امریکی وفاقی جج نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سی این این، ایم ایس ناؤ اور پولیٹیکو کے صحافیوں کو وائٹ ہاؤس میں داخلے سے روکنے کے حکم پر عمل درآمد معطل کرتے ہوئے تینوں اداروں کی صحافتی رسائی فوری بحال کرنے کا حکم دے دیا۔
مزید پڑھیں:فورڈز تھیٹر: تاریخی ورثے کو ڈونلڈ ٹرمپ کے نام سے منسوب کرنے کی کوشش، امریکا میں نیا تنازع تیار
وفاقی جج ٹموتھی کیلی نے قرار دیا کہ تینوں میڈیا اداروں پر پابندی عائد کرنے کا اقدام بادی النظر میں آئین سے متصادم ہے۔ عدالت نے انتظامیہ کو 14 روز تک پابندی نافذ کرنے سے بھی روک دیا۔
CNN, MS NOW, and Politico are suing the Trump Administration following President Donald Trump’s decision to ban the three media outlets from the White House.
Trump took to Truth Social shortly afterwards and insisted the White House “is not instituting an assault on the free… pic.twitter.com/1oI5wk9E26
— TIME (@TIME) September 23, 2026
عدالت نے امریکی حکومت کا یہ مؤقف مسترد کیا کہ میڈیا اداروں پر پابندی قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے ضروری تھی۔ جج کے مطابق ریکارڈ میں ایسا قابلِ اعتماد ثبوت موجود نہیں جس سے ثابت ہو کہ صحافیوں کے مستقل پریس پاس منسوخ کرنے سے قومی سلامتی کا تحفظ ہوگا۔
مزید پڑھیں:ڈونلڈ ٹرمپ کا واشنگٹن کے ٹرائمفل آرچ کو فوجی کمپلیکس میں تبدیل کرنے کا اعلان
سی این این، ایم ایس ناؤ اور پولیٹیکو نے وائٹ ہاؤس کی پابندی کے خلاف مقدمہ دائر کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا تھا کہ اقدام امریکی آئین کی پہلی ترمیم میں دی گئی آزادیٔ اظہار و صحافت اور قانونی کارروائی کے حق کی خلاف ورزی ہے۔














