وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا میں اگر آئین کے تحت ایمرجنسی کے نفاذ کی ضرورت پیدا ہوئی اور اس کے لیے مقررہ آئینی شرائط پوری ہوئیں تو ایمرجنسی نافذ کی جائے گی۔
مزید پڑھیں: 27 ستمبر سے 4 اکتوبر تک: کیا پی ٹی آئی کا لانگ مارچ واقعی اسلام آباد پہنچ سکے گا؟
اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اعظم نذیر تارڑ نے کہاکہ ایمرجنسی کے نفاذ سے متعلق آئین میں طریقہ کار بالکل واضح ہے اور اس معاملے میں آئینی تقاضوں کو ہی مدنظر رکھا جائےگا۔
وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کا عندیہ دے دیا!
ایمرجنسی کے اطلاق پر آئین بہت واضح ہے، اگر ایسے حالات ہیں کہ آئین تقاضا کرے کہ خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی لگے تو بلکل لگنی چاہیے اور لگے گی بھی، اعظم نذیر تارڑ pic.twitter.com/HiRvj3YEpd
— Maryam Nawaz Khan (@maryamnawazkhan) September 28, 2026
خیبرپختونخوا میں گورنر راج سے متعلق سوال پر وفاقی وزیر قانون کا کہنا تھا کہ اگر حالات آئینی طور پر ایسے اقدام کا تقاضا کرتے ہیں تو پھر آئین میں موجود طریقہ کار کے مطابق کارروائی کی جائےگی۔
اعظم نذیر تارڑ نے واضح کیاکہ آئین میں اس حوالے سے مکمل میکنزم موجود ہے، جب بھی آئینی حالات اور تقاضے اس کا مطالبہ کریں گے تو اسی طریقہ کار کے تحت ضروری اقدامات کیے جائیں گے۔
واضح رہے کہ پی ٹی آئی نے 27 ستمبر کو اسلام آباد کی جانب مارچ کی کال دی تھی، جسے اب 4 اکتوبر تک کے لیے مؤخر کیا گیا ہے۔
مزید پڑھیں: پی ٹی آئی کا 27 ستمبر کا لانگ مارچ ’کھودا پہاڑ نکلا چوہا‘ کے مترادف ثابت ہوا، وزیر اطلاعات عطااللہ تارڑ
دوسری جانب حکومت کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف کو کسی صورت اسلام آباد پر چڑھائی کی اجازت نہیں دی جائےگی۔














