نئی تحقیق کے مطابق 86 فیصد شاپنگ سے متعلق سوالات پر اے آئی چیٹ بوٹس نے متضاد اور غلط معلومات فراہم کیں جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بغیر انسانی نگرانی کے ان پر بھروسہ کرنا خطرناک ہو سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ریٹائرڈ افراد کا رجحان اے آئی چیٹ بوٹس کی جانب کیوں بڑھ رہا ہے؟
یہ تحقیق اس ہفتے ’پروڈکٹ ڈاٹ اے آئی‘ نامی اسٹارٹ اپ نے شائع کی ہے جو مصنوعات کے دعوؤں کو ثبوت کے ساتھ جانچتا ہے۔
تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ اے آئی چیٹ بوٹس ابھی چھٹیوں کی شاپنگ کے لیے مکمل طور پر تیار نہیں ہیں۔ اس تجربے میں چیٹ جی پی ٹی، کلاڈ، جیمینائی اور پرپلیکسٹی کے مفت اور پیڈ دونوں ورژنز کو شامل کیا گیا تھا جن سے 220 شاپنگ سوالات پوچھے گئے جن میں لیپ ٹاپ، ٹی وی، میٹریس، سن اسکرین اور روبوٹک ویکیوم کلینر جیسی مصنوعات شامل تھیں۔
ہر سوال ہر سروس سے 5 بار پوچھا گیا جس سے مجموعی طور پر 8,794 جوابات حاصل ہوئے۔ متضاد معلومات سے مراد ایسی تفصیل ہے جسے آسانی سے چیک کیا جا سکتا ہے۔
تحقیق کے مطابق جب ماڈلز سے 2 مصنوعات کا براہ راست موازنہ کرنے کو کہا گیا تو 97 فیصد مواقع پر متضاد جوابات سامنے آئے جب کہ سیدھے سادے حقائق پر مبنی سوالات پر یہ شرح 75 فیصد رہی۔ قیمتوں کے حوالے سے اے آئی سب سے زیادہ کمزور ثابت ہوئی کیوں کہ 913 قابل تصدیق جوابات میں سے صرف 85 فیصد موجودہ قیمت سے مطابقت رکھتے تھے اور جب جوابات غلط تھے تو قیمت میں اوسطاً 300 ڈالر کا فرق تھا۔
جیمینائی نے اس تحقیق میں سب سے زیادہ مہنگی غلطیاں کیں اس کے مفت ورژن پر 56 فیصد اور پیڈ ورژن پر 54 فیصد۔ کلاڈ کی درستگی اس کے پیڈ ورژن پر کافی بہتر ہوئی جس میں مہنگی غلطیاں 44 فیصد سے کم ہو کر 21 فیصد پر آ گئیں۔
مزید پڑھیے: کتنے فیصد بالغ امریکی اے آئی چیٹ بوٹس سے نجی گفتگو کرتے ہیں؟
پرپلیکسٹی کی پیڈ سروس پر مہنگی غلطیوں کی شرح سب سے کم 14 فیصد رہی اس کے بعد چیٹ جی پی ٹی کا پیڈ ورژن 17 فیصد کے ساتھ رہا۔ جیمینائی کے مفت ورژن نے سب سے زیادہ خود سے تضاد کیا اور ایک ہی سوال پر 29 فیصد بار مختلف جوابات دیے۔
پروڈکٹ ڈاٹ اے آٗی کے ہیڈ آف سرچ پروڈکٹ ڈکوٹا ننلے نے کہا کہ ’مختصراً، اس سے پتا چلتا ہے کہ یہ لینگویج ماڈلز ابھی تک اس اینڈ ٹو اینڈ تجربے کے لیے تیار نہیں ہیں۔‘
پرپلیکسٹی کے ترجمان نے اس تبصرے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ان کی کمپنی درستگی پر توجہ مرکوز رکھے ہوئے ہے۔ جب کہ چیٹ جی پی ٹی، کلاڈ اور جیمینائی کے ترجمانوں نے اس بارے میں پوچھے گئے سوالات کا جواب نہیں دیا۔
ننلے کے مطابق اے آئی کو صرف دریافت کے ایک آلے کے طور پر استعمال کرنا چاہیے اور مکمل طور پر اس پر انحصار نہیں کرنا چاہیے۔
مزید پڑھیں: اے آئی ماڈل میں انسانی دماغ سے مشابہ نظام کا انکشاف
انہوں نے کہا کہ شاپنگ کرتے وقت معلومات کی تصدیق متعدد ذرائع یا مینوفیکچرنگ کمپنیوں کی ویب سائٹس سے کرنی چاہیے۔














