خیبر پختونخوا حکومت کے تمام کام غیر آئینی ہیں، گورنر راج  کے نفاذ کو خارج از امکان قرار نہیں دیا جاسکتا، رانا ثنا اللہ

ہفتہ 26 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

مشیر وزیراعظم سینیٹر رانا ثنا اللہ نے دو ٹوک الفاظ میں واضح کیا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی ) کو اسلام آباد کی سفارتی اہمیت کے باعث کسی قیمت احتجاج کی اجازت نہیں دی جائے گی، خیبر پختونخوا حکومت کے بے شمار اقدامات غیر آئینی، غیر قانونی ہیں، گورنر راج کو خارج از امکان قرار نہیں دیا جا سکتا۔

ہفتہ کے روز نجی ٹی وی کے ساتھ خصوصی انٹرویو کے دوران رانا ثنا اللہ نے خبردار کیا کہ خیبر پختونخوا حکومت کے غیر آئینی اور غیر قانونی کاموں کے باعث صوبے میں گورنر راج کا آپشن موجود ہے اور اس وقت خیبر پختونخوا کی حکومت کے جتنے بھی کام ہیں وہ گورنر راج کے تمام آئینی تقاضے پورے کر رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:کشمیری پاکستان کے مالک ہیں، مسلم لیگ (ن) کو دو تہائی اکثریت دلائیں گے، رانا ثنا اللہ کا ضلع باغ میں جلسہ عام سے خطاب

رانا ثنا اللہ نے کہا کہ ستمبر کے پہلے ہفتے میں ہونے والے ایک اعلیٰ سطح کے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا تھا کہ اسلام آباد کی عالمی و سفارتی اہمیت کے پیش نظر اب دارالحکومت میں کسی کو احتجاج کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

 ان کا کہنا تھا کہ احتجاج سب کا آئینی حق ہے لیکن اس کے لیے ’اسلام آباد‘ کو مائنس کرنا ہوگا۔ اس وقت پاکستان دنیا بھر میں امن کے پاسبان کے طور پر کردار ادا کر رہا ہے اور یہاں تمام ممالک کے سفارت خانے موجود ہیں، اس لیے دارالحکومت میں احتجاج کے انتہائی منفی و سفارتی اثرات مرتب ہوتے ہیں، لہٰذا جسے بھی احتجاج کرنا ہے وہ اپنے صوبے میں کرے۔

راستوں کی صورتحال اور وفاق کی سیکیورٹی حکمت عملی

مشیر وزیراعظم نے میڈیا پر اسلام آباد کو ’کنٹینر سٹی‘ قرار دینے کی خبروں کو غلط بیانی قرار دیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ ملک بھر میں سڑکیں کھلی ہیں، صرف پشاور سے آنے والی موٹروے ون پر کچھ رکاوٹیں لگائی گئی ہیں۔

اسلام آباد کی سڑکوں کے کناروں پر کنٹینرز محض بوقت ضرورت استعمال کے لیے رکھے گئے ہیں۔ دارالحکومت کے تحفظ کے لیے پنجاب اور سندھ سے پولیس کی مطلوبہ نفری طلب کی گئی ہے جبکہ خیبر پختونخوا کے سرکاری ادارے اور پولیس بھی وفاق کی مدد کریں گے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بین الصوبائی روابط کمزور نہیں بلکہ مزید مضبوط ہوئے ہیں۔

ماضی کے دھرنوں سے موازنہ اور عدالتی احکامات

ماضی میں مسلم لیگ ن اور جے یو آئی کے دھرنوں کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس وقت کے اور آج کے احتجاج میں بڑا فرق ہے۔

مزید پڑھیں:آپ نے اسی نظام میں 3 سال میں 30سالوں کا سفر کرلیا، رانا ثنا اللہ خان کی وزیر داخلہ محسن نقوی پر شدید تنقید

ماضی میں اپوزیشن نے پرامن رہنے کی گارنٹیز دی تھیں، لیکن پی ٹی آئی نے انتظامیہ سے کوئی بات کی نہ ہی ضمانت فراہم کی۔

رانا ثنا اللہ نے کہا کہ اگر پی ٹی آئی اسلام آباد ہائیکورٹ اور انتظامیہ کو پرامن رہنے کی تحریری گارنٹی دے تو صورتحال پر غور کیا جا سکتا ہے، لیکن بظاہر ایسا ہوتا دکھائی نہیں دیتا۔ اسلام آباد ہائیکورٹ پہلے ہی دارالحکومت میں پر تشدد احتجاج روکنے کا فیصلہ دے چکی ہے۔

26 نومبر کی تیاریاں اور پی ٹی آئی کے پرتشدد عزائم

ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کے احتجاج کی تیاری انتہائی کم ہے جس کے باعث وہ اسے ملتوی کر رہے ہیں۔ تاہم 26 نومبر کے پی ٹی آئی کے احتجاج اور اسلام آباد پر چڑھائی کو مدنظر رکھتے ہوئے حکومت نے پہلے سے کہیں زیادہ سخت اور فول پروف انتظامات کیے ہیں۔

اگر ان انتظامات کے باوجود پی ٹی آئی نے یلغار کی کوشش کی تو انہیں بھاری نقصان اٹھانا پڑے گا اور انہیں ڈی چوک کی جانب ہرگز نہیں آنے دیا جائے گا۔

وزیر دفاع خواجہ آصف کے بیان کی تائید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر دنگا فساد کیا گیا تو وہ سوراخ ہمیشہ کے لیے بند کر دیے جائیں گے جہاں سے یہ بار بار نکل کر حملے کرتے ہیں۔

اسلام آباد پر حملہ آور ہونے والے ہر شخص، خواہ وہ وزیراعلیٰ ہو، وزیر ہو یا کسی کی بہن ہو یا بھائی، اسے ہائیکورٹ کے فیصلے کے تحت گرفتار کیا جائے گا اور پیشگی کارروائیاں بھی عمل میں لائی جائیں گی۔

انہوں نے پی ٹی آئی اپوزیشن لیڈر کے اڈیالہ جیل پر سیڑھیاں لگانے کے بیان کو ان کے پرتشدد عزائم کا واضح ثبوت قرار دیا۔

مذاکرات، پس پردہ رابطے اور مریم نواز کا دورہ

رانا ثنا اللہ نے ایک اہم انکشاف کرتے ہوئے بتایا کہ پی ٹی آئی کے ساتھ ٹیلیفونک گفتگو اور ’بچ بچا کر‘ خفیہ ملاقاتوں کا سلسلہ تاحال جاری ہے۔

یہ بھی پڑھیں:اگر پی ٹی آئی بات چیت کے لیے تیار ہے تو حکومت بھی تیار ہے، رانا ثنا اللہ کی بڑی پیشکش

پی ٹی آئی والے حکومت کو بے اختیار کہتے ہیں لیکن جن کے پاس اصل اختیار کی وہ بات کرتے ہیں ، ان کے وہاں بھی رابطے موجود ہیں۔

وزیراعظم نے خود اپوزیشن کو آئینی معاملات پر مذاکرات کے لیے خط لکھا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کے بیان کو غلط رنگ دیا جا رہا ہے، وہ بہت جلد خیبر پختونخوا کا دورہ کریں گی۔ پنجاب سے پی ٹی آئی کے احتجاج میں کوئی شامل نہیں ہوگا اور جو اکا دکا نکلے گا، وہ پہلے پشاور ہی جائے گا۔

عمران خان کی صحت اور جیل قوانین کی خلاف ورزی

بانی پی ٹی آئی کی صحت پر بات کرتے ہوئے مشیر وزیراعظم نے واضح کیا کہ سینیئر ترین میڈیکل بورڈ نے ان کا معائنہ کیا ہے جس کے مطابق وہ مکمل طور پر صحت مند ہیں۔

اس معائنے کے وقت ان کی ہمشیرہ بھی ان کے ساتھ تھیں۔ انہوں نے بتایا کہ عمران خان کو ملاقاتوں کی اجازت اس لیے نہیں دی جا رہی کیونکہ وہ اپنی ہمشیرہ کے ذریعے غیر قانونی پیغامات باہر بھجوا کر مسلسل قانون کی خلاف ورزی کر رہے ہیں۔

خیبر پختونخوا میں گورنر راج کا قوی امکان

گورنر راج کے حوالے سے رانا ثنا اللہ نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ خیبر پختونخوا حکومت کے تمام کام غیر آئینی اور غیر قانونی ہیں۔

صوبائی اسمبلی سے پولیس ایکٹ میں ترمیم کی منظوری آئین کے خلاف ہے جس میں وفاق کے اختیار کو چیلنج کیا گیا، کوئی بھی ریاست وفاق کے اختیارات کو چیلنج کرنے کی کسی صوبے کو اجازت نہیں دیتی۔

ان کا کہنا تھا کہ اسلام آباد کو ’سومنات کا مندر‘ قرار دینے سے بڑی ریاست کی توہین اور کیا ہو سکتی ہے۔

اگرچہ وفاق میں ابھی تک خیبر پختونخوا میں گورنرراج پر باقاعدہ مشاورت نہیں ہوئی، لیکن خیبر پختونخوا حکومت کے تمام غیر آئینی اقدامات اور موجودہ صورتحال گورنر راج کے تمام تقاضوں پر پوری اترتی ہے، اس لیے اس آپشن کو خارج از امکان بھی قرار نہیں دیا جا سکتا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp