پاکستانی معیشت اس وقت مضبوط کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے آگے بڑھ رہی ہے۔ ایک طرف عالمی معاشی صورتحال مختلف خطرات سے دوچار ہے، تو دوسری جانب پاکستان کے لیے معاشی میدان میں پیشرفت کے نئے مواقع موجود ہیں، تاہم ان مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھانے کے لیے بعض اہم عوامل پر مزید توجہ دینے اور ضروری اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔
معیشت میں بہتری کی خاص وجہ؟
معاشی ماہر و تجزیہ کار سلمان نقوی نے وی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ موجودہ حکومت اور ایس آئی ایف سی ایک ہائبرڈ سسٹم ہے اور ان دونوں کی مشترکہ جدوجہد کے بعد معیشت میں بہتری کے آثار نمایاں ہو رہے ہیں۔
مزید پڑھیں: ہڑتال، دھرنوں اور کاروباری بندش سے معیشت کو روزانہ 120 ارب روپے نقصان کا خدشہ، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب
ان کا کہنا ہے کہ ہمارا کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ کم ترین سطح پر ہے، جبکہ ملکی زرمبادلہ کے ذخائر تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکے ہیں اور یہ 21 ارب ڈالر سے بھی تجاوز کر گئے ہیں۔ ہماری کرنسی مستحکم ہے اور افراطِ زر بھی کافی حد تک قابو میں ہے۔ دنیا بھر میں افراطِ زر اور مہنگائی میں اضافہ ہوا ہے، اس کے باوجود پاکستان میں افراطِ زر کی شرح اب بھی پالیسی ریٹ سے کم ہے۔
پاکستان کی ریٹنگز میں بہتری
سلمان نقوی کے مطابق پاکستان کی معاشی ریٹنگز میں بہتری آئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر پانڈا بانڈ کی بات کی جائے تو اس نے بھی بہت اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے اور پاکستان کو پانڈا بانڈ کے ذریعے ایک اچھی رقم حاصل ہوئی ہے۔ ان کے بقول یہ تمام اشاریے پاکستان کی معیشت میں مثبت پیشرفت کی جانب اشارہ کر رہے ہیں۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ نجکاری کا عمل شروع ہو چکا ہے۔ پی آئی اے کی نجکاری ہو گئی ہے، جبکہ اب کچھ عرصے میں ڈسکوز کی بھی نجکاری کی جائے گی، جس کے لیے متعدد امیدوار میدان میں آ چکے ہیں۔
سلمان نقوی نے کہاکہ یہ تمام چیزیں اس بات کی نشاندہی کررہی ہیں کہ معیشت کو سنبھالنے کے لیے حکومت کی گزشتہ کافی عرصے سے جاری کوششیں اپنے مقررہ اہداف کی جانب بڑھ رہی ہیں۔ تاہم، جغرافیائی سیاسی حالات اور عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اضافے کے ساتھ ساتھ بلند افراطِ زر کے باعث ایک تشویش ضرور موجود ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت ایس آئی ایف سی کے تعاون سے اس صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہے اور اب تک اسے بہت اچھے طریقے سے سنبھالا گیا ہے۔
دیوالیہ ہونے کی باتیں اور پھر معیشت کی بہتری
ان کا کہنا ہے کہ دو، ڈھائی سال قبل ملک کے دیوالیہ ہونے کی باتیں کی جا رہی تھیں، تاہم موجودہ قیادت، ایس آئی ایف سی اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی ذاتی کوششوں سے حکومت نے سب سے پہلے ملکی کرنسی کو مستحکم کیا اور کرنسی کی اسمگلنگ کی روک تھام کی۔
ان کے مطابق اس کے بعد مختلف معاشی اشاریوں کی بہتری کے لیے سخت محنت کی گئی اور نجکاری کے عمل پر بھی کام کیا گیا۔
ان کا کہنا تھا کہ دو سال کی مسلسل محنت کے بعد الحمدللہ آج اس کے نتائج سامنے آ رہے ہیں، جس کی وجہ سے پاکستان کی معاشی ریٹنگز میں بھی بہتری آنا شروع ہو گئی ہے۔
بیرونی سرمایہ کاری کے کتنے امکانات ہیں؟
سلمان نقوی کا کہنا ہے کہ سفارتی محاذ پر پاکستان کو ملنے والی کامیابیوں کے بعد پوری امید ہے کہ جیسے ہی ایران اور امریکا کے درمیان جنگ ختم ہوگی اور عالمی سطح پر تیل کی قیمتیں معمول پر آئیں گی، پاکستان میں بڑے پیمانے پر غیر ملکی سرمایہ کاری آنے کے امکانات پیدا ہوں گے۔
ان کے بقول پاکستان کے تمام ممالک کے ساتھ تعلقات بہت بہتر ہو گئے ہیں اور تمام ممالک ہمارے ساتھ کھڑے ہیں، اس لیے آنے والے دنوں میں غیر ملکی براہِ راست سرمایہ کاری میں اضافے کی توقع ہے۔
انہوں نے کہاکہ پاکستان کی معیشت بہت تیزی سے ترقی کرے گی اور آنے والے دنوں میں، جس طرح ملکی زرمبادلہ کے ذخائر تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچے ہیں، اسی طرح جی ڈی پی کی شرح نمو بھی تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ سکتی ہے۔
کون کون سے شعبے مستقبل میں معیشت کو آگے بڑھا سکتے ہیں؟
سلمان نقوی کے مطابق پاکستان کی 65 فیصد آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے، جو پُرجوش، ذہین اور محنتی ہیں، اس لیے آئی ٹی کے شعبے میں نوجوان اہم اور مؤثر کردار ادا کر سکتے ہیں۔ حکومت بھی اس شعبے پر خصوصی توجہ دے رہی ہے، آئی ٹی مراکز قائم کیے جا رہے ہیں اور آئی ٹی کے شعبے کو فروغ دینے کے لیے درکار دیگر سہولیات کی فراہمی پر بھی بھرپور توجہ دی جا رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کی آئی ٹی برآمدات میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے اور آنے والے دنوں میں اس میں کئی گنا اضافے کی توقع ہے۔
اسٹاک مارکیٹ کے لیے اچھی خبر
اسٹاک مارکیٹ کے حوالے سے سلمان نقوی کا کہنا تھا کہ مارکیٹ اس وقت بمشکل سات سے ساڑھے سات کے پرائس ارننگ تناسب پر چل رہی ہے، جو خطے کے دیگر ممالک کے مقابلے میں نسبتاً سستی ہے، جبکہ پاکستان کی ڈیویڈنڈ ییلڈ بھی کافی زیادہ ہے۔ ان کے مطابق جیو پولیٹیکل حالات بہتر ہوتے ہی اسٹاک مارکیٹ میں اچھی تیزی کے امکانات موجود ہیں۔
سلمان نقوی نے کہا کہ پاکستان کی ڈیویڈنڈ ییلڈ بہتر ہے، پرائس ارننگ تناسب بھی کم ہے جبکہ مختلف شعبوں کے سالانہ نتائج بھی بہت شاندار آ رہے ہیں، خصوصاً سیمنٹ، ای اینڈ پی اور بینکاری کے شعبوں کی کارکردگی قابلِ ذکر ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ان عوامل کے باعث اسٹاک مارکیٹ میں آگے بڑھنے کی بہت زیادہ گنجائش موجود ہے۔
معیشت کے لیے خطرہ اور مشورہ
سلمان نقوی کا کہنا ہے کہ پاکستان کی معیشت کے لیے ضروری ہے کہ سب سے پہلے سیاسی حالات میں استحکام لایا جائے۔ ان کے مطابق جو سیاسی جماعتیں بلاوجہ احتجاج اور سیاسی کشیدگی کا سلسلہ جاری رکھتی ہیں، وہ ملکی معیشت کے لیے سازگار نہیں ہوتا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان اس وقت ایک نازک دور سے گزر رہا ہے، اس لیے ملک میں سیاسی استحکام کا ہونا انتہائی ضروری ہے۔
مزید پڑھیں: ملکی معیشت میں شاندار بہتری، کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں 70 فیصد کمی، صنعتی پیداوار میں بھی نمایاں اضافہ
حکومت کو مشورہ دیتے ہوئے سلمان نقوی کا کہنا تھا کہ حکومتی ملکیت میں موجود سرکاری اداروں کی جلد از جلد نجکاری کی جانی چاہیے، کیونکہ ان اداروں کے خسارے کی وجہ سے ہر سال ملکی معیشت پر بہت بڑا بوجھ پڑتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس کے علاوہ غیر ضروری اخراجات بھی کافی زیادہ ہیں، جن میں بیوروکریسی اور حکومت کے اخراجات شامل ہیں، انہیں بھی کنٹرول کرنے کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق اگر حکومت ان اقدامات پر توجہ دے تو آنے والے دنوں میں پاکستان کو اس کے بہت زیادہ فوائد حاصل ہوں گے۔













