پی ٹی آئی کا لانگ مارچ مؤخر: کیا یہ واقعی حکومت کی سیاسی جیت ہے؟

ہفتہ 26 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے اسلام آباد کی طرف احتجاجی مارچ کی تاریخ آگے بڑھانے کے فیصلے نے سیاسی حلقوں میں مختلف سوالات کو جنم دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: 27 ستمبر سے 4 اکتوبر تک: کیا پی ٹی آئی کا لانگ مارچ واقعی اسلام آباد پہنچ سکے گا؟

ان سوالات میں سرفہرست یہ بھی ہے کہ کیا احتجاج مؤخر کرنے کا فیصلہ حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان کسی ممکنہ رابطے یا مفاہمت کا نتیجہ ہے یا تحریک انصاف نے حکمت عملی کے تحت حکومت اور ریاستی مشینری کو مزید وقت تک مصروف اور دباؤ میں رکھنے کا فیصلہ کیا ہے؟

سینیئر تجزیہ کار وسیم بادامی، منصور علی خان اور عمر چیمہ نے اس فیصلے کے ممکنہ محرکات اور اس کے حکومت و تحریک انصاف پر اثرات کے مختلف پہلو بیان کیے ہیں۔

احتجاج مؤخر سے کسی مفاہمت کا تاثر ضرور ابھرتا ہے، وسیم بادامی

سینیئر تجزیہ کار وسیم بادامی کے مطابق تحریک انصاف کی جانب سے احتجاج کی تاریخ آگے بڑھانے سے فوری طور پر یہ نتیجہ اخذ نہیں کیا جاسکتا کہ فریقین کے درمیان ’کچھ لو اور کچھ دو‘ کا معاملہ طے پاگیا ہے۔ ان کے بقول ایک رائے یہ بن رہی ہے کہ شاید پی ٹی آئی کو کچھ ملا ہے اور اس کے بدلے احتجاج ایک ہفتے کے لیے مؤخر کیا گیا تاہم ان کے خیال میں یہ مفروضہ درست نہیں۔

وسیم بادامی کے مطابق پی ٹی آئی کی حکمت عملی یہ ہوسکتی ہے کہ حکومت اور ریاستی مشینری کو مزید وقت تک احتجاج کی تیاریوں میں مصروف رکھا جائے۔ ان کے بقول حکومت پہلے ہی کنٹینرز سڑکوں پر لاچکی ہے پولیس اہلکار صوبوں سے طلب کیے جاچکے ہیں اور اس انتظام پر ریاستی وسائل خرچ ہورہے ہیں۔ ایسے میں احتجاج کی تاریخ آگے بڑھنے سے حکومت کی مشینری کو مسلسل متحرک رہنا پڑے گا جبکہ تحریک انصاف کو اپنی تیاری، تنظیم اور کارکنوں کو مزید مجتمع کرنے کا وقت مل جائے گا۔

انہوں نے واضح کیا کہ یہ حکمت عملی کامیاب ہوتی ہے یا نہیں یہ الگ سوال ہے تاہم ان کے مطابق پی ٹی آئی کی جانب سے تاریخ آگے بڑھانے کے پیچھے یہ سوچ ہوسکتی ہے کہ سامنے والی پارٹی، حکومت اور ریاست ایگزاسٹ ہو اور اس دوران تحریک انصاف خود کو مزید منظم کرسکے۔

وسیم بادامی کے مطابق احتجاج مؤخر ہونے کے بعد یہ تاثر ضرور پیدا ہوا کہ شاید کوئی معاملہ طے پاگیا ہے تاہم ان کی رائے میں موجودہ صورت حال کو محض کسی ڈیل کا نتیجہ قرار دینا قبل از وقت ہوگا۔ ان کے مطابق آنے والے دنوں میں فریقین کے درمیان رابطے بھی ہوسکتے ہیں اور صورتحال دوبارہ تصادم کی طرف بھی جاسکتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر تحریک انصاف کی حکمت عملی یہ ہے کہ حکومت اور ریاستی مشینری کو تھکا دیا جائے تو اس کے برعکس بھی ممکن ہے کہ سامنے والا فریق تھکنے کے بجائے مزید سخت پوزیشن اختیار کرے۔ ان کا مزید کہنا تھا ایسی صورت میں خیبر پختونخوا کی حکومت اور وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے سیاسی مستقبل کے حوالے سے بھی نئے مسائل پیدا ہوسکتے ہیں۔

مزید پڑھیے: پی ٹی آئی کا لانگ مارچ مؤخر: 5 اکتوبر کو یوم فتح منائیں گے، سہیل آفریدی

وسیم بادامی کے مطابق آنے والے دن سیاسی طور پر ’بہت ٹینس‘ اور اہم ہوسکتے ہیں۔

کیا پی ٹی آئی مطلوبہ تعداد میں کارکن اسلام آباد تک پہنچا پائے گی، منصور علی خان

سینیئر تجزیہ کار منصور علی خان نے کہا کہ جماعت اسلامی کی جانب سے احتجاج مؤخر کیے جانے کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ اس وقت جماعت اسلامی نے واضح کیا تھا کہ وزیراعظم کی جانب سے وقت مانگنے کے بعد احتجاج کو کچھ عرصے کے لیے مؤخر کیا گیا لیکن تحریک انصاف کی جانب سے ایسی کوئی واضح وجہ سامنے نہیں آئی۔

ان کے مطابق اصل سوال یہ ہے کہ اگر تحریک انصاف نے احتجاج مؤخر کیا ہے تو اس کے پیچھے حقیقی وجہ کیا ہے۔

منصور علی خان نے کہا کہ ان کی اپنی معلومات اور تجزیے کے مطابق ممکنہ طور پر مذاکرات کا راستہ دوبارہ کھولنے کی کوشش ہوسکتی ہے گزشتہ کئی ہفتوں کے دوران حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کے حامی سمجھے جانے والے حلقوں کی جانب سے مسلسل یہ مؤقف سامنے آتا رہا کہ تحریک انصاف کے ساتھ کوئی ڈیل یا مذاکرات نہیں ہورہے جبکہ دوسری جانب پی ٹی آئی کی طرف سے بھی یہی کہا جاتا رہا کہ حکومت سے کسی قسم کی بات چیت نہیں ہورہی۔

ان کا کہنا تھا کہ دونوں طرف سے سخت بیانات کے باوجود احتجاج کے دوران صورت حال اس مقام تک پہنچ گئی تھی جہاں تصادم کا امکان موجود تھا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ اگر تحریک انصاف کے کارکن بڑی تعداد میں اسلام آباد کی طرف آنا شروع ہوجاتے تو صورتحال مزید کشیدہ ہوسکتی تھی۔

منصور علی خان کے مطابق حکومت نے اسلام آباد میں احتجاج سے نمٹنے کے لیے غیر معمولی انتظامات کیے تھے۔ ان کے بقول شہر میں کنٹینرز لگا کر راستے بند کیے گئے، بعض مقامات پر کنٹینرز کی متعدد تہیں لگائی گئیں اور ان میں مٹی، ریت اور دیگر سامان بھی بھرا گیا تاکہ انہیں ہٹانا مشکل ہو اور ساتھ ہی کارکنوں کی گرفتاریوں کا سلسلہ بھی شروع کیا گیا۔

ان کے مطابق حکومت کی یہ تیاری ایک طرف تحریک انصاف کے لیے رکاوٹ تھی لیکن دوسری طرف پی ٹی آئی کے لیے بھی ایک بنیادی سوال موجود تھا کہ آیا وہ مطلوبہ تعداد میں کارکن اسلام آباد تک پہنچا پائے گی یا نہیں۔

منصور علی خان نے کہا کہ احتجاجی سیاست میں کارکنوں کی تعداد اور موبلائزیشن کی اطلاعات حکومت اور احتجاج کرنے والی جماعت دونوں کے پاس پہنچتی ہیں اور حکومت کو بھی معلوم ہوتا ہے کہ مختلف علاقوں سے کتنے افراد نکل رہے ہیں اور پی ٹی آئی کو بھی اندازہ ہوجاتا ہے کہ اس کی اپیل پر کہاں کتنے لوگ جمع ہورہے ہیں۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ موجودہ صورتحال میں پنجاب سے تحریک انصاف کی متوقع موبلائزیشن کے حوالے سے انہیں وہ سرگرمی دکھائی نہیں دی جو ایک بڑے احتجاج کے لیے درکار ہوتی جبکہ خیبر پختونخوا کی جانب سے کارکنوں کی آمد کا امکان موجود تھا۔ ان کے مطابق حکومت کی جانب سے بڑے پیمانے پر تیاری اور پی ٹی آئی کو درپیش تنظیمی مشکلات نے احتجاج کے نتائج کے بارے میں غیر یقینی پیدا کی۔

منصور علی خان نے حکومت کی جانب سے قانونی اور انتظامی دباؤ کو بھی پی ٹی آئی کی حکمت عملی کے لیے اہم قرار دیا۔ ان کے مطابق حکومت نے اسلام آباد میں داخل ہونے کی صورت میں سخت قانونی کارروائی اور سزاؤں کا عندیہ دے کر کارکنوں پر دباؤ بڑھایا۔

انہوں نے کہا کہ اگر عمران خان کو اسپتال منتقل کرنے، ان کے علاج معالجے، ملاقاتوں یا بشریٰ بی بی سے متعلق بعض انتظامی معاملات میں کوئی پیشرفت ہوتی ہے تو یہ پی ٹی آئی کے لیے ممکنہ طور پر مذاکراتی پیشرفت کے طور پر پیش کی جاسکتی ہے۔

مزید پڑھیں: پی ٹی آئی احتجاج: اسلام آباد میں راستوں کی صورتحال کیا ہے؟

تاہم ان کے مطابق تحریک انصاف کے لیے اصل چیلنج یہ ہوگا کہ اگر مذاکرات ہوتے ہیں تو وہ اپنے کارکنوں کو کیا بتائے گی کہ احتجاج کے نتیجے میں کیا حاصل کیا گیا۔ ان کے بقول سیاسی جماعتوں کے لیے یہ مسئلہ ہمیشہ موجود رہتا ہے کہ مذاکرات کے بعد اپنے کارکنوں کو کوئی ٹھوس نتیجہ دکھایا جائے تاکہ یہ تاثر نہ بنے کہ احتجاج بغیر کسی حاصل کے ختم ہوگیا۔

منصور علی خان کے مطابق اگر تحریک انصاف کسی ایسی مفاہمت پر پہنچتی ہے جس میں اس کے بنیادی مطالبات پورے نہ ہوں تو اس سے پارٹی اور کارکنوں کے درمیان مایوسی پیدا ہوسکتی ہے۔ ان کے مطابق محض علامتی یا محدود اقدامات کو بڑی سیاسی کامیابی کے طور پر پیش کرنا بھی پارٹی کے لیے ایک چیلنج ہوگا۔

حکومت و پی ٹی آئی کو عارضی مہلت مل گئی، عمر چیمہ

سینیئر تجزیہ کار عمر چیمہ نے احتجاج مؤخر ہونے کی وجوہات بیان کرتے ہوئے تحریک انصاف کی موجودہ قیادت اور ماضی کے احتجاجی تجربات کے درمیان فرق کی نشاندہی کی۔

عمر چیمہ کے مطابق موجودہ صورتحال میں پی ٹی آئی کے پاس ماضی جیسی قیادت موجود نہیں ہے۔ ان کے مطابق 26 نومبر کے احتجاج کے وقت بشریٰ بی بی عملی طور پر احتجاج کی قیادت کررہی تھیں جبکہ علی امین گنڈاپور بھی احتجاجی سرگرمیوں میں اہم کردار ادا کررہے تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ موجودہ صورتحال میں بشریٰ بی بی جیل میں ہیں اور وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کو ماضی کے مقابلے میں احتجاجی قیادت کا کم تجربہ حاصل ہے۔

عمر چیمہ کے مطابق ماضی کے احتجاج میں بھی بعض مواقع پر ہجوم کو کنٹرول کرنے میں مشکلات سامنے آئی تھیں اس لیے موجودہ قیادت کے لیے بڑے احتجاج کو منظم انداز میں آگے بڑھانا ایک الگ چیلنج ہوسکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کو حالیہ دنوں میں گرفتاریوں کا بھی سامنا رہا ہے۔ خیبر پختونخوا میں مختلف مقامات پر کارروائیاں اور گرفتاریاں ہوئیں جبکہ پنجاب میں عمران خان کی بہنوں کی گرفتاری بھی اسی سیاسی کشیدگی کا حصہ بنی۔

عمر چیمہ کے مطابق اس پورے تناظر میں احتجاج میں تاخیر کو پارٹی کی عملی مشکلات کے ساتھ بھی جوڑ کر دیکھا جاسکتا ہے اور پی ٹی آئی کی جانب سے یہ بات سامنے آتی رہی ہے کہ اگر عمران خان کو کسی طرح پمز منتقل کیا جائے تو اس معاملے میں پارٹی کی پوزیشن مختلف ہوسکتی ہے۔

تجزیہ کاروں کی گفتگو سے یہ نکات سامنے آتے ہیں کہ احتجاج مؤخر ہونے سے تحریک انصاف کو اپنی تنظیمی تیاری، کارکنوں کی موبلائزیشن اور سیاسی رابطوں کے لیے مزید وقت مل سکتا ہے جبکہ حکومت کو بھی فوری تصادم سے عارضی مہلت ملتی ہے۔

تاہم حکومت کے لیے یہ مہلت مستقل ریلیف نہیں ہوگی کیونکہ اگر احتجاج صرف مؤخر کیا گیا ہے اور ختم نہیں ہوا تو سیکیورٹی اور انتظامی تیاریوں کا سوال دوبارہ سامنے آئے گا۔ دوسری جانب تحریک انصاف کو یہ فیصلہ بھی کرنا ہوگا کہ اضافی وقت کو کس طرح اپنی سیاسی حکمت عملی میں استعمال کرنا ہے اور کارکنوں کو کس مؤقف کے ساتھ دوبارہ متحرک کرنا ہے۔

مزید پڑھیں: اسلام آباد سومنات نہیں، پی ٹی آئی کی یہ آخری کوشش ہوگی، اس کے بعد رخ نہیں کرسکیں گے، خواجہ آصف

احتجاج مؤخر ہونے کے بعد آنے والے دنوں میں اصل توجہ 3 پہلوؤں پر رہے گی کہ تحریک انصاف اپنی تنظیم اور کارکنوں کو کس حد تک دوبارہ متحرک کرتی ہے، حکومت اپنی سیکیورٹی اور سیاسی حکمت عملی میں کیا تبدیلی لاتی ہے اور کیا دونوں فریق کسی مرحلے پر مذاکرات یا رابطوں کے ذریعے کشیدگی کم کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp