تبدیلی اور نئی انتظامی ضرورت

پاکستان کے لیے انتظامی مسئلہ اب صرف اسکول، اسپتال یا سڑک تک محدود نہیں رہا۔ موسمیاتی تبدیلی نے حکمرانی کے تصور کو بھی بدل دیا ہے۔

2022 کے سیلاب میں ملک کا تقریباً ایک تہائی حصہ زیرِ آب آیا۔ 1700 سے زیادہ افراد جاں بحق ہوئے، تقریباً 3 کروڑ 30 لاکھ افراد متاثر ہوئے اور تقریباً 80 لاکھ بے گھر ہوئے۔

20 لاکھ سے زائد مکانات کو نقصان پہنچا یا وہ تباہ ہوئے جبکہ ملک کے تقریباً 10 فیصد صحت مراکز متاثر ہوئے۔ مجموعی نقصان اور معاشی خسارے کا تخمینہ 30 ارب ڈالر سے زیادہ لگایا گیا۔ 2025 کے مون سون میں بھی ایک ہزار سے زیادہ اموات رپورٹ ہوئیں۔

موسمیاتی آفات میں ایک فیصلہ چند گھنٹوں میں کرنا ہوتا ہے، لیکن اگر فیصلہ ساز سینکڑوں کلومیٹر دور ہو تو انتظامی ردعمل کی رفتار متاثر ہو سکتی ہے۔

یہی وجہ ہے کہ رپورٹ نئی صوبائی اکائیوں کی بحث کو صرف سیاسی یا انتظامی مسئلہ نہیں بلکہ ہیومن سکیورٹی سے بھی جوڑتی ہے۔

کیا چھوٹے صوبے واقعی زیادہ ترقی کرتے ہیں؟

دنیا کے تجربات اس سوال کا سیدھا جواب نہیں دیتے۔ بھارت میں 2000 میں چھتیس گڑھ، جھارکھنڈ اور اتراکھنڈ نئی ریاستوں کے طور پر وجود میں آئے۔ رپورٹ کے مطابق 25 سال بعد ان تینوں میں فی کس آمدنی اور بعض ترقیاتی اشاریوں میں اپنے سابقہ بڑے صوبوں کے مقابلے میں بہتری دیکھی گئی۔

لیکن اسی بھارتی تجربے پر ہونے والی ایک سائنٹیفک تحقیق زیادہ محتاط نتیجہ پیش کرتی ہے۔ اس تحقیق کے مطابق تین نئی ریاستوں میں سے صرف اتراکھنڈ میں معاشی ترقی کا شماریاتی طور پر واضح اثر سامنے آیا، جبکہ دیگر ریاستوں کے نتائج اتنے مضبوط نہیں تھے۔ یعنی نئی ریاست یا صوبہ بنانا خود بخود معاشی ترقی کی ضمانت نہیں۔

یہ نکتہ پاکستان کے لیے بھی اہم ہے۔

نیا صوبہ اگر صرف نیا سیکریٹریٹ، نئی اسمبلی اور نئے عہدے پیدا کرے، مگر تعلیم، صحت، بلدیاتی نظام، مالی اختیارات اور مقامی انتظام میں حقیقی تبدیلی نہ لائے تو نقشہ بدلنے سے شہری کی زندگی لازماً نہیں بدلے گی۔

نسل یا زبان نہیں، انتظامی بنیاد؟

پاکستان میں نئے صوبوں کی بحث اکثر لسانی یا نسلی شناخت کے گرد گھومتی رہی ہے۔ سرائیکی صوبہ، ہزارہ صوبہ، مہاجر صوبہ اور دیگر مطالبات اسی وسیع بحث کا حصہ رہے ہیں۔ ڈیجیٹل ڈیبیٹ کی رپورٹ اس کے بجائے آبادی، جغرافیہ، انتظامی تسلسل اور مالی استعداد کو بنیاد بنانے کی تجویز دیتی ہے۔

اس تصور کے تحت موجودہ 34 ڈویژن نئے صوبوں کی ممکنہ بنیاد بن سکتے ہیں۔

رپورٹ کے تجویز کردہ اصولوں میں کسی نئے یونٹ کی آبادی تقریباً 1 کروڑ سے 2 کروڑ 50 لاکھ کے درمیان رکھنے، جغرافیائی تسلسل برقرار رکھنے، موجودہ ڈویژنل حدود سے فائدہ اٹھانے اور ہر یونٹ کے لیے مالی وسائل کی قابلِ عمل بنیاد یقینی بنانے کی بات کی گئی ہے۔

اس تصور کی ایک اہم بات یہ ہے کہ نئی صوبائی حدود بنانے کے لیے لازماً نئے سرے سے پورے نقشے پر لکیریں کھینچنے کی ضرورت نہیں۔ موجودہ انتظامی حدود کو بنیاد بنا کر بھی ایک نیا انتظامی ڈھانچہ تشکیل دیا جا سکتا ہے۔

رپورٹ میں پیش کردہ ایک مثالی ماڈل میں پاکستان کو 15 اکائیوں کی وفاقی ساخت کے طور پر دکھایا گیا ہے، تاہم رپورٹ واضح کرتی ہے کہ یہ کسی مخصوص صوبائی تقسیم کی حتمی تجویز نہیں بلکہ انتظامی امکان سمجھانے کی مثال ہے۔

اصل رکاوٹ کہاں ہے؟

پاکستان میں نئے صوبوں کی بحث نئی نہیں۔ جنوبی پنجاب، بہاولپور، ہزارہ اور کراچی سمیت مختلف علاقوں سے نئے صوبوں کے مطالبات کئی دہائیوں سے سامنے آتے رہے ہیں۔ جنوبی پنجاب کے لیے 2020 میں الگ سول سیکریٹریٹ قائم ہوا اور جنوری 2022 میں سینیٹ نے جنوبی پنجاب صوبے کے قیام سے متعلق ایک بل بھی منظور کیا، لیکن نیا صوبہ وجود میں نہیں آیا۔ رپورٹ کے مطابق مسئلہ صرف آئینی پیچیدگی نہیں بلکہ سیاسی ترغیبات بھی ہیں۔

نئے صوبے بنانے سے موجودہ صوبائی سیاسی طاقت تقسیم ہوگی، نئے وزرائے اعلیٰ، کابینہ، اسمبلیاں اور سیاسی مراکز پیدا ہوں گے۔ اس لیے جن لوگوں کے پاس موجودہ نظام میں اختیار ہے، ان کے لیے اس اختیار کو تقسیم کرنا سیاسی طور پر آسان فیصلہ نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ رپورٹ عوامی رائے کو اس بحث میں مرکزی حیثیت دینے کی تجویز پیش کرتی ہے۔

آئین کیا کہتا ہے؟

نیا صوبہ بنانا محض پارلیمانی قرارداد سے ممکن نہیں۔آئین کے آرٹیکل 239(4) کے تحت کسی صوبے کی حدود تبدیل کرنے والی آئینی ترمیم کے لیے متعلقہ صوبائی اسمبلی میں دو تہائی اکثریت ضروری ہے۔ اس کے بعد قومی اسمبلی اور سینیٹ میں بھی دو تہائی اکثریت درکار ہوگی۔ یعنی جس صوبے کو تقسیم کیا جانا ہو، اس کی صوبائی اسمبلی کے ارکان کے پاس مؤثر طور پر اس عمل کو روکنے کا اختیار موجود ہے۔

رپورٹ آرٹیکل 48(6) کے تحت ریفرنڈم کے امکان پر بھی بات کرتی ہے۔ اس شق کے تحت وزیر اعظم، پارلیمان کے مشترکہ اجلاس کی منظوری سے، قومی اہمیت کے کسی معاملے کو ریفرنڈم کے لیے عوام کے سامنے رکھ سکتے ہیں۔

تاہم ریفرنڈم خود نیا صوبہ نہیں بنا سکتا۔ حتمی آئینی تبدیلی کے لیے آرٹیکل 239 کا طریقہ کار بہرحال ضروری رہے گا۔

لیکن ریفرنڈم بھی آسان راستہ نہیں

ریفرنڈم کے تصور پر بھی اعتراضات موجود ہیں۔ رپورٹ میں سابق سینیٹر مصطفیٰ نواز کھوکھر کا مؤقف درج ہے کہ پاکستان کی تاریخ میں ماضی کے متنازع ریفرنڈمز کے تجربے کی وجہ سے ایسا عمل مزید سیاسی بحران پیدا کر سکتا ہے اور معاملہ آزادانہ و منصفانہ انتخابات کے بعد منتخب اسمبلیوں پر چھوڑا جانا چاہیے۔

رپورٹ اس اعتراض کو سنجیدہ قرار دیتی ہے اور کہتی ہے کہ اگر کبھی ریفرنڈم ہو تو اسے آزاد الیکشن کمیشن کی نگرانی، شفافیت، مشاہدے اور حقیقی عوامی بحث کے بعد ہونا چاہیے۔

اصل سوال: صوبے یا مقامی حکومت؟

نئی صوبائی اکائیوں کی بحث کا سب سے بنیادی سوال شاید یہی ہے۔ اگر ایک شہری اپنے گھر کے قریب اسکول، اسپتال، پانی، صفائی اور میونسپل سروسز چاہتا ہے تو کیا اسے صوبائی دارالحکومت تبدیل ہونے سے فائدہ ہوگا یا منتخب بلدیاتی حکومت کو اختیار ملنے سے؟

رپورٹ کا جواب دونوں کو ایک دوسرے کا متبادل نہیں بلکہ تکمیلی اصلاحات سمجھتا ہے۔

اس میں تجویز دی گئی ہے کہ نئے صوبوں کے ساتھ ساتھ مقامی حکومتوں کے انتخابات کرائے جائیں، صوبائی فنانس کمیشن کے ایوارڈز کو مؤثر بنایا جائے اور آئین کے آرٹیکل 140-A کے تحت تعلیم، بنیادی صحت، پانی، نکاسی آب اور بلدیاتی خدمات کے اختیارات نچلی سطح تک منتقل کیے جائیں۔

پانچ سالہ راستہ

ڈیجیٹل ڈیبیٹ نے نئی صوبائی اکائیوں کے لیے فوری نقشہ بدلنے کے بجائے پانچ سالہ مرحلہ وار پروگرام تجویز کیا ہے۔

پہلے مرحلے میں صوبائی تنظیمِ نو کمیشن، مالی وسائل کی تقسیم کے لیے نیا این ایف سی ایوارڈ اور نئے صوبوں کے اخراجات کا مکمل تخمینہ شامل ہے۔ دوسرے مرحلے میں بلدیاتی انتخابات اور مقامی حکومتوں کو مالی و انتظامی اختیارات دینے کی تجویز ہے۔ تیسرے مرحلے میں ڈویژن کی سطح پر عوامی مشاورت، سماعتیں اور ریفرنڈم کی بات کی گئی ہے۔چوتھے مرحلے میں آئینی ترمیم، اثاثوں اور واجبات کی تقسیم، سول سروس کی تنظیمِ نو اور ہائی کورٹس کے قیام سمیت کم از کم 36 ماہ کی منتقلی کا عمل تجویز کیا گیا ہے۔

تو پھر فیصلہ کیا ہے؟

نئے صوبے پاکستان کے تمام انتظامی، معاشی، تعلیمی اور موسمیاتی مسائل کا خودکار حل نہیں۔ خود تحقیق تسلیم کرتی ہے کہ چھوٹی انتظامی اکائیوں کے بہتر نتائج کے بارے میں عالمی شواہد یکساں نہیں۔

لیکن دوسری طرف موجودہ نظام کے بارے میں بھی سوالات کم نہیں۔ ایک طرف 24 کروڑ سے زائد آبادی، دوسری طرف صرف چار صوبائی حکومتیں۔ ایک طرف بلوچستان کا 44 فیصد سے زیادہ رقبہ، دوسری طرف آبادی کا صرف 6.2 فیصد حصہ۔ ایک طرف گوادر سے کوئٹہ کا تقریباً 910 کلومیٹر انتظامی فاصلہ، دوسری طرف ایک ہی صوبائی دارالحکومت سے وسیع رقبے کی نگرانی۔ ایک طرف آرٹیکل 140-A کے تحت بلدیاتی اختیارات کی آئینی ضمانت، دوسری طرف مقامی حکومتوں کا مجموعی سرکاری اخراجات میں پانچ فیصد سے بھی کم حصہ اور ایک طرف این ایف سی کا پانچ سالہ آئینی تصور، دوسری طرف 2010 سے برقرار ساتواں ایوارڈ۔

یہ اعدادوشمار ایک سوال ضرور اٹھاتے ہیں۔ کیا پاکستان کا انتظامی ڈھانچہ موجودہ آبادی، جغرافیے اور موسمیاتی خطرات کے مطابق ہے؟

اس سوال کا جواب صرف سیاسی جماعتیں، صوبائی حکومتیں یا پارلیمان نہیں دیں گی۔ آخرکار اس بحث کا مرکز وہ شہری ہے جو اسکول، اسپتال، پولیس، پانی، سڑک، زمین کے ریکارڈ اور روزمرہ ریاستی خدمات کے لیے حکومت سے رابطہ کرتا ہے۔

پاکستان کے انتظامی نقشے پر موجود 34 ڈویژن پہلے ہی ایک حقیقت ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا انہیں صرف سرکاری انتظام کی سطح پر رکھا جائے گا یا کبھی سیاسی اختیار، مالی وسائل اور عوامی نمائندگی بھی دی جائے گی؟

نئے صوبوں کی بحث دراصل صرف نقشہ بدلنے کی بحث نہیں۔ یہ اس سوال کی بحث ہے کہ ریاست شہری کے کتنے قریب ہونی چاہیے اور شاید سب سے اہم سوال یہ نہیں کہ پاکستان میں کتنے صوبے ہونے چاہئیں، بلکہ یہ ہے کہ پاکستان کے شہری کس فاصلے پر حکومت چاہتے ہیں۔

ڈیجیٹل ڈیبیٹ کی رپورٹ اسی سوال کو عوام کے سامنے رکھنے کی تجویز دیتی ہے۔ اس کے مطابق مشاورت، مالیاتی اصلاحات اور مقامی حکومتوں کے اختیارات کے بعد عوامی رائے معلوم کی جا سکتی ہے، جبکہ حتمی فیصلہ آئینی طریقہ کار کے تحت ہی ہوگا۔

پاکستان کا انتظامی نقشہ تبدیل ہو یا نہ ہو، ایک حقیقت تبدیل نہیں ہو سکتی، 241.5ملین شہریوں کے ملک میں حکمرانی کا فاصلہ بھی ایک پالیسی مسئلہ ہے اور اس مسئلے کا حل صرف نقشے پر لکیر کھینچنے سے نہیں، بلکہ اختیار، وسائل اور جواب دہی کو شہری کے قریب منتقل کرنے سے وابستہ ہے۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp