گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ صوبے میں گورنر راج آئین میں موجود ایک آپشن ہے، تاہم اسے آخری حربے کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔
نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے فیصل کریم کنڈی نے کہاکہ انہوں نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کو مشورہ دیا تھا کہ لانگ مارچ نہ کریں اور صوبے میں امن و امان کو ترجیح دیں۔
مزید پڑھیں: پی ٹی آئی کا لانگ مارچ مؤخر: کیا یہ واقعی حکومت کی سیاسی جیت ہے؟
ان کا کہنا تھا کہ ایک طرف روزانہ جنازے اٹھائے جا رہے ہیں اور دوسری طرف اسلام آباد پر چڑھائی کی بات کی جارہی ہے۔
گورنر خیبرپختونخوا نے کہاکہ گزشتہ اور موجودہ دونوں وزرائے اعلیٰ کی گورننس میں مسائل رہے ہیں۔
انہوں نے صوبائی حکومت کو تجویز دی کہ تمام سیاسی جماعتوں کو ایک ساتھ بٹھایا جائے اور ایپکس کمیٹی کا اجلاس بھی بلایا جائے۔
فیصل کریم کنڈی نے کہاکہ دہشتگردی کے معاملے پر واضح طور پر فیصلہ کرنا ہوگا کہ یا تو دہشتگردوں کے ساتھ کھڑے ہوں یا پولیس اور فوج کے ساتھ کھڑے ہو جائیں۔
ان کے مطابق پولیس، فوج اور ایف سی پر دہشتگرد حملے کر رہے ہیں، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا پی ٹی آئی نے کبھی اس معاملے پر اسمبلی میں قرارداد پیش کی؟
انہوں نے کہاکہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کو ڈی آئی خان جانا تھا، جہاں ان کی علی امین گنڈاپور سے ملاقات ہوگئی۔ فیصل کریم کنڈی کے مطابق سہیل آفریدی اور علی امین گنڈاپور کی ملاقات ہوئی ہے تو سیاسی گفتگو بھی ہوئی ہوگی۔
گورنر خیبرپختونخوا نے علی امین گنڈاپور سے متعلق شیر افضل مروت کی پٹیشن کو ’ٹرک کی بتی کے پیچھے والا معاملہ‘ قرار دیا۔
انہوں نے کہاکہ علی امین گنڈاپور نے اسمبلی کے فلور پر استعفیٰ دیا، اسپیکر نے اسے قبول کیا اور اس کے بعد انہوں نے سہیل آفریدی کو ووٹ بھی دیا۔
مزید پڑھیں: 27 ستمبر سے 4 اکتوبر تک: کیا پی ٹی آئی کا لانگ مارچ واقعی اسلام آباد پہنچ سکے گا؟
فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ دہشت گردی کے باعث خیبرپختونخوا میں آگ لگی ہوئی ہے، ایسے حالات میں حکومت کو تمام سیاسی جماعتوں کو ایک پیج پر بٹھانا چاہیے اور واضح حکمت عملی اختیار کرنی چاہیے۔














