پشاور میں 9 مئی 2023 کا تحریک انصاف احتجاج ریڈ زون میں داخلے کی کوشش سے شروع ہوا اور چند ہی گھنٹوں میں ریڈیو پاکستان کی عمارت تک جا پہنچا۔ اس روز آخر وہاں کیا ہوا؟
یہ بھی پڑھیں: 9 مئی کو ریڈیو پاکستان پر ہونے والے حملے کی کہانی، عملے کی زبانی
9 مئی 2023 کو بانی پی ٹی آئی عمران خان کی گرفتاری کے بعد پشاور میں تحریک انصاف کے کارکنوں نے جی ٹی روڈ پر احتجاج شروع کیا اور ریڈ زون میں داخل ہونے کی کوشش کی۔ پولیس نے مظاہرین کو ریڈ زون میں داخل ہونے سے روکا تو صورتحال کشیدہ ہوگئی اور مظاہرین کی جانب سے پولیس پر پتھراؤ شروع کردیا گیا جو تقریباً 2 روز تک جاری رہا۔
9 مئی کو پولیس کی جانب سے آنسو گیس کی مسلسل شیلنگ اور مظاہرین کے پتھراؤ کے باعث شیر شاہ سوری پل کے اطراف کا علاقہ میدانِ جنگ بن گیا۔ جب شدید احتجاج کے باوجود پی ٹی آئی کارکن ریڈ زون میں داخل نہ ہوسکے تو مظاہرین کی ایک بڑی تعداد شیر شاہ سوری پل کے قریب واقع ریڈیو پاکستان کی عمارت میں داخل ہوگئی۔
بطور رپورٹر 10 مئی کو میں نے خود ریڈیو پاکستان کی عمارت میں تقریباً 200 مظاہرین کو داخل ہوتے دیکھا۔ مظاہرین نے عمارت میں توڑ پھوڑ شروع کردی، گاڑیوں کو نقصان پہنچایا اور 4 منزلہ عمارت کو آگ لگا دی۔ اس دوران مظاہرین پر آنسو گیس کی شیلنگ بھی کی جاتی رہی۔
ریڈیو پاکستان حملے سے متعلق مقدمات کے لیے پولیس کی جانب سے مقامی عدالت میں جمع کرائی گئی رپورٹ کے مطابق ویڈیو شواہد کی بنیاد پر وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی، سابق صوبائی وزرا تیمور سلیم جھگڑا اور کامران بنگش، پی ٹی آئی پشاور کے رہنما عرفان سلیم اور پارٹی کارکن عامر چمکنی کی موجودگی کی نشاندہی کی گئی۔ پولیس نے ان افراد کو ریڈیو پاکستان حملہ کیس میں نامزد کیا ہے۔
ریڈیو پاکستان کی عمارت پر حملے کے بعد سرکاری ریکارڈ، آلات اور گاڑیوں سمیت عمارت کے مختلف حصوں کو شدید نقصان پہنچا جبکہ اسٹیشن کی نشریات بھی متاثر ہوئیں۔ ریڈیو پاکستان کے مطابق نشریات 26 گھنٹوں کے اندر بحال کردی گئی تھیں۔
حملے میں شدید نقصان کا شکار ہونے والی ریڈیو پاکستان پشاور کی تاریخی عمارت کی بحالی اور تزئین و آرائش کا کام سنہ 2026 میں مکمل کیا گیا۔ 22 ستمبر 2026 کو وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا تارڑ نے عمارت کی نئی بحال شدہ عمارت کا افتتاح کیا۔ سرکاری حکام کے مطابق بحالی کا منصوبہ تقریباً 10 کروڑ روپے کی لاگت سے مکمل ہوا۔
دوسری جانب ریڈیو پاکستان پشاور پر حملے سے متعلق مقدمات میں قانونی کارروائی جاری ہے۔ مارچ 2026 میں انسدادِ دہشتگردی عدالت میں پولیس کی جانب سے چالان جمع کرایا گیا تھا جبکہ بعد ازاں مقدمے کی کارروائی سے متعلق عدالتی پیشرفت بھی سامنے آتی رہی ہے۔













