شہباز شریف اور مسعود پزشکیان کی اہم ملاقات، مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ’اسلام آباد مفاہمتی یادداشت‘ پر عملدرآمد پر زور

جمعہ 25 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

وزیراعظم شہباز شریف نے نیویارک میں ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے ملاقات کے دوران مشرقِ وسطیٰ میں پائیدار امن کے قیام کے لیے پاک امریکا ایران ’اسلام آباد مفاہمتی یادداشت‘ پر فوری عملدرآمد کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81 ویں اجلاس کے موقع پر ہونے والی اس اہم ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے خطے میں کشیدگی کے خاتمے اور سفارتی روابط کے تسلسل پر کامل اتفاق کیا۔

جمعرات کو وزیراعظم پاکستان میاں شہباز شریف کی جانب سے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری پوسٹ کے مطابق ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں نے خطے کی تازہ ترین صورتحال پر تفصیلی تبادلہِ خیال کیا۔

وزیر اعظم شہباز شریف نے اپنے بیان میں ایرانی صدر کو اپنا ’پیارا بھائی‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ نیویارک میں صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان سے ملاقات ان کے لیے انتہائی باعثِ مسرت رہی۔

ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں نے پاکستان اور ایران کے مابین قائم گہرے، دیرینہ اور تاریخی تعلقات کی تجدید کی اور باہمی دلچسپی کے تمام شعبوں میں دوطرفہ تعاون کو مزید وسعت دینے کی خواہش کا اظہار کیا۔

علاقائی صورتحال، ضبط و تحمل اور سفارت کاری

خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال پر تفصیلی تبادلہِ خیال کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعظم نے طویل ہوتے ہوئے تنازع پر پاکستان کی شدید تشویش کا اعادہ کیا۔

انہوں نے واضح کیا کہ اس وقت خطے کو فوری ضبط و تحمل، کشیدگی میں کمی اور مسلسل سفارتی حکمتِ عملی کی اشد ضرورت ہے۔

وزیر اعظم نے زور دے کر کہا کہ پاکستان ’اسلام آباد یادداشت‘ کے فریم ورک کو آگے بڑھانے کے لیے مکمل طور پر پرعزم ہے اور خطے میں پائیدار امن و استحکام کے قیام کے لیے اپنا مخلصانہ اور مثبت کردار جاری رکھے گا۔

انہوں نے اس اہم اور نازک موڑ پر علاقائی امن اور پاک ایران دوستی کے لیے صدر پزشکیان کے عزم اور قریبی تعاون کو انتہائی قابلِ قدر قرار دیا۔

وزیر اعظم شہباز شریف نے طویل عرصے سے جاری کشیدگی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ضبط و تحمل اور مذاکرات کے تسلسل کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔

یہ بھی پڑھیں:’اسلام آباد مفاہمتی یادداشت‘ کے تحت اپنے وعدوں اور ذمہ داریوں کی پاسداری کریں، پاکستان کا امریکا اور ایران پر زور

انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان خطے میں پائیدار امن کی بحالی کے لیے اپنا مخلصانہ اور مثبت کردار ادا کرتا رہے گا۔

ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے پاکستان کی اصول پسندانہ سفارت کاری اور علاقائی سیکیورٹی کے لیے کی جانے والی کوششوں کی تعریف کی۔

انہوں نے دونوں ممالک کے تاریخی، ثقافتی اور دینی تعلقات کا اعادہ کرتے ہوئے باہمی تعاون کو تمام شعبوں میں مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا۔

’اسلام آباد معاہدہ‘ اور اس کے اہم نکات

واضح رہے کہ پاکستان کی ثالثی میں جون میں طے پانے والا ’اسلام آباد معاہدہ‘ امریکا اور ایران کے درمیان تنازع کے حل کے لیے ایک جامع فریم ورک فراہم کرتا ہے۔

اس مفاہمتی یادداشت  پر وزیر اعظم شہباز شریف، ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دستخط کیے تھے۔

مفاہمتی یادداشت  کے تحت دونوں فریقین نے ملٹری آپریشنز روکنے، آبنائے ہرمز کو تجارتی جہاز رانی کے لیے دوبارہ کھولنے اور 60 دنوں کے اندر ایران کے ایٹمی پروگرام، امریکی پابندیوں کے خاتمے اور مستقل جنگ بندی کے لیے حتمی معاہدے پر پیش رفت کا عہد کیا تھا۔

پاکستان کی ثالثی

امریکا اور ایران کے درمیان رواں برس 28 فروری کو امریکی و اسرائیلی حملوں کے بعد شدید جنگ چھڑ گئی تھی۔ پاکستان نے کلیدی کردار ادا کرتے ہوئے 8 اپریل کو جنگ بندی ممکن بنائی اور بعد ازاں 12 اور 13 اپریل کو اسلام آباد میں دونوں ممالک کے اعلیٰ سطحی وفود کی میزبانی کی۔

اس کے بعد 21 جون کو سوئٹزرلینڈ کے شہر لوسرن میں پاکستان اور قطر کی مشترکہ ثالثی میں پہلے دور کے اعلیٰ سطحی مذاکرات ہوئے، جس میں امریکی نائب صدر وینز اور ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر قالی باف نے شرکت کی تھی۔

وفود کی سطح پر ملاقاتیں اور ایرانی قیادت کا خراجِ تحسین

نیویارک ملاقات کے موقع پر نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، وزیر دفاع خواجہ محمد آصف اور معاون خصوصی طارق فاطمی بھی موجود تھے۔

مزید پڑھیں:اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط پاکستان پر اعتماد کی بدولت ممکن ہوئے، ایرانی صدر مسعود پزشکیان

اس سے قبل نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار نے ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی سے بھی سائیڈ لائنز پر ملاقات کی اور دوطرفہ تعلقات پر بات چیت کی۔

سفارتی کاؤشوں کے سلسلے میں حال ہی میں وزیر داخلہ محسن نقوی نے تہران میں اپنے ایرانی ہم منصب اسکندر مومنی سے ملاقات کی تھی۔

اس موقع پر ایرانی وزیر داخلہ نے خطے میں امن کے لیے پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف اور چیف آف ڈیفنس فورسز و آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی انتھک کوششوں پر بالخصوص شکریہ ادا کیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp