وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے خیبر پختونخوا میں پولیس سے متعلق مجوزہ قانون سازی پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ دہشتگردی کے خلاف لڑنے والی پولیس کا کمانڈ اینڈ کنٹرول اسٹرکچر تباہ نہیں کیا جا سکتا، ایسی قانون سازی آئین اور پی ایس پی رولز سے متصادم نہیں ہونی چاہیے۔
نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے طلال چوہدری نے کہا کہ اگر بلوچستان اپنی فوج بنانا چاہے تو وہ فوج نہیں بنا سکتا، اسی طرح صوبے پولیس کے حوالے سے بھی ایسی قانون سازی نہیں کرسکتے جو وفاقی قوانین اور پی ایس پی رولز سے متصادم ہو۔ ان کے مطابق پولیس سروس آف پاکستان کے قواعد کئی ادوار میں عدالتوں میں چیلنج ہوئے اور عدالتی فیصلوں کے بعد ان کے مرکزی اصول اور قواعد طے ہوئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا پولیس دہشتگردی کے خلاف لڑ رہی ہے اور روزانہ اہلکار شہادتیں دے رہے ہیں، اس لیے ایسی پولیس کے کمانڈ اسٹرکچر کو قانون سازی کے ذریعے ختم نہیں کیا جاسکتا۔
یہ بھی پڑھیں:پی ٹی آئی جو کچھ کررہی ہے اس سے عمران خان کو فائدے کے بجائے نقصان ہوگا، طلال چوہدری
طلال چوہدری نے دعویٰ کیا کہ مجوزہ قانون میں صرف آئی جی پولیس کے اختیارات واپس نہیں لیے گئے بلکہ پورا کمانڈ اسٹرکچر متاثر کیا گیا ہے۔ ان کے مطابق 17ویں گریڈ کے ڈی ایس پیز، جنہیں ایس ٹی پی اوز کہا جاتا ہے، کی تعیناتی کا اختیار ریجنل پولیس افسر یا ڈی آئی جی کے پاس ہوتا ہے، وہ بھی واپس لیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پولیس میں 17ویں سے 19ویں گریڈ کی بعض دیگر تقرریوں کے اختیارات بھی ایڈیشنل آئی جی سے واپس لیے گئے ہیں۔ ڈی ایس پی سے لے کر آئی جی تک مختلف سطحوں پر اختیارات میں تبدیلی کے ذریعے وزیراعلیٰ کے پاس اختیارات مرکوز کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔
وزیر مملکت نے سوال اٹھایا کہ اگر پولیس افسر اپنے سینیئرز اور کمانڈ اسٹرکچر کو دیکھنے کے بجائے سیاسی لوگوں کی طرف دیکھ کر فیصلے کریں گے تو کیا پولیس میں نظم و ضبط برقرار رہے گا اور کیا اس سے اہلکاروں کا مورال متاثر نہیں ہوگا؟
ان کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ کے پاس پہلے ہی پولیس کے مختلف عہدوں پر تعیناتیوں کے حوالے سے مشاورت اور ہدایات دینے کے اختیارات موجود ہیں، تاہم یہ اختیارات محدود ہیں اور ان سے پولیس کا کمانڈ اسٹرکچر یا مورال متاثر نہیں ہوتا۔
یہ بھی پڑھیں:دہشتگرد بن کر اسلام آباد آنے والوں کو واپس نہیں جانے دیا جائےگا، طلال چوہدری کا جنید اکبر کے بیان پر ردعمل
طلال چوہدری نے کہا کہ پولیس میں بھرتی، تربیت اور ترقی سمیت تمام معاملات کو وزیراعلیٰ یا سیاسی قیادت کے مکمل کنٹرول میں نہیں دیا گیا، تاہم خیبر پختونخوا میں مجوزہ قانون سازی کے ذریعے معاملہ انتہا تک پہنچا دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں ماضی میں اداروں کو سیاست سے پاک کرنے کی بات کی جاتی رہی ہے اور مغرب و مشرق کی مثالیں دے کر اداروں کی غیر سیاسی حیثیت پر لیکچر دیے جاتے رہے ہیں، مگر اب پولیس کے معاملے میں اس کے برعکس اقدامات کیے جارہے ہیں۔
طلال چوہدری نے کہا کہ پولیس کا کمانڈ اینڈ کنٹرول متاثر ہوگا تو یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ دہشتگردی کے خلاف برسرپیکار فورس اسی مؤثر انداز میں اپنی ذمہ داریاں کیسے ادا کرے گی۔












