حکومت نے جمعرات کو پیٹرول کی قیمت میں 84 پیسے فی لیٹر اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 2 روپے 63 پیسے فی لیٹر کمی کر دی۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم کی جانب سے پیٹرول ریلیف اسکیم، عوام کیا کہتے ہیں؟
نظرثانی کے بعد پیٹرول کی نئی قیمت 389 روپے 28 پیسے فی لیٹر جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل 412 روپے 12 پیسے فی لیٹر ہو گی۔ حکومت پیٹرول پر 114 روپے فی لیٹر اور ڈیزل پر 100 روپے فی لیٹر ٹیکس اور ڈیوٹیز وصول کرنا جاری رکھے ہوئے ہے۔
پیٹرولیم ڈویژن کے نوٹیفکیشن کے مطابق نئی قیمتوں کا اطلاق جمعرات اور جمعے کی درمیانی شب 12 بجے (25 ستمبر) سے ہوگا۔
ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت 3 اپریل کو ریکارڈ کی گئی 520 روپے 35 پیسے کی بلند ترین سطح سے کم ہو کر موجودہ سطح پر آئی ہے۔ 28 فروری کو امریکا ایران جنگ شروع ہونے کے بعد اس کی قیمت 281 روپے فی لیٹر سے بڑھنا شروع ہوئی تھی۔
پیٹرول کی قیمت بھی 3 اپریل کو 458 روپے 41 پیسے کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی تھی جبکہ مارچ کے پہلے ہفتے میں اس کی قیمت 266 روپے سے بڑھنا شروع ہوئی تھی۔
دریں اثنا حکومت نے مشرق وسطیٰ میں جاری تنازع کے درمیان ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے جواب میں کفایت شعاری کے متعدد اقدامات دوبارہ نافذ کیے ہیں۔ ان اقدامات کے تحت مارکیٹیں رات 9 بجے بند کرنا لازم قرار دیا گیا ہے اور سرکاری گاڑیوں کے لیے ایندھن کی فراہمی میں 3 ماہ کے لیے 50 فیصد کمی کر دی گئی ہے۔
مزید پڑھیے: پیٹرول کی فی لیٹر قیمت ایک ہزار روپے تک جا سکتی ہے، وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک
13 ستمبر کو وزیراعظم شہباز شریف نے عالمی تیل کی قیمتوں میں اضافے کے بوجھ کو کم کرنے کے لیے موٹرسائیکلوں، آٹوز اور 800 سی سی تک کی گاڑیوں کے صارفین کے لیے ’ریلیف اسکیم‘ کا بھی اعلان کیا تھا۔
اس سے قبل 17 جولائی کو وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے اعلان کیا تھا کہ ایران اور امریکہ کے درمیان دوبارہ کشیدگی کے بعد بین الاقوامی مارکیٹ میں قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے باعث اب ایندھن کی قیمتوں کا تعین روزانہ کی بنیاد پر کیا جائے گا۔
اس سے قبل حکومت مارچ کے اوائل سے ایندھن کی قیمتوں میں ہفتہ وار نظرثانی کا اعلان کر رہی تھی اور ساتھ ہی مشرق وسطیٰ میں جاری تنازع کی وجہ سے تیل کی سپلائی میں ممکنہ رکاوٹوں کے پیش نظر ایندھن کے تحفظ کے اقدامات بھی کیے جا رہے تھے۔ وفاقی حکومت نے اپریل میں سبسڈی والے ایندھن کی فراہمی کے لیے ٹارگٹڈ ریلیف اقدامات کا بھی اعلان کیا تھا۔
وزیر پیٹرولیم نے بتایا کہ کابینہ اور وزیراعظم نے آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی کو بین الاقوامی مارکیٹ کے رجحانات کی بنیاد پر روزانہ کی بنیاد پر ایندھن کی قیمتوں کا فیصلہ کرنے کی ذمہ داری دینے کا فیصلہ کیا ہے۔
پیٹرول بنیادی طور پر نجی ٹرانسپورٹ، چھوٹی گاڑیوں، رکشوں اور دو پہیہ گاڑیوں میں استعمال ہوتا ہے، اور اس کی قیمت میں تبدیلی متوسط اور نچلے متوسط طبقے کو متاثر کرتی ہے۔
اسی طرح، ڈیزل کی قیمتوں میں تبدیلی بھی عام لوگوں پر اثر انداز ہوتی ہے، کیونکہ یہ بنیادی طور پر ہیوی ٹرانسپورٹ سیکٹر، پاور پلانٹس اور بڑے جنریٹرز میں استعمال ہوتا ہے۔
مزید پڑھیں: موٹر سائیکل، رکشہ اور چنگچی والوں کے لیے پیٹرول اسکیم میں بڑی تبدیلیاں،اب 2006 سے رجسٹرڈ گاڑیاں بھی شامل
پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل آمدنی کے بڑے ذرائع ہیں جن کی ماہانہ فروخت تقریباً 7 لاکھ سے 8 لاکھ ٹن ہے جبکہ مٹی کے تیل کی ماہانہ طلب صرف 10 ہزار ٹن ہے۔














