سیکیورٹی فورسز نے بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائی کے دوران 19 دہشتگردوں کو ہلاک کردیا، جبکہ فائرنگ کے تبادلے میں پاک فوج کے حوالدار نے جام شہادت نوش کیا۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ کے علاقے شعبان میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائی کے دوران بھارتی سرپرستی میں سرگرم فتنۃ الخوارج اور فتنۃ الہندوستان کے 13 دہشتگرد ہلاک ہوگئے، جبکہ ضلع کیچ اور کوئٹہ ویسٹ میں الگ الگ انٹیلی جنس بنیادوں پر کیے گئے آپریشنز میں مزید 6 دہشتگرد مارے گئے۔
انٹیلی جنس اداروں نے ضلع کوئٹہ کے علاقے شعبان میں بھارتی سرپرستی میں سرگرم فتنۃ الخوارج اور فتنۃ الہندوستان کے متعدد ٹھکانوں کی موجودگی کی اطلاع دی تھی، جو مقامی آبادی کے لیے خطرہ بن رہے تھے۔
مقامی آبادی کے تحفظ اور علاقے کو دہشتگردوں سے پاک کرنے کے لیے سکیورٹی فورسز نے 21 ستمبر 2026 سے شعبان میں کلیئرنس آپریشن شروع کر رکھا ہے۔ کارروائی کے دوران سیکیورٹی فورسز نے دہشتگردوں کے متعدد ٹھکانوں کو مؤثر انداز میں نشانہ بنا کر کلیئر کیا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق شدید فائرنگ کے تبادلے کے بعد اب تک 13 بھارتی سرپرستی میں سرگرم دہشتگرد ہلاک کیے جاچکے ہیں۔ کلیئر کیے گئے ٹھکانوں سے اسلحہ، گولہ بارود اور دھماکا خیز مواد بھی برآمد ہوا ہے۔ علاقے میں موجود خطرے کے مکمل خاتمے تک کلیئرنس آپریشن جاری رہے گا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق 22 اور 23 ستمبر 2026 کو ضلع کیچ اور ضلع کوئٹہ ویسٹ میں بھی الگ الگ کارروائیاں کی گئیں۔
سیکیورٹی فورسز نے انٹیلی جنس اطلاعات کی بنیاد پر پیشگی آپریشنز کیے، جن کے دوران دہشتگردوں کو مؤثر انداز میں نشانہ بنایا گیا۔
شدید فائرنگ کے تبادلے کے بعد ان کارروائیوں میں مزید 6 دہشتگرد ہلاک ہوئے، جبکہ ان کے قبضے سے اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد کیا گیا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق فائرنگ کے تبادلے کے دوران 39 سالہ حوالدار محمد جمیل نے جامِ شہادت نوش کیا۔ شہید حوالدار محمد جمیل کا تعلق ضلع ڈیرہ غازی خان کے علاقے تونسہ شریف سے تھا۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کا کہنا ہے کہ وفاقی ایپکس کمیٹی برائے قومی ایکشن پلان کی منظوری سے ’عزمِ استحکام‘ کے وژن کے تحت دہشتگردی کے خلاف مہم پوری رفتار سے جاری رہے گی۔
آئی ایس پی آر کے مطابق سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے ادارے ملک سے بیرونی سرپرستی اور معاونت سے ہونے والی دہشتگردی کے خاتمے کے لیے پُرعزم ہیں۔














