ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما فاروق ستار نے میئر کراچی مرتضیٰ وہاب کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ وہ تقریباً ڈھائی سال ایڈمنسٹریٹر کراچی اور بعد ازاں میئر کی حیثیت سے ذمہ داریاں ادا کرتے رہے، مگر کراچی کے 10 ہزار سے زائد ریٹائرڈ بلدیاتی ملازمین گزشتہ ایک دہائی سے پنشن جیسے بنیادی حق سے محروم ہیں۔
نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے فاروق ستار نے کہا کہ سندھ ہائیکورٹ نے 15 ستمبر 2026 کو پنشن کے معاملے پر تفصیلی اور واضح فیصلہ سنایا ہے، جس میں 10 ہزار سے زائد ریٹائرڈ ملازمین کو 60 روز کے اندر پنشن جاری کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
فاروق ستار کے مطابق مختلف آئینی درخواستوں کو یکجا کیا گیا تھا کیونکہ ان کا مقصد ایک ہی تھا۔ انہوں نے کہا کہ عدالت کا فیصلہ مختصر نہیں بلکہ تفصیلی ہے اور اس میں معاملے کے حوالے سے کوئی ابہام باقی نہیں رہا۔
یہ بھی پڑھیں:چند خاندانوں کی حاکمیت ختم کرنا ناگزیر، سندھ میں 6 صوبے بنائے جائیں، فاروق ستار
انہوں نے الزام عائد کیا کہ سندھ حکومت، محکمہ خزانہ اور محکمہ بلدیات کی جانب سے پنشن کی ادائیگی کے معاملے میں مختلف تاخیری حربے اور رکاوٹیں پیدا کی جاتی رہیں، تاہم سندھ ہائیکورٹ کے فیصلے نے ان تمام کوششوں پر پانی پھیر دیا۔
ایم کیو ایم رہنما نے کہا کہ یہ فیصلہ کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن، میئر کراچی اور دیگر بلدیاتی اداروں کے سربراہان کے لیے بھی ایک آئینہ ہے اور اس سے ان کی کارکردگی اور اہلیت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔
فاروق ستار نے کہا کہ کراچی میں بلدیاتی انتخابات 15 جنوری 2023 کو ہوئے تھے، تاہم مرتضیٰ وہاب اس سے پہلے تقریباً ڈھائی سال تک ایڈمنسٹریٹر کراچی کی حیثیت سے بھی ذمہ داریاں ادا کر چکے تھے۔ انہوں نے کہا کہ مرتضیٰ وہاب کا انتظامی دورانیہ کراچی کے ایڈمنسٹریٹرز میں طویل ترین رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ کراچی کے مختلف بلدیاتی اداروں میں ریٹائرڈ ملازمین ایک طویل عرصے سے اپنی پنشن کے منتظر ہیں اور اب عدالت کے واضح حکم کے بعد متعلقہ اداروں کو 60 روز کے اندر ادائیگی یقینی بنانا ہوگی۔
فاروق ستار نے مزید کہا کہ کراچی کے بلدیاتی نظام میں میئر کراچی کے علاوہ ٹاؤن چیئرمین بھی موجود ہیں، تاہم پنشن کے معاملے پر ریٹائرڈ ملازمین کو گزشتہ کئی برس سے مشکلات کا سامنا رہا ہے۔
انہوں نے سندھ ہائیکورٹ کے فیصلے کو ریٹائرڈ ملازمین کے لیے اہم پیشرفت قرار دیتے ہوئے کہا کہ اب عدالتی حکم پر عملدرآمد ہونا چاہیے اور 10 ہزار سے زائد ملازمین کو ان کا حق ملنا چاہیے۔














