بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز نے بھارتی حمایت یافتہ ’فتنہ الخوارج‘ اور ’فتنہ الہندوستان‘ کے خلاف جامع اور کامیاب آپریشنز کرتے ہوئے 21 ستمبر 2026 سے اب تک 33 دہشتگردوں کو جہنم واصل کر دیا ہے۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق 25 ستمبر 2026 کو سیکیورٹی فورسز نے بلوچستان کے ضلع نوشکی میں خفیہ اطلاعات پر ایک اہم اور کامیاب آپریشن کیا۔
یہ بھی پڑھیں:بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائیاں، بھارتی سرپرستی میں سرگرم 19 دہشتگرد ہلاک، حوالدار شہید
اس کارروائی کے دوران جوانوں نے دہشتگردوں کے ٹھکانوں کو انتہائی مؤثر انداز میں نشانہ بنایا۔ فورسز اور دہشتگردوں کے درمیان شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا جس کے نتیجے میں 11 دہشتگردوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔
’آپریشن شعبان‘ میں مزید کامیابیاں
اس سے قبل 24 ستمبر کو ’آپریشن شعبان‘ کے تسلسل میں بھی سیکیورٹی فورسز نے دہشتگردوں کے مزید خفیہ ٹھکانوں کا گھیراؤ کر کے تباہ کیا۔
اس کارروائی کے دوران ہونے والے شدید فائرنگ کے تبادلے میں بھارتی پشت پناہی میں کام کرنے والے 5 خوارج مارے گئے۔ اس طرح اس مخصوص آپریشن میں اب تک ہلاک ہونے والے خوارج کی کل تعداد 22 ہو گئی ہے۔
آئی ایس پی آر نے بتایا ہے کہ مارے گئے خوارج کے ٹھکانوں سے بھاری مقدار میں اسلحہ، گولہ بارود اور دھماکہ خیز مواد بھی برآمد کیا گیا ہے، جو ملک میں تخریب کاری کے لیے استعمال ہونا تھا۔
دہشتگردی کے مکمل خاتمے تک کلیئرنس آپریشن جاری
آئی ایس پی آر کے مطابق عسکری قیادت نے واضح کیا ہے کہ علاقے سے دہشتگردی کے خطرے کے مکمل خاتمے تک یہ کلیئرنس آپریشن پوری قوت کے ساتھ جاری رہے گا۔
مزید پڑھیں:بلوچستان کے ضلع پنجگور میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائی، فتنہ الہندوستان کے 4 دہشتگرد ہلاک
وفاقی ایپکس کمیٹی برائے نیشنل ایکشن پلان کی منظوری سے شروع ہونے والے وژن ’عزمِ استحکام‘ کے تحت سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے ادارے انسداد دہشتگردی کی مہم بلا تعطل اور پوری رفتار سے جاری رکھے ہوئے ہیں۔
اس عزم کا اعادہ کیا گیا ہے کہ ملک سے غیر ملکی اسپانسرڈ اور ان کی مالی معاونت سے چلنے والی دہشتگردی کے ناسور کا ہمیشہ کے لیے صفایا کر دیا جائے گا اور دشمن کے ناپاک عزائم کو کسی صورت کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا۔














