ڈیرہ اسماعیل خان (ڈی آئی خان) کے علاقے درازندہ میں امن میلہ پولیس چیک پوسٹ کے قریب دھماکا ہوا ہے، جس کے نتیجے میں کم از کم 11 افراد جاں بحق اور 20 سے زیادہ زخمی ہوگئے۔
ریسکیو 1122 کے مطابق جاں بحق افراد میں 8 مرد، 2 خواتین اور ایک بچہ شامل ہیں، جبکہ امدادی ٹیمیں جائے وقوعہ پر کارروائیوں میں مصروف ہیں۔
مزید پڑھیں: بنوں میں کامیاب مشترکہ انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن، دہشتگردی کا منصوبہ ناکام
پولیس کے مطابق دھماکا امن میلہ چیک پوسٹ پر ہوا جو ڈی آئی خان کوئٹہ روڈ پر مغل کوٹ اور درازندہ کے قریب خیبر پختونخوا اور بلوچستان کی سرحد کے نزدیک واقع ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ دھماکے کی نوعیت اور وجہ معلوم کرنے کے لیے بم ڈسپوزل اسکواڈ کو بھی جائے وقوعہ پر روانہ کردیا گیا ہے۔
ریسکیو 1122 کے مطابق دھماکے میں زخمی ہونے والے 20 افراد کو ابتدائی طبی امداد فراہم کی جاچکی ہے، جن میں سے 18 زخمیوں کو مزید علاج کے لیے درازندہ کے طبی مرکز اور ڈی آئی خان کے مفتی محمود اسپتال منتقل کیا گیا ہے۔
امدادی کارروائیوں میں ریسکیو 1122 کے 25 سے زیادہ اہلکار، 6 ایمبولینسیں اور ایک فائر وہیکل حصہ لے رہے ہیں۔
گورنر خیبر پختونخوا نے رپورٹ طلب کرلی
گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے واقعے پر اعلیٰ حکام سے رپورٹ طلب کرتے ہوئے زخمیوں کو ہر ممکن طبی سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت کی۔
فیصل کریم کنڈی نے اپنے بیان میں حملے کو ’فتنۃ الہندستان خوارج‘ کی مذموم سازش قرار دیا۔
ریاست بلوچستان میں سرگرم مخصوص گروہوں کے لیے ’فتنۃ الہندستان‘ کی اصطلاح استعمال کرتی ہے جبکہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے لیے ’فتنۃ الخوارج‘ کی اصطلاح استعمال کی جاتی ہے۔
وزیر داخلہ محسن نقوی کی دھماکے کی مذمت
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے بھی ڈیرہ اسماعیل خان میں دھماکے کی شدید مذمت کرتے ہوئے جاں بحق افراد کے اہل خانہ سے تعزیت کا اظہار کیا۔
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی ڈیرہ اسماعیل خان کے علاقے میں انسدادِ سمگلنگ ’’امن میلہ پولیس چیک پوسٹ‘’ پر خودکش حملے کی پرزور مذمت
وزیر داخلہ کا دھماکے میں قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار
وزیر داخلہ کا شہداء کے لواحقین سے دلی ہمدردی و اظہار تعزیت— Ministry of Interior GoP (@MOIofficialGoP) September 26, 2026
وزارت داخلہ کے ایکس اکاؤنٹ پر جاری بیان کے مطابق محسن نقوی نے کہا کہ ’خوارج کی بزدلانہ کارروائیاں دہشت گردی کے خلاف قوم کے پختہ عزم کو کمزور نہیں کرسکتیں۔‘
وزیر داخلہ نے کہا کہ خیبر پختونخوا دہشتگردی کے خلاف جنگ میں صف اول میں ہے، جبکہ معاشرے کے تمام طبقات نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں قربانیاں دی ہیں اور ریاست شہدا کی قربانیوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔
خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ
خیبر پختونخوا میں گزشتہ کچھ عرصے سے دہشتگردی کے واقعات میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ کچھ دن پہلے پشاور میں دہشتگردوں کے خلاف کارروائی کے دوران ایک دہشتگرد ہلاک جبکہ 2 مبینہ خودکش حملہ آور فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے تھے۔
مزید پڑھیں: افغانستان سے دہشتگردی: ضرورت پڑنے پر اپنے دفاع میں جواب دیں گے، پاکستان
اس سے کچھ دن قبل ضلع کوہاٹ میں پرانی پولیس لائنز پر خودکش حملے میں بھی متعدد افراد جاں بحق اور زخمی ہوئے تھے۔














