مصنوعی ذہانت تیار کرنے والی امریکی کمپنی انتھروپک نے انکشاف کیا ہے کہ اس کے جدید زبان پر مبنی ماڈل ‘کلاڈ’ کے اندر ایک پوشیدہ اور مرکزی نوعیت کا نظام موجود ہے جو مختلف تصورات پر غور و فکر اور استدلال کی صلاحیت فراہم کرتا ہے۔
کمپنی کے مطابق اس اندرونی نظام کو ‘جے اسپیس’ کا نام دیا گیا ہے، جو کلاڈ کے جوابات یا اس کے تحریری طرزِ استدلال سے الگ کام کرتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اینتھروپک نے محققین کے لیےکلاڈ سائنس متعارف کرا دی، مصنوعی ذہانت سے سائنسی تحقیق میں تیزی لانے کا دعویٰ
یہ نظام ماڈل کو مختلف تصورات کے بارے میں سوچنے اور ان کے درمیان تعلق قائم کرنے میں مدد دیتا ہے، بغیر اس کے کہ یہ تمام عمل تحریری صورت میں ظاہر ہو۔
انتھروپک نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ اعصابی سائنس میں ‘گلوبل ورک اسپیس تھیوری’ کے مطابق خیالات اس وقت شعوری طور پر قابلِ رسائی بنتے ہیں جب وہ دماغ کے ایک مخصوص مرکزی حصے میں پہنچتے ہیں۔
کمپنی کا کہنا ہے کہ نئی تشریحی تکنیک کے ذریعے انہیں کلاڈ میں بھی اس سے ملتا جلتا نظام ملا ہے جسے ‘جے اسپیس’ کہا جاتا ہے۔
تحقیق کے مطابق ‘جے اسپیس’ پہلے سے پروگرام کیا گیا فیچر نہیں بلکہ ماڈل کی تربیت کے دوران خود بخود ابھرنے والی خصوصیت ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اے آئی چیٹ بوٹ کلاڈ صارفین کے پاسپورٹ مانگنے لگا، وجہ کیا ہے؟
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس دریافت نے مصنوعی ذہانت کے اندرونی طرزِ فکر کے بارے میں ان کی سمجھ میں نمایاں تبدیلی پیدا کی ہے۔
کمپنی کے مطابق اس نظام کی مدد سے کلاڈ مختلف کاموں کے لیے ایک ہی تصور کو استعمال کر سکتا ہے۔ مثال کے طور پر اگر ‘فرانس’ کا تصور فعال ہو جائے تو ماڈل اس کا دارالحکومت، کرنسی یا براعظم بھی یاد کر سکتا ہے۔
انتھروپک کا کہنا ہے کہ اس نظام کے ذریعے کلاڈ تصاویر کی شناخت، کمپیوٹر کوڈ میں خامیوں کی نشاندہی اور دیگر پیچیدہ مسائل پر استدلال بھی کر سکتا ہے۔
تاہم کمپنی نے واضح کیا ہے کہ اس دریافت سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ کلاڈ انسانوں جیسا شعور یا جذبات رکھتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: موجودہ اے آئی زیادہ ذہین نہیں، پھر اگلا مرحلہ کیا ہوگا؟
البتہ اس کے اندر ایسے عمل ضرور پائے گئے ہیں جنہیں ‘قابلِ رسائی شعور’ سے تشبیہ دی جا سکتی ہے، یعنی ایسے خیالات جنہیں ماڈل استعمال کر کے استدلال اور فیصلہ سازی انجام دے سکتا ہے۔














