عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں تقریباً 2 فیصد کم ہوگئیں، جس کی بڑی وجہ امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی کے امکانات اور آبنائے ہرمز کھولنے سے متعلق سفارتی پیش رفت کی امید کو قرار دیا جا رہا ہے۔
رائٹرز کے مطابق برینٹ خام تیل کی قیمت 2.28 ڈالر یا 2.1 فیصد کمی کے بعد 104.32 ڈالر فی بیرل پر آگئی، جبکہ امریکی خام تیل ڈبلیو ٹی آئی کی قیمت 2.20 ڈالر یا 2.3 فیصد کم ہوکر 92.41 ڈالر فی بیرل ہوگئی۔
ہفتہ وار بنیاد پر برینٹ کی قیمت میں ایک فیصد سے بھی کم اضافہ ہوا، جبکہ ڈبلیو ٹی آئی تقریباً 8 فیصد نیچے رہی۔
یہ بھی پڑھیں:فیول ریلیف اسکیم، ملک بھر میں 50 لاکھ سے زائد افراد رجسٹرڈ
امریکی اور ایرانی مذاکرات کار نیویارک میں جنگ کے خاتمے کے لیے مرحلہ وار طریقہ کار پر غور کر رہے ہیں، جس میں ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنا اور امریکا کی جانب سے ایران پر عائد معاشی پابندیاں اٹھانا شامل ہوسکتا ہے۔ تاہم ایرانی حکام نے واضح کیا ہے کہ جوہری پروگرام کے معاملے پر تہران اپنے مؤقف میں لچک نہیں دکھائے گا۔
دوسری جانب امریکا کی جانب سے ڈیزل کی برآمدات پر ممکنہ پابندی کی بات نے بھی تیل کی منڈی پر اثر ڈالا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اس صورت میں امریکی ریفائنریوں کو خام تیل کی پیداوار کم کرنا پڑ سکتی ہے، کیونکہ ڈیزل کی مقامی پیداوار برآمد نہ ہونے کی صورت میں اضافی ذخائر کا مسئلہ پیدا ہوسکتا ہے۔

رائٹرز کے مطابق 20 ستمبر سے شروع ہونے والے ہفتے میں آبنائے ہرمز سے تقریباً 3 کروڑ 37 لاکھ بیرل خام تیل کی ترسیل ہوئی۔ جنگ سے قبل دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل کی رسد اسی آبی گزرگاہ سے گزرتی تھی۔
دوسری جانب روس میں ڈرون حملے کے باعث نووشاختنسک آئل ریفائنری کی سرگرمیاں بھی عارضی طور پر معطل ہوگئیں۔














